دنیا ایک بار پھر سفارتی، تجارتی اور عسکری صف بندیوں کے ایک نئے موڑ پر کھڑی ہے۔ سرد جنگ کے بعد ابھرتا ہوا نیا عالمی نظام نہ صرف بڑی طاقتوں کو نئی صف بندی پر مجبور کر رہا ہے بلکہ برصغیر اور وسطی ایشیا جیسے خطے بھی اس نئی شطرنج کے اہم مہرے بن چکے ہیں۔
امریکہ، چین، روس، بھارت، پاکستان، ایران اور وسطی ایشیائی ریاستیں کس طرح ایک نئی عالمی ترتیب میں اپنی جگہ بنا رہی ہیں، اور اس کے کیا اثرات سامنے آ رہے ہیں اس امر کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
بھارت اور امریکہ کے درمیان گزشتہ دہائی میں اسٹریٹیجک تعلقات بارے غیر معمولی حد تک وسعت دکھائی پڑتی ہے۔ 2023 میں دونوں ممالک نے ICET معاہدہ (Initiative on Critical and Emerging Technologies) پر دستخط کیے، جس کا مقصد مصنوعی ذہانت، کوانٹم کمپیوٹنگ اور ڈیفنس ٹیکنالوجی میں تعاون کو فروغ دینا تھا۔
بھارت نے امریکہ سے اب تک 20 ارب ڈالر سے زائد کے جدید دفاعی آلات خریدے ہیں، جن میں Apache ہیلی کاپٹر، MQ-9B ڈرونز اور سمندری نگرانی کے طیارے شامل ہیں۔
ماہرین اس بارے کچھ یوں آراء پیش کرتے ہیں۔ Ashley Tellis کے مطابق، “امریکہ اور بھارت ، چین کے اثر کو روکنے کے لیے ایک اہم شراکت داری رکھتے ہیں۔
جبکہ Michael Kugelman کہتے ہیں، “بھارت مغرب کے قریب ضرور ہے، لیکن وہ خود کو کسی عسکری اتحاد میں باندھنے کے لیے تیار نہیں۔
حالیہ ایران اسرائیل جنگ اور پاک بھارت جنگ کے منظر نامے سے اگر دھول ہٹا کر دیکھی جائے تو کچھ یوں نظر آتا ہے کہ ٹرمپ حکومت سے مودی حکومت نالاں ہے، یورپی یونین اور برکس ممالک کا رویہ بھی بھارت کے ساتھ بدلا ہوا ہے۔ اس بدلی ہوئی ہوا میں وسطی ایشیائی ممالک طاقت کا ایک نیا رخ دیکھ رہے ہیں۔ بھارت اس بار نا چاہتے ہوئے بھی اس جنگ کا حصہ بن کر رہ گیا جس کا حصہ وہ کبھی نہیں بننا چاہتا تھا۔ایران اسرائیل جنگ میں بھارتی ایوانوں اور میڈیا چینلز پر جس قدر اسرائیل کی حمایت میں قصیدے پڑھے گئے اس کے بعد دنیا خاص طور پر عرب دنیا یہ سمجھ چکی ہے کہ بھارت کی پالیسیاں کسی کے ساتھ بھی مخلصانہ نہیں بلکہ مفاد تک محدود ہیں۔ 2023 میں ہونے والے سٹریٹیجک معاہدوں کے بعد بھارت ایشیا میں طاقت کا منبع قرار دیا جانے لگا تھا جس کے باعث مختلف ممالک نے اربوں ڈالرز کے اقتصادی معاہدے کر ڈالے تھے۔ لیکن آج 2025 میں صرف دو سال بعد یہ منظر نامہ بدل چکا ہے۔
چین اور پاکستان کا رشتہ محض اقتصادی تعاون تک محدود نہیں رہا، بلکہ اب یہ ایک جامع تزویراتی (strategic) شراکت داری میں تبدیل ہو چکا ہے۔ چین-پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کی لاگت اب 62 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے۔ جو آغاز میں 46 ارب ڈالر تھی ۔ 2023 میں چین نے پاکستان کو جدید J-10C لڑاکا طیارے فراہم کیے، جبکہ انفراسٹرکچر، توانائی اور ڈیجیٹل شعبوں میں سرمایہ کاری میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ Andrew Small کہتے ہیں، “چین پاکستان کو محض ایک تجارتی راہداری نہیں، بلکہ بھارت کے خلاف اسٹریٹیجک بیلنس کے طور پر دیکھتا ہے۔ حالیہ منظر نامے میں چین نے ایران اور پاکستان کی جو سفارتی و اخلاقی مدد کی ہے اس سے صاف واضح ہوتا ہے کہ چین اب مزید امریکی بالادستی کو تسلیم نہیں کرنا چاہتا۔ لیکن پاکستان چین اور امریکہ سمیت دیگر عالمی طاقتوں کے ساتھ متوازن تعلقات استوار رکھتے ہوئے قومی مفاد کو ترجیح دیتا ہے۔ اس میں کوئی دورائے نہیں کہ بھارت ایشیا میں سب سے بڑی منڈی ہے اور چین سب سے بڑا مصنوعات کا تخلیق کار ، مگر اب بھارت کی حیثیت اس عالمی منظر نامے میں وہ اہمیت کھو چکی ہے جس کی بنیاد پر امریکہ ایشیائی ملکوں کو آنکھیں دکھاتا تھا۔ بھارت کی جانب سے چاہ بہار بندرگاہ پر کی جانے والی کروڑوں ڈالر انویسٹمنٹ بھی غارت چلی گئی ہے۔
روس-چین-ایران کا بڑھتا ہوا تعاون مغربی اتحاد کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج بنتا جا رہا ہے۔ 2022 تا 2024، ان تینوں ممالک نے مل کر بحری مشقیں کیں، اور شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے تحت ایران کو مستقل رکن بنا دیا گیا۔
روس وسطی ایشیا میں توانائی اور سلامتی کے میدان میں اب بھی نمایاں کردار رکھتا ہے، جبکہ چین وہاں اقتصادی سرمایہ کاری سے اپنا اثر بڑھا رہا ہے۔ Henry Kissinger نے کہا تھا، “روس، چین اور ایران کا گٹھ جوڑ اگر توازن میں نہ رکھا گیا تو یہ یوریشیا میں طاقت کا رخ موڑ سکتا ہے۔ اگر دیکھا جائے تو مغرب اب اس گٹھ جوڑ پر سے کنٹرول کھو چکا ہے۔ یوں تو پاکستان خود کو عالمی سیاست میں متوازن کردار کے ساتھ آگے بڑھنے کی کوشش کر رہا ہے وہیں دہشتگردی اور افغان جنگ میں امریکہ سے امڈادی رقوم کے حصول کے علاوہ حالیہ برسوں میں چین اور روس کی طرف مائل ہوا ہے، خاص طور پر جب مغرب نے بعض پالیسیوں پر نکتہ چینی کی۔ 2023 میں پاکستان نے روس سے رعایتی قیمت پر خام تیل خریدا، اور سعودی عرب، UAE نے پاکستان میں 25 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا وعدہ کیا۔ یہ جھکاؤ محض متبادل تلاش کرنے کی کوشش تھی یا ایک نئی “مشرقی صف بندی” کا آغاز۔ اس سوال کا جواب محض دو سالوں میں دنیا کو مل گیا جب دنیا نے عالمی سیاست میں نئے گٹھ جوڑ اور صف بندیاں دیکھیں۔ تاہم امریکہ اپنی ساکھ بچانے کیلئے تگ و دو میں مصروف ہے مگر ایسا لگتا ہے کہ امریکہ کی یہ کوششیں عارضی فائدہ تک محدود رہیں گی۔ Cyril Almeida کے مطابق، “پاکستان اب ایک متوازی سفارتی راستہ تلاش کر رہا ہے تاکہ مغرب پر انحصار کم کیا جا سکے۔وسطی ایشیائی ریاستیں (قزاقستان، ازبکستان، ترکمانستان، آذربائجان وغیرہ) اب محض روس کے تابع نہیں رہیں، بلکہ وہ چین، ترکیہ اور یورپی یونین کے ساتھ بھی خودمختار تعلقات بڑھا رہی ہیں۔ چین کا C5+1 فورم اور امریکہ کا C5+1 ایک دوسرے کے متوازی کام کر رہے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وسطی ایشیا سفارتی کھینچا تانی کا نیا میدان بن چکا ہے۔
سرد جنگ کے بعد “Unipolar world” (امریکہ کی یکطرفہ برتری) کا خواب اب ٹوٹ چکا ہے۔ دنیا اب ایک “Multipolar” یعنی کثیر قطبی عالمی نظام کی طرف بڑھ رہی ہے، جہاں مختلف خطے اور طاقتیں اپنی الگ سفارتی صف بندیوں کے ذریعے نئے توازن پیدا کر رہی ہیں۔ بھارت مغرب کا اہم حلیف ہے مگر وہ بھی خودمختاری چاہتا ہے۔
پاکستان چین و روس کے قریب، مگر مالیاتی اداروں ورلڈ بنک، آئی ایم ایف سے رابطہ برقرار رکھے ہوئے ہے اور اپنی زیادہ تر معیشت کا انحصار انہی اداروں سے حاصل کئے جانے والے قرضوں پر رکھتا ہے۔ وسطی ایشیائی ممالک روسی اثر سے نکل کر چین و مغرب کی طرف متوجہ ہوئے ہیں۔ اور اقتصادی معاملات میں خود مختار بن کر ابھر رہے ہیں۔ یہ تمام حقائق اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ “نئی صف بندیوں کا دور” اب مکمل طور پر شروع ہو چکا ہے، اور آئندہ چند برسوں میں ان تعلقات کے اثرات عالمی معیشت، دفاع، اور سفارتکاری پر گہرے پڑیں گے۔