بھارت میں منعقد ہونے والی پانچ روزہ مصنوعی ذہانت کانفرنس کے پہلے ہی روز انتظامی بدنظمی اور افراتفری کی شکایات سامنے آ ئی ہیں۔ دارالحکومت دہلی میں ہونے والی اس عالمی کانفرنس میں شریک مندوبین نے طویل قطاروں، ہجوم اور ناقص انتظامات پر شدید تحفظات کا اظہار کیاہے۔
اس کانفرنس کا افتتاح وزیرِاعظم نریندر مودی نے پیر کے روز کیا۔ حکومت اسے عالمی جنوب میں منعقد ہونے والی مصنوعی ذہانت سے متعلق پہلی بڑی بین الاقوامی بیٹھک قرار دے رہی ہے۔ تقریب میں دنیا کے سو سے زائد ممالک کے نمائندے شریک ہیں، جبکہ ٹیکنالوجی شعبے کی معروف شخصیات کی شرکت بھی متوقع ہے۔
تاہم افتتاحی روز کانفرنس کے مقام بھارت منڈپم میں بدنظمی کی متعدد شکایات سامنے آئیں۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ انہیں سیکیورٹی جانچ اور آخری وقت میں داخلی دروازے بند کیے جانے کے باعث کئی گھنٹے انتظار کرنا پڑا۔ بعض نمائش کنندگان نے بتایا کہ وزیرِاعظم کی آمد سے قبل مکمل انخلا کرایا گیا، جس سے ان کے سیشن متاثر ہوئے۔
کچھ شرکاء نے الزام لگایا کہ ان کے اسٹالز سے مصنوعات چوری ہو گئیں۔ ایک مصنوعی ذہانت کمپنی کے بانی نے کہا کہ انہوں نے سفر، رہائش اور نمائش کے لیے خطیر رقم خرچ کی، مگر اعلیٰ سیکیورٹی والے علاقے میں بھی ان کی مصنوعات محفوظ نہ رہ سکیں۔
کھانے پینے کے انتظامات پر بھی تنقید سامنے آئی ہے۔ کئی مندوبین نے شکایت کی کہ اندر موجود اسٹالز پر صرف نقد ادائیگی قبول کی جا رہی تھی اور ڈیجیٹل ادائیگی کا نظام موجود نہیں تھا، جس سے خاص طور پر غیر ملکی مہمانوں کو مشکلات پیش آئیں۔
بعض سیشنز ہجوم کے باعث بند کر دیے گئے، جس سے متعدد مندوبین مباحثوں میں شرکت نہ کر سکے۔ شرکاء نے کہا کہ اگرچہ کچھ نشستیں مفید اور معلوماتی تھیں، مگر انتظامی خامیوں نے کانفرنس کے اصل مقصد کو متاثر کیا۔
افتتاحی خطاب میں وزیرِاعظم مودی نے کہا کہ یہ کانفرنس مصنوعی ذہانت، بھارتی صلاحیتوں اور اختراعات کے غیر معمولی امکانات کو ظاہر کرتی ہے، اور بھارت نہ صرف اپنے لیے بلکہ دنیا کے لیے حل تلاش کرنے کا خواہاں ہے۔
بھارتی وزیر اشونی ویشنو نے منگل کو پریس کانفرنس میں نمائش کنندگان کو پیش آنے والی مشکلات پر معذرت کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مسائل کے فوری حل کے لیے ایک خصوصی کنٹرول روم قائم کر دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق تقریباً ستر ہزار افراد کانفرنس میں شریک ہوئے اور منتظمین تمام آراء اور تجاویز کا خیرمقدم کر رہے ہیں تاکہ باقی دنوں میں انتظامات کو بہتر بنایا جا سکے۔