ایک نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ امرود کے پتے اور پودے کی چھال میں انسداد سوزش، اینٹی بیکٹیریل اور اینٹی کینسر خصوصیات پائی جاتی ہیں۔
یونیورسٹی آف ڈیلاویئر کے ایسوسی ایٹ پروفیسر، ولیم چین، کی تحقیق میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ امرود میں موجود ایک خاص مالیکیول جگر کے کینسر سے لڑنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
کینسر ریسرچ یو کے کے مطابق، برطانیہ میں ہر سال تقریباً 6600 نئے جگر کے کینسر کے کیسز سامنے آتے ہیں، اور یہ تعداد 2040 تک بڑھ کر 9700 تک پہنچ سکتی ہے۔ جگر کے کینسر کی تشخیص کے بعد، صرف 8 فیصد مریض ہی 10 یا اس سے زیادہ برسوں تک زندہ رہ پاتے ہیں۔
این ایچ ایس کے مطابق جگر کے کینسر کی علامات میں یرقان، جِلد پر خارش، بھوک کا نہ لگنا، نزلے جیسی علامات اور پیٹ میں دائیں جانب گٹھلی کا بننا شامل ہیں۔
فی الحال جگر کے کینسر کا علاج سرجری، کیموتھراپی اور مختلف تھرمل طریقوں سے کیا جا رہا ہے، لیکن ان طریقوں کا انحصار کینسر کی نوعیت اور سائز پر ہوتا ہے۔
تاہم، اس نئی دریافت کے مطابق امرود میں موجود مالیکیول کینسر کے علاج میں انقلاب لا سکتا ہے، جو نہ صرف مؤثر ہو گا بلکہ سستا بھی ہو سکتا ہے۔ یہ دریافت کینسر کے علاج کے میدان میں ایک نیا راستہ کھول سکتی ہے۔