پاکستان میں قدرتی آفات یا انسانی غفلت؟

قدرتی یا خود ساختہ آفات اس وقت پاکستان کے لئے سب سے بڑا سوالیہ نشان بن چکی ہیں، ایک دور تھا جب چار موسم اپنی مکمل رعنائیوں کے ساتھ محسوس کیے جاتے تھے، موسمِ برسات زندگی میں طراوت بھرتا تھا، خزاں اور بہار ایک مخصوص وقت تک اپنی موجودگی کا احساس دلاتے تھے، سردیاں برفباری سے بھرپور ہوتی تھیں، مگر آج انسانی سرگرمیوں نے اس قدرتی توازن کو بگاڑ دیا ہے، موسم گرما طویل اور شدید ہو گیا ہے، خزاں اور بہار چند دنوں کی مہمان ہیں، سردیاں خشک اور کم دورانیے کی رہ گئی ہیں، برفباری کے انتظار میں پہاڑ خالی نظر آتے ہیں، تتلیوں اور پرندوں کی آمد ماضی کی کہانی بن چکی ہے، ماحولیاتی آلودگی نے گلیشیئرز کو پگھلا دیا ہے، دریاؤں میں طغیانی معمول بنتی جا رہی ہے، بادل پھٹنے اور اچانک آنے والے سیلاب عام ہو چکے ہیں، خیبرپختونخوا میں حالیہ کلاؤڈ برسٹ نے تباہی مچا دی ہے، بونیر کا پورا گاؤں صفحہ ہستی سے مٹ گیا، لوگ سیلابی ریلوں میں بہہ گئے، لاشیں پتھروں تلے دب گئیں، سوگوار خاندانوں کے دکھ کو الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے، یہ سب ایک ایسے عمل کا حصہ ہے جسے ہم قدرتی کہتے ہیں مگر حقیقت میں اس کی جڑیں انسانی غفلت اور ماحولیاتی تباہ کاریوں سے جڑی ہیں۔

کلاؤڈ برسٹ ایک قدرتی مظہر ہے جس میں بارش برسانے والا بادل اپنے گھنٹوں کا پانی چند منٹوں میں گرا دیتا ہے، محکمہ موسمیات کے مطابق اگر تیس مربع کلومیٹر کے علاقے میں ایک گھنٹے کے دوران سو ملی میٹر یا اس سے زیادہ بارش ہو تو یہ کلاؤڈ برسٹ کہلاتا ہے، ایسی بارش لمحوں میں سیلابی صورتحال پیدا کر دیتی ہے، اس میں براہ راست حکومتی لاپروائی شامل نہ بھی ہو تو بھی مجموعی ماحولیاتی بگاڑ کے ہم سب ذمہ دار ہیں، ہماری غیر دانشمندانہ پالیسیوں اور جنگلات کی کٹائی نے موسم کو بگاڑا ہے، پہاڑ سٹون کرشنگ کی نظر ہو گئے ہیں، دریاؤں کے کنارے پر رہائشی بستیاں بنا دی گئی ہیں، نتیجہ یہ ہے کہ قدرت کا انتقام انسان کو برباد کر رہا ہے۔

پاکستان میں 2010ء اور 2022ء کے تباہ کن سیلاب آج بھی زندہ مثال ہیں، مگر اس کے باوجود ہمارے ہاں کوئی ایسا قومی ادارہ موجود نہیں جو ایمرجنسی کی صورت میں فوری ایکشن لے، پہاڑی علاقوں میں موبائل سگنل اور انٹرنیٹ کی عدم دستیابی ریسکیو آپریشن کو مزید مشکل بنا دیتی ہے، لوگ اپنی جانیں قدرت کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتے ہیں، عالمی منظرنامے میں پاکستان کاربن کے اخراج میں محض ایک فیصد کا حصہ دار ہے، لیکن موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثر ہونے والے ممالک میں سرفہرست ہے، یہ عالمی برادری کے سامنے ایک بڑا سوال ہے کہ جنہوں نے زمین کو آلودگی سے بھرا وہ محفوظ ہیں اور جن کا کردار نہ ہونے کے برابر ہے وہ بربادی کا سامنا کر رہے ہیں۔

اب معاملہ صرف موسمیاتی تبدیلیوں تک محدود نہیں، ملک میں ہر ماہ زلزلے آ رہے ہیں، شدت اور تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے مگر اس پر تحقیق اور حکومتی توجہ نہ ہونے کے برابر ہے، اربن فلڈنگ نے بڑے شہروں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، ناقص منصوبہ بندی، کرپشن اور غیر قانونی تعمیرات نے لاہور، کراچی، اسلام آباد اور راولپنڈی کو بارش کے چند قطروں سے مفلوج کر دیا ہے، انڈر پاس تالاب بن جاتے ہیں، ندی نالے کچرے سے اٹ جاتے ہیں، نکاسیِ آب کا نظام غیر مؤثر ہے، یہ سب انتظامی غفلت اور مجرمانہ لاپروائی کی نشانی ہے۔

حل کیا ہے؟ سب سے پہلے محکمہ موسمیات کی پیشگوئیوں کو بروقت عوام تک پہنچانا ہوگا، ضلعی انتظامیہ، ریسکیو ادارے، میڈیا اور سوشل میڈیا کو مربوط کرنا ہوگا، بارشوں سے قبل نکاسیِ آب کے نظام کو فعال کیا جائے، ندی نالوں کے کنارے بسنے والوں کو متبادل رہائش فراہم کی جائے، فائر بریگیڈ اور سینی ٹیشن کے اداروں کو تیار رکھا جائے، ریسکیو 1122 کو جدید مشینری دی جائے اور اس کا دائرہ پورے ملک تک پھیلایا جائے، شدید بارش کے دوران سیاحتی مقامات کو بند کر دینا چاہیے تاکہ انسانی جانوں کا ضیاع نہ ہو، طویل المدتی پالیسی میں درخت لگانا، سٹون کرشنگ پر پابندی، کچرے کو ندی نالوں سے ہٹانا اور بارش کے پانی کو چھوٹے ڈیموں میں ذخیرہ کرنا بنیادی اقدامات ہونے چاہئیں، یہ پانی سیلاب کی بجائے نعمت بن سکتا ہے، ورنہ یہی پانی ڈینگی، ملیریا اور ہیضے جیسی وباؤں کا ذریعہ بن جائے گا، شہروں میں سبزہ زار اور پارکس زیادہ بنانے ہوں گے تاکہ زمین پانی جذب کر سکے۔

اگر ماضی میں واٹر اسٹوریج منصوبے بنائے جاتے تو آج یہ پانی ہمارے شہروں کو ڈبونے کی بجائے ہماری زراعت اور صنعت کا سہارا بنتا، ارضیاتی اور موسمیاتی تبدیلیوں پر ایک جدید مانیٹرنگ سسٹم قائم کرنا ہوگا جو بروقت عوام اور حکومت کو خبردار کرے، بین الاقوامی معیار کی پالیسی کے بغیر ہم نہ قدرتی آفات کا مقابلہ کر سکیں گے اور نہ ہی انسانی پیدا کردہ مسائل پر قابو پا سکیں گے، بصورت دیگر آنے والا وقت پاکستان کے لیے مزید تباہ کن ثابت ہوگا۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں