نیشنل کمیٹی ڈائیلاگ اور آج کا نوجوان

ماشاءاللہ حالیہ نیشنل کمیٹی ڈائیلاگ کے چند اہم راہنماوں و صحافیوں کی گفتگو اتفاقیہ طور پر چند نوجوانوں کے ہمراہ اک بیٹھک میں بیٹھ کر سننے کا موقع ملا۔ تمام مقررین نے بہت عمدہ گفتگو کی، بڑی دانشمندانہ تقاریر تھیں، ہر مقرر کو سیاست کی فکر ستائے دے رہی تھی۔ جماعت سے وابستگی کی وجہ سے مجھے جناب لیاقت بلوچ صاحب کی گفتگو نے ہی سب سے زیادہ متاثر کرنا تھا اور الحمدللہ کیا بھی۔

انکی گفتگو اس طرح ہی تھی جیسے گھر کے ایک بڑے بزرگ کی ہوتی ہے۔ جو ہر ایک پہلو کا خیال رکھتے ہوئے گھر کے اتھرے پتر کو کچھ کہے بغیر بہت کچھ کہہ جاتا ہے مگر سمجھاتا تابعدار افراد کو ہی ہے کہ آپ مان جاو مزید فرما بردار بن جاو تا کہ گھر کا شیرازہ بکھر نہ جائے۔ بوڑھے باپ کی پریشانیوں میں اضافہ کرنے سے باز آ جاو۔ حالانکہ ان فرما برداروں کا کوئی قصور نہیں ہوتا۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے اسکول دفاتر یا کسی بھی جگہ حاضری کی افادیت وقت کی پابندی کے بھاشن صرف انہیں ہی سننے پڑتے ہیں جن کو ان کی ضرورت نہیں ہوتی۔ جو ہمیشہ بروقت و باقاعدہ ہوتے ہیں۔
البتہ جو غیر حاضر ہوتے ہیں یا لیٹ ہوتے ہیں یعنی جن کو ان مفید لیکچرز، گفتگو و تقاریر و تنمبیہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ جن کیلئے ذمہ داران و بزرگ دانشور گلے پھاڑ پھاڑ کر نہ صرف لمبی چوڑی تمہیدیں باندھ کر گفتگو کر رہے ہوتے ہیں۔ بلکہ ڈانٹ ڈپٹ اور سخت سزاوں کا الارم بھی بجا رہے ہوتے ہیں۔ وہ تو اس دوران بھی غیر حاضر ہی ہوتے ہیں۔

اس پر اک سیانے کا کیا خوبصورت تبصرہ ہے کہ دراصل جو ڈرا سہما ہو اسے ہی مزید ڈرایا جاتا ہے تا کہ وہ مزید فرمانبردار رہے۔ جو بچہ گھر اجاڑ رہا ہوتا ہے، نافرمان ہوتا ہے، منہ پھٹ ہوتا ہے۔ اس سے سب دانشور و بزرگ بھی ڈرتے ہیں کہ کہیں برسرعام ان کی بزرگی و دانشمندی کو بھی داغدار نہ کر جائے۔
بہرحال ملک کے ان بڑوں، بزرگوں، دانشوروں کی اس دانشمندانہ گفتگو کو آج کا یہ نوجوان کس طرح لے رہا تھا ان کے تبصرے من و عن ملاحظہ فرمائیں۔
یہ سب سیاسی ٹھگ ہیں۔یہ لوگ اس وقت کہاں تھے، جب رجیم چینج ہو رہا تھا۔
یہ لوگ اس وقت کہاں تھے جب آئینی تقاضوں کو پورا کرنے کیلئے بروقت الیکشن نہ ہوئے۔ جب ہمارے ووٹوں پر ڈاکہ مارا گیا۔ سیاست سیاست کی رٹ لگا رہے ہیں۔ ان کی سیاست سے ہم ایسے ہی اچھے ہیں۔ ان کو اگر سیاست کی اتنی ہی فکر ہے تو ان کا واحد ایجنڈا یہ ہونا چاہیے تھا کہ جن کو عوام نے چنا ہے ان کو اقتدار دیا جائے۔ جنہوں نے آئین توڑا ہے انہیں سزا دی جائے۔

1971 میں بھی عوام کی رائے کو نہ مانا گیا اب بھی عوام کی رائے کو پاوں تلے مسل دیا گیا۔ یہ کمپرومائزڈ لوگ ہیں، انہوں نے ملک کا بیڑا غرق کیا ہے۔ یہ کھی عوام کا نہیں سوچتے۔ اتنے نوجوان بیروزگار ہیں انہوں نے ان کا کبھی سوچا ہے، کالجز یونیورسٹی کی طوفان کی طرح بڑھتی ہوئی فیسوں کا کھی انہوں نے سوچا؟
صحت کارڈ بند ہوا انہوں نے سوچا۔ چالیس چالیس دفاتر سے ڈگریاں اٹیسٹ کروانے والے نوجوانوں کا کبھی انہوں نے سوچا۔ قرضے لے کر باہر جانے کیلئے ویزہ ٹکٹ سب کچھ حاصل کر لیں تو بھی آف لوڈ ہو جاتے ہیں کبھی انہوں نے سوچا۔ آج تک ڈومیسائل سے تو یہ ہماری جان چھڑا نہیں سکے انہوں نے ہمارا کیا کرنا ہے۔

کوئی کام رشوت دیے بغیر وطن عزیز میں ہوتا نہیں۔ عوام کے ٹیکسوں پر پلنے والے اپنے آپ کو فرعون سمجھتے ہیں۔ عوام کے سہولت کار بننے کی بجائے ان کے آقا بنے بیٹھے ہیں۔ کبھی سوچا کسی نے۔
ان سیاست کے دانشمندوں کا واحد ایجنڈا تو صرف یہ ہونا چاہیے کہ اگر ہمارا ملک جمہوری ملک ہے، تو صاف شفاف الیکشن کا آڈٹ ہو اور جس کا ووٹ ہے اس کی حکومت ہو۔ لیکن یہ دانشور اسی وقت میدان میں آتے ہیں جب ان بڑوں کے بڑے پریشان ہوں۔
یہ سب گفتگو سن کر مجھے تو لگا کہ جہاں ہماری نسل کمپرومائزڈ نسل ہے، وہاں موجودہ نسل مکمل طور پر نان کمپرومائزڈ نسل ہے۔ اسے کمپرومائزڈ بنانے کی جستجو بے کار ہے، یہ دو جمع دو چار کی بات مانے گی، اس کے اندر ہی اندر لاوہ پک رہا ہے، اس سے پہلے کہ یہ پھٹ پڑے بڑوں کو اپنی دانش کو پس پشت ڈال کر ان کو آگے بڑھنے کا راستہ دے دینا چاہیے، اسی میں وطن عزیز کی عافیت ہے اور بزرگی کا کچھ بھرم قائم رہ سکتا ہے

Author

اپنا تبصرہ لکھیں