مریخ پر قدیم دریا کے ڈیلٹا کے آثار دریافت ، ناسا کی اہم پیش رفت

امریکی خلائی ادارہ ناسا کی ایک نئی تحقیق میں مریخ کے بارے میں نہایت اہم انکشاف سامنے آیا ہے۔ ناسا کے بھیجے گئے خلائی روبوٹ پرسیورینس نے مریخ کی سطح کے نیچے ایک قدیم دریا کے ڈیلٹا کے آثار دریافت کیے ہیں، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ماضی میں اس سیارے پر پانی بہتا تھا۔

یہ دریافت مریخ کے شمالی علاقے جیزرو کریٹر میں کی گئی، جہاں ماہرین کے مطابق کبھی ایک بڑی جھیل موجود تھی۔ روبوٹ نے ایک وسیع علاقے کا جائزہ لیتے ہوئے زمین کے اندر گہرائی تک موجود ساختوں کا سراغ لگایا۔ ان ساختوں میں تہہ دار مٹی اور کٹاؤ کے واضح آثار ملے ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ وہاں کبھی دریا بہتا تھا اور جا کر کسی جھیل میں گرتا تھا۔

سائنسدانوں کے اندازوں کے مطابق یہ ڈیلٹا تقریباً چار ارب سال پرانا ہے اور مریخ کی ابتدائی تاریخ سے تعلق رکھتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دریافت اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ پانی کو زندگی کے لیے بنیادی عنصر سمجھا جاتا ہے۔ اگر کسی جگہ پانی موجود رہا ہو تو وہاں زندگی کے آثار ملنے کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔

تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ماضی میں مریخ کا ماحول آج کے مقابلے میں زیادہ گرم اور گھنا تھا، جو مائع پانی کے لیے سازگار تھا۔ ایک سیاروی سائنسدان کے مطابق جیزرو کریٹر کبھی پانی سے بھرپور ماحول رکھتا تھا، جہاں زندگی کے آثار محفوظ رہنے کے امکانات موجود ہو سکتے ہیں۔

یاد رہے کہ اس سے پہلے بھی اسی روبوٹ کی جانب سے ایک پتھر کے نمونے میں ممکنہ حیاتیاتی آثار کی نشاندہی کی گئی تھی، تاہم اس کی حتمی تصدیق ابھی باقی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مریخ کی تاریخ ایک پیچیدہ پہیلی کی طرح ہے اور ہر نئی تحقیق ہمیں اس کے ماضی کو سمجھنے کے مزید قریب لے آتی ہے۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں