امریکی ریاست جنوبی کیرولینا سے تعلق رکھنے والی ریپبلکن رکن کانگریس میس نے الزام عائد کیا ہے کہ محکمہ انصاف اب بھی سزا یافتہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین سے متعلق تفتیشی ریکارڈ کا بڑا حصہ منظرعام پر نہیں لا رہا اور ’’ٹیرا بائٹس‘‘ پر مشتمل ڈیٹا روکے ہوا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایپسٹین کا معاملہ صرف جسم فروشی یا انسانی اسمگلنگ تک محدود نہیں تھا بلکہ اس میں ممکنہ طور پر مالی جرائم بھی شامل ہو سکتے ہیں۔
نیوز نیشن کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ ایک عام سیکس ٹریفکنگ رنگ سے کہیں بڑا ہے اور اس میں پونزی اسکیم جیسے مالی فراڈ یا بعض وفاقی اداروں سے تعلقات کے پہلو بھی شامل ہو سکتے ہیں۔ ان کے بقول، ’’میرا خیال ہے یہ معاملہ حد سے بڑھ چکا ہے۔ شاید ہماری حکومت اس کی مکمل تحقیقات نہیں کرنا چاہتی تھی۔‘‘ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ممکن ہے ایپسٹین کسی انٹیلی جنس ادارے سے منسلک رہا ہو، کیونکہ ان کے مطابق اس کیس کو اس طرح دبایا جانا بغیر کسی بڑے سبب کے ممکن نہیں۔
نینسی میس اُن چار ریپبلکن ارکان میں شامل ہیں جنہوں نے ایپسٹین فائلز کو جاری کرانے کے لیے ایک ڈسچارج پٹیشن پر دستخط کیے تاکہ ایوانِ نمائندگان ریکارڈ منظرعام پر لائے۔ وہ کئی ماہ سے وفاقی حکومت پر زور دے رہی ہیں کہ اس معاملے میں مکمل شفافیت اختیار کی جائے۔ انہوں نے محکمہ انصاف کی جانب سے ’’ایپسٹین فائلز ٹرانسپیرنسی ایکٹ‘‘ کے تحت جاری کی گئی دستاویزات پر بھی تنقید کی اور کہا کہ ان میں اہم معلومات کو سیاہ کر کے چھپا دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا، ’’میں سب سے پہلے یہ کہوں گی کہ محکمہ انصاف نے تمام فائلیں جاری نہیں کیں۔ ہم ٹیرا بائٹس ڈیٹا کی بات کر رہے ہیں، شاید لاکھوں مزید فائلیں موجود ہیں۔ معلومات چھپائی جا رہی ہیں اور اگر تحقیقات ختم ہو چکی ہیں تو استحقاق کا بہانہ نہیں بنایا جا سکتا۔‘‘
اسی سلسلے میں انہوں نے اس ماہ کے آغاز پر نیویارک کے جنوبی ضلع کو ایک خط بھی لکھا جس میں 2019 کی ایک یادداشت کا غیر ترمیم شدہ نسخہ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا، جس میں ایپسٹین کے ممکنہ ساتھیوں سے متعلق معلومات ہونے کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔
میس نے سی آئی اے سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایپسٹین اور اس کی ساتھی میکسویل سے متعلق تمام ریکارڈ ظاہر کرے۔ انہوں نے 2011 میں ایپسٹین کے وکلا کی جانب سے دائر کی گئی فریڈم آف انفارمیشن ایکٹ درخواست کا حوالہ دیا، جس میں ایجنسی سے ممکنہ وابستگی کے شواہد طلب کیے گئے تھے۔ سی آئی اے نے اس وقت جواب میں نہ تو ریکارڈ کی موجودگی کی تصدیق کی اور نہ تردید، یہ کہہ کر کہ معلومات خفیہ ہیں۔
میس نے کہا کہ ایپسٹین کے ممکنہ سی آئی اے روابط سنجیدہ سوالات کو جنم دیتے ہیں جن کے سنجیدہ جواب ضروری ہیں۔ ان کے مطابق ایپسٹین کے جرائم کا شکار ہونے والوں اور امریکی عوام کو یہ جاننے کا حق ہے کہ آیا کسی سرکاری ادارے کا اس سے کوئی تعلق تھا یا نہیں۔
واضح رہے کہ نینسی میس خود بھی جنسی زیادتی کا شکار رہ چکی ہیں اور وہ ایپسٹین کے متاثرین کے لیے انصاف کی ایک نمایاں آواز سمجھی جاتی ہیں۔ گزشتہ سال وہ ایوان کی ایک کمیٹی اجلاس کے بعد متاثرین سے ملاقات کے دوران آبدیدہ بھی دکھائی دی تھیں۔ انہوں نے برطانیہ کے شہزادہ اینڈریو، جنہیں اب اینڈریو ماؤنٹ بیٹن ونڈسر کہا جاتا ہے، کے خلاف بھی کارروائی کا مطالبہ کیا تھا کیونکہ ان کا نام ایپسٹین سے تعلق کے حوالے سے سامنے آیا تھا۔
میس نے اپنے بیان میں کہا، ’’ہم خاموش نہیں رہیں گے۔ ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’ہم اُس وقت تک نہیں رکیں گے جب تک ہر شریکِ جرم، ہر سہولت کار اور ہر بااثر شخصیت کو قانون کے کٹہرے میں نہیں لایا جاتا۔ کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں۔‘‘