ملائیشیا کے سابق وزیر اعظم نجیب رزاق ایک اور کرپشن کیس میں مجرم قرار

ملائیشیا کے سابق وزیراعظم نجیب رزاق کو جمعے کے روز بدعنوانی کے ایک بڑے مقدمے میں مجرم قرار دے دیا گیا۔ یہ مقدمہ اربوں ڈالر کی سرکاری سرمایہ کاری فنڈ ،ون ایم ڈی بی (1MDB) میں مبینہ خرد برد سے متعلق تھا۔

ہائی کورٹ نے 72 سالہ نجیب رزاق کو اختیارات کے ناجائز استعمال کے چار اور منی لانڈرنگ کے 21 الزامات میں قصوروار ٹھہرایا، جو 700 ملین ڈالر سے زائد رقم ان کے ذاتی بینک اکاؤنٹس میں منتقل کیے جانے سے متعلق ہیں۔

عدالت کے مطابق، یہ رقم براہِ راست ون ایم ڈی بی فنڈ سے نجیب رزاق کے اکاؤنٹس میں پہنچی۔ نجیب کے وکلا نے فیصلے کے بعد سزا میں نرمی کے لیے دلائل دینے کا عندیہ دیا جبکہ نجیب رزا ق نے تمام الزامات کی تردید کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ رقم سعودی عرب سے عطیہ تھی اور وہ بدعنوانی میں ملوث چند مالیاتی کرداروں، خصوصا لو تائک جھو، کی سازش کا شکار ہوئے۔

تاہم جسٹس کولن لارنس سیکورا نے اپنے فیصلے میں کہا کہ سعودی عطیے کا دعویٰ ‘قابل یقین نہیں’ اور ناقابلِ اعتماد ہے۔ عدالت کے مطابق، سعودی عطیہ دہندہ ظاہر کرنے والے چار خطوط جعلی تھے اور شواہد سے واضح ہوتا ہے کہ رقم ون ایم ڈی بی سے ہی منتقل ہوئی۔ جج نے دفاع کا یہ مؤقف بھی مسترد کر دیا کہ نجیب رزاق لاعلم تھے، اور کہا کہ شواہد نجیب اور لو تائک جھو کے درمیان قریبی تعلق کی نشاندہی کرتے ہیں، جو اس اسکینڈل میں کلیدی کردار ادا کرتا رہا۔
عدالت نے یہ بھی نشاندہی کی کہ نجیب رزاق نے بھاری رقوم کے ماخذ کی جانچ پڑتال نہیں کی اور نہ ہی لو تائک جھو کے خلاف کوئی کارروائی کی۔ اس کے برعکس انہوں نے مشکوک رقوم استعمال کیں اور اپنے عہدے کے تحفظ کے لیے اس وقت کے اٹارنی جنرل اور انسدادِ بدعنوانی ادارے کے سربراہ کو بھی عہدے سے ہٹایا۔

نجیب رزاق اس وقت بھی قید کی سزا کاٹ رہے ہیں، جو ون ایم ڈی بی سے منسلک ایک اور مقدمے میں سنائی گئی تھی۔ وہ 2009 سے 2018 تک ملائیشیا کے وزیرِ اعظم رہے اور 1MDB فنڈ کے قیام کے بعد اس کے اختیارات میں مرکزی حیثیت رکھتے تھے۔

یاد رہے کہ ون ایم ڈی بی اسکینڈل کے باعث 2018 کے عام انتخابات میں نجیب رزاق کی جماعت کو شکست کا سامنا کرنا پڑا، جس کے ساتھ ہی برسوں سے برسرِ اقتدار سیاسی اتحاد کا خاتمہ ہوا۔ نجیب رزاق کو اب مزید طویل عرصے تک جیل میں رہنے کا سامنا ہو سکتا ہے، جبکہ ان کی اہلیہ روشنہ منصور بھی ایک علیحدہ بدعنوانی کیس میں سزا یافتہ ہیں اور ضمانت پر رہا ہیں

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں