عافیہ صدیقی کے بھتیجے کا قتل: چند سلگتے سوال

ڈاکٹر عافیہ صدیقہ کے بھتیجے عماد صدیقی کو امریکہ میں قتل کر دیا گیا ہے ۔ یہ افسوسناک خبر پڑھی تو دریچہ دل سے چند سوالات آن لگے۔ مجھے احساس ہے کہ سوگواری کے لمحات میں بالعموم سوالات نہیں اٹھائے جاتے لیکن ان سوالات کی نوعیت ایسی ہے کہ انہیں اٹھانے کا وقت ہی یہی ہے ۔

میری درخواست ہو گی کہ آپ یہ سوالات پڑھیں ضرور مگر انہیں پڑھ کر فوری طور پر کوئی نتیجہ قائم نہ کریں۔ میں خود بھی ابھی کسی نتیجے تک نہیں پہنچا۔ میری طرح آپ بھی ان سوالات کو ذہن کے کسی حصے میں رکھ دیں اور باقی کا کام وقت پر چھوڑ دیں ۔ وقت خود ہی فیصلہ کر دے گا۔

اسی کا نام ارتقا ہے کہ ہم سوالات اٹھاتے ہیں ، سوچتے ہیں اور پھر غوروفکر کے بعد کوئی رائے قائم کرتے ہیں ۔ اگر ہم سوال ہی نہ اٹھائیں تو یہ جمود ہے جس سے سماج جوہڑ بن جاتے ہیں ۔ اگر کسی سوال پر ہم فوری کوئی رائے قائم کر لیں تو اس سے جذباتیت اور متلون مزاجی جنم لیتی ہے اور اگر ہم اپنی طے شدہ رائے پر کوئی سوال ہی گوارا نہ کریں تو یہ اندھی عصبیت ہے۔

پہلا سوال یہ ہے کہ عافیہ صدیقی کے بھتیجے عماد صدیقی امریکہ میں کیا کر رہے تھے؟ ان کے والد اور ڈاکٹر عافیہ صدیقہ کے بھائی محمد علی صدیقی بھی ، بتایا جا رہا ہے کہ ، عرصہ دراز سے شگر لینڈ سٹی کے متمول علاقے نیو ٹیراٹری میں قیام پزیر ہیں۔ عدامد صدیقی کے بھائی عمر صدیقی بھی ڈاکٹر ہیں اور سان انتونیو میں اپنی ریزیڈنسی مکمل کر رہے ہیں۔ ان سب کے بارے میں یہ سوال ہے کہ یہ امریکہ میں کیوں قیام پزیر تھے؟

لیکن یہ سوال ہمیں ان سے نہیں پوچھنا ، بلکہ خود سے ، یعنی اپنے آپ سے پوچنا ہے۔ وہ اگر امریکہ میں ہیں تو کوئی جرم نہیں ، ہر شخص آزاد ہے وہ کس معاشرے میں رہنے کا فیصلہ کرتا ہے ۔ لیکن یہاں ہمارے ہاں ، ہم نے دیکھا ہے کہ عافیہ صدیقی رہائی مہم کے دوران لوگ امریکہ کے ہر سطح پر بائیکاٹ تک کی باتیں کرتے ہیں ۔ تو ہمیں خود سے یہ پوچھنا ہے کہ ہم تو عافیہ صدیقی کے لیے امریکہ کے بائیکاٹ کی باتیں کرتے ہیں لیکن ان کی فیملی اسی امریکہ میں رہائش پزیر ہے تو یہ کیا معاملہ ہے؟

امریکہ نے عافیہ صدیقی پر اتنا ظلم کیا ، گرفتاری کسی اور جرم میں کی اور سزا کسی اور جرم میں دے دی۔ مقدمہ اندھوں کو بھی نظر آ رہا ہے کہ جھوٹا ہے ۔ نہ صرف جھوٹا ہے بلکہ بے ہودہ ہےا ور قانون کے نام پر سیادہ دھبہ ہے۔ اس مقدمے کی ساری تفصیل اور ظلم کی روداد میں اپنی تصنیف ” عافیہ صدیقی کیس : ایک قانونی مطالعہ” میں بیان کر چکا ہوں ۔ لیکن سوال یہ ہے کہ جو دکھ ، درد اور تکلیف یہاں عافیہ صدیقی کے لیے پاکستانی مظاہرین محسوس کرتے ہیں اور امریکہ کے بائیکاٹ تک کی بات کرتے ہیں ، وہی رویہ عافیہ صدیقی کے بھائی اور بھتیجوں کا کیوں نہیں ۔ پھر عرض کروں کہ ان کو طعنہ دینا مقصود نہیں ۔ صرف اس نکتے پر غور کرنا مقصود ہے کہ دنیا اور امریکہ کے بارے میں ایک عام پاکستانی اور عافیہ صدیقی کے قریبی عزیزوں کا زاویہ نظر اتنا مختلف کیں ہے؟ اس کی وجوہات کیا ہیں؟

دوسرا سوال یہ ہے کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم ذاتی زندگی کے حوالے سے الگ ترجیحات رکھتے ہوں اور اجتماعی زندگی کے بارے میں الگ۔ اجتماعی زندگی میں ہم اصولی بنیادوں پر کھڑے ہوتے ہوں اور ذاتی زندگی میں وصولی بنیادوں پر۔ اجتماعی معاملات میں ہم مثالیت پسند ہو جاتے ہوں اور اپنی حکومتوں کو گالیاں دیتے ہوں کہ جا کر امریکہ سے ٹکرا کیوں نہیں جاتیں اور ذاتی زندگی میں ہم بڑے سیانے ہوں کہ کسی سے ٹکرا کر نقصان کروانے کا کیا فائدہ۔ یہ سوال بھی ظاہر ہے کہ عافیہ صدیقی کے رشتے داروں سے نہیں پوچھنا کیوں کہ انہوں نے ہم سے کسی کو امریکہ سے آ کر نہیں کہا کہ لڑا دو ممولے کو شہباز سے۔ یہ سوال ہمیں خود سے پوچھنا ہے۔

ہم دیکھ چکے ہیں کہ جن سیاسی مذہبی جماعتوں کے جلسوں میں قوم کو بتایا جاتا تھا کہ کل روس بکھرتے دیکھا تھا ، اور اب امریکہ ٹوٹا دیکھیں گے اور پھر پتا نہیں کہاں کہاں گھوڑے دوڑاتے پہنچ جائیں گے ان کی اولادیں بھی پڑھنے کے لیے اسی امریکہ میں بھیجی گئیں ۔ پھر وقت بدلا تو انہیں کہا گیا اب وقت کا موسم بدل چکا ہے تو اب آپ ہماری جماعت کے امور خارجہ کو دیکھا کیجیے ، بیرونی دورے فرمایا کیجیے، سارے بر اعظم اب بھی آپ کی دسترس میں ہیں ، جھپٹیے ، پلٹیے اور پلٹ کے جھپٹیے۔ جائیے ، آئیے اور پھر جائیے ۔ سیر سپاٹے کیجیے اور دین کی خدمت کیجیے ۔

ایک تیسرا سوال بھی بہت اہم ہے۔ ہمارے اعلی تعلیم یافتہ لوگ آخر امریکہ اور یورپ کو کیوں ترجیح دیتے ہیں ؟ کیا یہ ان کا قصور ہے؟ ان میں سے کوئی کسی مسلمان ملک میں کیوں نہیں جاتا؟ کیا وجہ ہے کہ جس کو بھی ترقی کا شاندار مواقع ملے ان ہی مغربی معاشروں میں ملے؟ یہاں کسی نے ان سے یہ نہیں ہوچھا کہ تمہارا باپ کس اہم عہدے پر فائز ہے اور تم کس خاندان سے تعلق رکھتے ہو اور تمہاری جائز یا حرام کی تجوری کا سائز کیا ہے۔ یہاں بے سروسامانی کے عالم میں لوگ آئےا ور حیران کن ترقی کی۔ صرف ٹیلنٹ اور صرف میرٹ کی بنیاد پر ایسے ترقی مسلمان معاشرں میں کیوں نہیں ہو سکتی؟َ کیا آپ کوئی ایک مسلمان ملک بتا سکتے ہیں جس میں یہ اہلیت ہو کہ وہ قابل مسلمان نوجوانوں کو اپنے اندر سمو سکے؟

بین الاقوامی سیاست میں مغربی ممالک نے مسلمانوں کے ساتھ جو کیا وہ تو سب کے سامنے ہے ، لیکن اپنے معاشروں میں انہوں نے ہر اس شخص کو ترقی کے مواقع دیے جن میں اہلیت تھی ، بھلے وہ مسلمان ہوں ۔ کیا یہی وجہ تو نہیں کہ وہ دنیا کی بڑی قوت بن چکے ہیں؟

آخر میں ، میری پھر یہی گذارش ہو گی کہ ان سوالات پر فوری طور پر حتمی رائے قائم نہیں کرنی چاہیے ۔۔ مکرر عرض ہے کہ اگر ہم سوال ہی نہ اٹھائیں تو یہ جمود ہے جس سے سماج جوہڑ بن جاتے ہیں ۔ اگر کسی سوال پر ہم فوری کوئی رائے قائم کر لیں تو اس سے جذباتیت اور متلون مزاجی جنم لیتی ہے اور اگر ہم اپنی طے شدہ رائے پر کوئی سوال ہی گوارا نہ کریں تو یہ اندھی عصبیت ہے۔ سوچنا اور غوروفکر کرنا ایک مسلسل عمل ہے ، اسے جاری رہنا چاہیے ۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں