“میں دیکھ نہیں سکتا، لیکن راستے کی ہوا، آوازیں اور خوشبوئیں منظر دکھا دیتی ہیں۔” یہ کہتے وقت میر جمال احمد کا لہجہ پر اعتماد تھا۔ وہ ملتان سے تعلق رکھنے والے ایک نابینا سیاح ہیں، جو 2001 میں سترہ برس کی عمر میں بینائی سے محروم ہو گئے تھے۔
اسی اعتماد کے ساتھ وہ حال ہی میں ایک ٹینڈم سائیکل پر اسلام آباد سے مری تک کا سیاحتی سفر مکمل کر چکے ہیں، جسے وہ اپنی زندگی کا نیا آغاز قرار دیتے ہیں۔
بچپن سے ہی میر جمال کو سیاحت کا شوق تھا. وہ اپنے والد کے ہمراہ پاکستان کے مختلف علاقوں کی سیر پر جایا کرتے تھے۔ بینائی سے محروم ہونے کے بعد بھی انہوں نے باقاعدگی سے ہر سال سیاحت جاری رکھی۔
میر جمال نے ٹینڈم سائیکل پر سیاحتی سفر کیسے کیا؟
تاشقند اردو سے بات کرتے ہوئے میر جمال نے بتایا کہ’تعلیم مکمل کرنے کے بعد مجھے ٹینڈم سائیکل کی تلاش تھی۔ کافی عرصہ کھوج لگانے کے بعد بالآخر لاہور سے ایک سائیکل کا سراغ ملا۔ سائیکل کی صورتحال ابتدا میں کافی خستہ تھی اور لمبے سفر پر ساتھ لے جانے کے قابل نہیں تھی۔ اس وجہ سے مجھے پہلے سائیکل کو پہاڑوں پر چلنے کے قابل بنانا پڑا۔’
میر جمال سائیکل پر جہاں ایک طرف پورے پاکستان کا دورہ کرنا چاہتے ہیں وہیں بیرون ملک جا کر حج کا فریضہ انجام دینے اور برطانیہ میں اپنی مادر علمی دیکھنے کی بھی خواہش رکھتے ہیں، لیکن اس کے لیے انہیں ایک ساتھی کی ضرورت لازمی تھی۔

یہ کمی اس وقت پوری ہوئی جب سائیکل کی مرمت کے دوران انہیں ایک میکینک نے اللہ دتہ جٹ کے بارے میں بتایا، جو اے ڈی جٹ کے نام سے ملتان کے مشہور سائیکلسٹ ہیں۔ ان سے ملاقات میں میر جمال نے اپنے ارادے ظاہر کیے تو اللہ دتہ جٹ نے نہ صرف حامی بھری بلکہ آزمائشی سفر کے لیے بھی مان گئے۔
اے ڈی جٹ 2006 سے سائیکلنگ کر رہے ہیں اور اب تک سائیکل پر 40 ہزار سے زائد کلومیٹر کا سفر کرچکے ہیں۔ انہوں نے تاشقند اردو کو بتایا کہ ‘میر جمال نے رابطہ کیا تو پہلے میں پریشان ہوگیا تھا کہ ایک نابینا شخص کے ساتھ سائیکل پر سفر کربھی سکوں گا یا نہیں؟ اس لیے ساٹھ دن تک میں نے مشاہدہ کیا کہ مجھے اس دوران کیا مشکلات پیش آسکتی ہیں؟’
میر جمال بتاتے ہیں کہ ‘اس کے لیے پہلے مرحلے میں ملتان کے کہنہ قاسم باغ قلعے سے متصل ایک کلومیٹر کی چڑھائی پر سائیکل چلائی۔ اس دوران ہمیں سائیکل کی کمزوریوں کا اندازہ ہوا، جنہیں دور کرتے ہوئے ہم نے ساٹھ کلومیٹر تک سفر میں اس کو لمبے سفر کے قابل بنایا۔’

جون کے مہینے میں اللہ دتہ جٹ اور میر جمال نے پینڈم سائیکل پر اسلام آباد سے مری تک اپنے سفر کا آغاز کیا لیکن یہ کسی آزمائش سے کم نہیں تھا۔ اے ڈی جٹ کہتے ہیں کہ ‘لمبے سفر پر جانے سے پہلے مری تک کا مختصر دورہ کرنے کی تجویز میں نے دی تاکہ سائیکل کی طاقت کا اندازہ ہوسکے۔’
میر جمال کے مطابق ان کو راستے میں حادثہ بھی پیش آیا جب ایک موٹرسائیکل سوار نے ان کی ویڈیو بناتے وقت انہیں ٹکر ماری، جس کے نتیجے میں سائیکل کافی خراب ہوئی۔
اے ڈی جٹ نے بتایا کہ’تین دن کا سفر تھا لیکن ہم اسے پورا نہ کرسکیں۔ البتہ، مری کی چڑھائی تک سفر کر کے بہت ساری چیزیں میرے ذہن میں آگئی ہیں۔’
میر جمال فٹنس ٹرینر بھی ہیں اور سائیکلنگ کا شوق بھی بچپن سے رکھتے ہیں لیکن بینائی کی وجہ سے اسے پورا نہیں کر پا رہے تھے۔ اسی لیے انہوں نے ایک متبادل ذریعہ اپنانے کا فیصلہ کیا۔

میر جمال بینائی کے بغیر سیاحت کیسے کرلیتے ہیں؟
بینائی کے بغیر سیاحت پر جب میر جمال سے پوچھا گیا تو انہوں نے پر اعتماد لہجے میں بتایا کہ ‘زندگی گزارنے کے لیے انسان حواس خمسہ کا استعمال کرتا ہے۔ صرف بینائی کے دم سے زندگی کا تعین تو نہیں کیا جاسکتا۔ ایک حس کمزور یا بے کار پڑ گئی تو باقی حسی اعضاء تو کام کر رہے ہیں۔ انہی حواس نے میرے تخیلاتی دنیا کو اس قدر مضبوط بنایا ہے کہ مجھے بینائی کی کمی محسوس نہیں ہوتی اور میں با آسانی کسی سیاحتی مقام پر پہنچ کر ماحول کو پوری طرح محسوس کرلیتا ہوں۔’
میر جمال کے مطابق انہوں نے بعض سیاحتی مقامات بچپن میں ہی دیکھ رکھے تھے، لیکن نئی جگہوں سے متعلق بھی ان کے ذہن میں زندہ تصویر ابھر آتی ہے۔
اس پیچیدہ مگر دلچسپ عمل کو بیان کرتے ہوئے وہ بولے کہ ‘میں کچھ سال پہلے سکردو گیا تو وہاں کے تمام مناظر سے پوری طرح محظوظ ہو کر ہی واپس لوٹا۔ بل کھاتی پگڈنڈیوں پر جیپ کی دھچکے دار حرکت نے راستے کی دشواری اور ہوا کی خنک نے سردی کا احساس دلایا۔ پاؤں سے لگتی گھاس نے سبزہ زاروں کا لطف دیا۔ گونجتی آوازوں نے چاروں جانب پہاڑوں کو محسوس کرایا اور بھینی بھینی خوشبو نے پھولوں کے عین درمیان کسی چشمے کو لا کر میرے سامنے رواں کردیا۔’

اے ڈی جٹ کہتے ہیں کہ ‘وہ ہر سال سائیکل پر ایک ٹور کا انتظام کرتے ہیں جبکہ اس دفعہ میر جمال کے لیے ٹینڈم سائیکل پر ٹور کا خصوصی اہتمام کیا جائے گا ۔ اس کے لیے چھ افراد بھی تیار ہوگئے ہیں۔’
میرجمال 2001 میں میٹرک کا امتحان دے رہے تھے اور ابھی آخری پرچہ رہتا تھا کہ آنکھ کا پردہ متاثر ہوا۔ علاج معالجے کی وجہ سے انہیں تعلیمی سفر کو وقتی طور پر روکنا پڑا تھا، لیکن اسی دوران انٹر میڈیٹ کا امتحان نجی طور پر پاس کیااور حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے زندگی کا سفر جاری رکھا۔
اپنا تعلیمی سفر بیان کرتے ہوئے میر جمال نے تاشقند اردو کو بتایا کہ’خاندانی کاروبار کی وجہ سے ذہن اس طرف مائل تھا۔ لہذہ، لاہور سے بزنس ایڈمنسٹریشن میں بیچلر کی ڈگری حاصل کی اور ماسٹر کے لیے برطانیہ چلا گیا، جہاں سپلائی چین مینجمنٹ میں ڈگری مکمل کی۔ ‘

جدید دور میں تکنیکی سہولیات نے خصوصی افراد کے لیے تعلیم کے حصول کو آسان بنادیا ہے۔ اس سے اتفاق کرتے ہوئے میر جمال کہتے ہیں کہ’نابینا افراد کے لیے پڑھنا کوئی مشکل کام نہیں رہا۔اس کے لیے ٹیکنالوجی کا بہتر استعمال بس ضروری ہے۔’سکرین ریڈنگ سافٹ وئیرز’ اور ‘آڈیو بکس ‘ کی مدد سے ہی میں نے پڑھنے لکھنے کا کام مکمل کیا، جس میں اب مزید جدت آگئی ہے۔’