دنیا بھر میں تہلکہ مچانے والے امریکی مالیاتی شخصیت جیفری ایپسٹین سے متعلق منظرِ عام پر آنے والی فائلز میں کچھ ایسی ای میلز بھی شامل ہیں جن میں براہِ راست پاکستان کے قبائلی علاقوں، وہاں جاری طالبان کی سرگرمیوں اور امریکی جنگ کے دوران پیدا ہونے والی اندرونی صورتحال کا تفصیلی جائزہ موجود ہے۔
اگر امریکی محکمۂ انصاف کی ایپسٹین فائلز لائبریری میں لفظ ‘طالبان ‘تلاش کیا جائے تو متعدد دستاویزات سامنے آتی ہیں، جن میں مختلف رپورٹس، ای میلز اور بریفنگز شامل ہیں۔
ان ای میلز میں ایک خاتون نصرہ حسن کا بار بار ذکر ملتا ہے، جو انٹرنیشنل پیس انسٹی ٹیوٹ(آئی پی آئی) سے وابستہ تھیں اور پاکستان کے قبائلی علاقوں میں کام کر رہی تھیں۔ دستیاب ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ نصرہ حسن کی تیار کردہ رپورٹس آئی پی آئی کی ڈائریکٹر آندریا ففانزلٹر کے ذریعے جیفری ایپسٹین کو بھیجی جاتی تھیں۔
ان مراسلات میں بورس نکولک کا نام بھی سامنے آتا ہے، جو ایپسٹین کے سائنسی مشیر تھے اور ماضی میں بل گیٹس سے وابستہ رہے ہیں۔ اسی سلسلے میں ٹیرجے روڈ لارسن کا ذکر بھی ملتا ہے، جو آئی پی آئی کے صدر تھے۔ بعد ازاں 2020 میں یہ بات سامنے آنے پر کہ انہوں نے ایپسٹین سے فنڈنگ وصول کی تھی، انہیں اپنے عہدے سے استعفیٰ دینا پڑا۔

ان ای میلز کا ایک نمایاں پہلو پاکستان میں جاری انسدادِ پولیو مہم سے متعلق معلومات ہیں۔ رپورٹس میں نہ صرف پولیو مہم میں درپیش رکاوٹوں کا ذکر ہے بلکہ قبائلی علاقوں کی سیکیورٹی صورتحال، طالبان کے اندرونی معاملات، مذاکراتی عمل اور ڈرون حملوں کے اثرات پر بھی تفصیلی تبصرے شامل ہیں۔
مثال کے طور پر مئی 2013 کی ایک ای میل میں نصرہ حسن نے لکھا ہےکہ سی آئی اے کے ایک ڈرون حملے میں تحریک طالبان پاکستان کے نائب سربراہ ولی الرحمٰن کی ہلاکت نے صورتحال کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ان کے مطابق ولی الرحمٰن پاکستان میں خودکش حملوں کے مخالف سمجھے جاتے تھے اور نئی بننے والی پاکستانی حکومت کے ساتھ مذاکرات کے حامی تھے۔

انہوں نے مزید لکھا ہے کہ ان کی ہلاکت کے بعد پاکستانی طالبان نے حکومت کے ساتھ مذاکرات معطل کر دیے، جس کے نتیجے میں پولیو سے متعلق پسِ پردہ جاری کوششیں بھی متاثر ہوئیں۔ نصرہ حسن نے لکھا کہ وہ کوشش کر رہی تھیں کہ نئی حکومت اور تحریک طالبان پاکستان کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں پولیو کے مسئلے کو بھی شامل کیا جائے، تاہم حالات کی تبدیلی نے اس عمل میں تاخیر پیدا کر دی۔
اگست 2015 کی ایک اور ای میل میں افغان طالبان کے سربراہ ملا عمر کی موت کی خبر کے بعد کی صورتحال کا تجزیہ پیش کیا گیا۔ اس خط میں نصرہ حسن نے جیفری ایپسٹین کو آگاہ کیا کہ ملا اختر منصور قیادت کے لیے ایک مضبوط امیدوار کے طور پر ابھر رہے ہیں اور ان کے حامیوں کی تعداد زیادہ دکھائی دیتی ہے۔ ای میل میں امریکی ڈرون حملوں کے تسلسل، افغان امن مذاکرات کے مختلف مراحل اور خطے میں بدلتی سیاسی حرکیات کا بھی ذکر کیا گیا۔

اسی رپورٹ میں یہ بھی بیان کیا گیا کہ بدامنی اور عسکری سرگرمیوں کی وجہ سے پولیو پروگرام شدید متاثر ہو رہا ہے، جس سے انسدادِ پولیو مہم کی پیش رفت سست پڑ گئی ہے۔
ان فائلز کا مطالعہ کرتے ہوئے یہ سوال ابھرتا ہے کہ آیا یہ تمام معلومات محض پولیو پروگرام کی بہتری کے لیے فراہم کی جا رہی تھیں یا اس کے پسِ پردہ کوئی اور مقصد بھی کارفرما تھا؟ رپورٹس میں طالبان کے اندرونی حلقوں کی کیفیت، پاک فوج سے متعلق معاملات، قبائلی علاقوں میں جاری پیش رفت، امن مذاکرات اور عسکری کارروائیوں پر بریفنگز شامل ہیں۔ بعض دستاویزات میں اخباری تراشوں اور نیوز اسٹوریز کے ذریعے بھی ایپسٹین کو مسلسل بریف کیا جاتا رہا۔
مئی 2013 کے ایک خط میں نصرہ حسن نے یہ بھی تحریر کیا کہ ایک موقع پر فوجی اہلکاروں نے ان پر شک کیا، تاہم پولیو مہم سے وابستگی کے باعث وہ بچ گئیں۔ یہ نکتہ مزید سوالات کو جنم دیتا ہے کہ آیا پولیو مہم کی آڑ میں معلومات اکٹھی کی جا رہی تھیں، یا واقعی یہ سب سرگرمیاں صرف صحت عامہ کے مقاصد کے لیے تھیں؟

یہ امر بھی قابلِ توجہ ہے کہ جیفری ایپسٹین نہ تو کوئی سرکاری عہدیدار تھے اور نہ ہی صحتِ عامہ کے معاملات سے ان کا براہِ راست کوئی عملی تعلق تھا۔ اس کے باوجود انہیں قبائلی علاقوں کی سیکیورٹی، طالبان کی قیادت، پاک فوج کی سرگرمیوں اور امن مذاکرات کے بارے میں باقاعدہ بریفنگز موصول ہو رہی تھیں۔ ان ریکارڈز میں جگہ جگہ بل گیٹس کا ذکر بھی ملتا ہے اور ایپسٹین اور بل گیٹس کے درمیان ملاقاتوں کا احوال بھی شامل ہے۔
مجموعی طور پر دستیاب فائلز سے یہ تاثر ضرور ملتا ہے کہ ایک این جی او کے پلیٹ فارم اور پولیو مہم کے سائے تلے انتہائی تفصیلی اور باریک معلومات کا تبادلہ ہو رہا تھا۔ یہ ممکن ہے کہ اس کا مقصد زمینی حقائق سے آگاہی اور ڈیٹا اکٹھا کرنا ہو، تاہم اس سرگرمی کی نوعیت اور وسعت کئی سوالات کو جنم دیتی ہے۔