ہفتہ 4 اپریل کو ملتان کے کھوجی عامر بشیر، وسیب کے سلطان ڈاکٹر مزمل حسین، چاچائے وسیب عبد الرؤف شجرا اور اپنے بہترین ایکسپلورر دوست عرفان مجید کے ساتھ شاہ شمس کےدربار کے قریب قبرستان میں ایک ایسی قبر دیکھنے کا موقع ملا جو شاہ شجاع کی بتائی جاتی ہے۔
یہ کھوج ہمارے بانکے میاں نے کی تھی جس میں عرفان بھائی کی بھرپور مدد شامل تھی۔
شاہ جہاں اور ممتاز محل کا دوسرا بیٹا شجاع جون 1616ء کو اجمیر میں پیدا ہوا۔
شجاع کے دیگر بہن بھائیوں میں داراشکوہ، اورنگ زیب، جہاں آرا بیگم، روشن آرا بیگم، مراد بخش، گوہر بیگم اور دیگر شامل تھے۔ شاہ شجاع کو شاہ جہاں نے 1641 سے بنگال اور بہار کا اور 1648 سے 1661 تک اڑیسہ کا صوبیدار مقرر کیا تھا۔
شاہ جہاں کی علالت کے بعد، بھائیوں میں اقتدار کا بحران پیدا ہو گیا۔ شاہ شجاع نے خود کو شہنشاہ قرار دے دیا ، لیکن اورنگزیب دہلی کے تخت پر چڑھ گیا اور میر جملہ کو شجاع کو محکوم کرنے کے لیے بھیجا۔ اورنگزیب کی افواج سے شکست کھانے کے بعد شجاع نے پہلے ٹنڈہ اور پھر ڈھاکہ کارخ کیا۔
یہاں سے وہ اراکانی جہازوں پر سوار ہو کے چٹاگانگ اور پھر زمینی راستے سے موجودہ میانمار کے علاقے اراکان چلے آئے جہاں کے مقامی راجہ ساندہ تھدما نے انہیں پناہ دی۔ کچھ عرصے بعد راجہ نے ان کی بیٹی کا ہاتھ مانگا۔ انکار پر چپقلش ہوئی جو اتنی بڑھی کہ جنگ اور پھر شاہ شجاع کی پھانسی پر اختتام پذیر ہوئی۔
یوں تاریخ کے مطابق شاہ شجاع کی موت بنگال کھاڑی کے
مشرقی حصے پر واقع اراکان میں ہوئی اور مدفن بھی وہیں بنا۔
تاریخ کا ایک اور رخ بھی ہے کہ شاہ شجاع ملتان چلے آئے اور سخی شاہ حبیب کے نام سے گوشہ نشین ہوگئے۔

کچھ پرانی کتب میں اس کا ذکر بھی موجود ہے جس کی تلاش عامر بھائی نے کی۔ موقع پر پہنچ کر ہم نے اس احاطے کو اچھی طرح دیکھا، اگرچہ اب احاطے کورنگ کر دیا گیا ہےاور قبر بھی پختہ ہے لیکن اندر سے اس کی اینٹیں اور مصالحہ مغل دور کا ہی نکلا جو کہیں کہیں سے رنگ اکھڑنے کی وجہ سے نظر آ رہا تھا۔ اصلیت چھپائے کہاں چھپتی ہے۔
یہ شاہ جہاں کے بیٹے شاہ شجاع کی قبر ہے یا نہیں یہ آپ ڈاکٹر مزمل حسین کی تحریر پڑھ کے فیصلہ کر لیں۔
وہ لکھتے ہیں کہ،
شاہ جہاں کے بیٹے شاہ شجاع نے تارک دنیا ہو کر فقیری اختیار کی اور ملتان آبسے۔
فقیری کی دنیا میں آپ سخی شاہ حبیب کے لقب سے مشہور ہوئے۔ شاہ حبیب/شاہ شجاع بارے تاریخی کتب کا مطالعہ کرنے پر ہم درج ذیل معلومات اخذ کر پاۓ ہیں۔ تاریخ کا علم رکھنے والے احباب مزید آگاہی فرما سکتے ہیں۔
ضلع ملتان کے گزٹئیر 02-1901 میونسپلٹیز اور کنٹونمنٹس، باب ششم صفحہ نمبر 352-351 پر درج ہے کہ دربار شاہ شمس کے شمال میں ایک باغ میں مزار ہے جو سخی شاہ حبیب کے نام سے مشہور ہے۔
شاہ حبیب کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ مغل شہزادے سلطان شاہ شجاع کا لقب ہے جو کہ شاہ جہاں بادشاہ کا بیٹا تھا، جب یہ مغل شہزادہ عوامی زندگی سے غائب ہو گیا تو ملتان میں فقیر کی حیثیت سے سکونت اختیار کی۔ مزار کا تعلق فقیروں کے کسی حد تک غیر معروف رسول شاہی فرقے سے ہے۔
انیسویں صدی کے ایک معروف مؤرخ منشی حکم چند نے اپنی تصنیف تواریخِ ضلع ملتان 1884 میں اس مزار کا تعارف کراتے ہوئے لکھا ہے کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
”یہ خانقاہ بیرون دولت دروازه ملتان بفاصلہ چھ سو کرم بعمارات پختہ خوشنما واقع ہے اور چار دیواری پختہ میں ایک باغیچہ ہے جس میں درختان میوه دارو سایہ دار موجود ہیں اور ایک چاه و حوض پختہ بنا ہوا ہے۔ کہتے ہیں کہ یہ حضرت فرزند بادشاه شاہجہان از شکم تاج بی بی، جن کا روضہ آگرہ میں ہے، کے تھے۔ اصل نام ان کا سلطان شجاع تھا۔ بوقت حصول فقیری شاہ حبیب نام ہوا۔ بڑے صاحب کمال ہوئے اور بہت خلیفہ حضرت کے ہوئے۔“

خلیق ملتانی نے اپنی طویل نظم بعنوان ”ایک پہلو یہ بھی ہے ملتان کی تصویر کا“ میں اسی واقعہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے :
یہ فسانہ اور بھی اک بار دہرایا گیا
محفلِ ساقی سے رند اک اور اُٹھوایا گیا
بادشاہوں کو لباس فقر پہنایا گیا
شہ شجاع کو زندگی کا راز بتلایا گیا
بھید پایا شاہ نے اس خاک سے توقیر کا
ایک پہلو یہ بھی ہے ملتان کی تصویر کا
مندرجہ بالا تمام حوالوں کے برعکس مختلف مؤرخ اس بات سے اختلاف بھی رکھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ شاہ شجاع کا ملتان آنا ثابت نہیں۔
بہرحال یہ مقبرہ طرز تعمیر اور اس میں استعمال کی گئی اینٹ اور دیوار کی چنائی میں استعمال کیے گئے مصالحہ سے مغل دور کا ہی معلوم ہوتا ہے۔ اب حقیقت اللہ کو معلوم کے کہ اس قبر میں مغل شہزادہ شاہ شجاع دفن ہے یا یہ کسی اور شخصیت کا مدفن ہے۔۔
۔