جنوبی پنجاب کے اضلاع ثقافتی تنوع کے لحاظ سے پاکستان کے ذرخیر علاقوں میں شمار ہوتے ہیں۔ یہاں کی تہذیب اور تاریخ ایک منفرد پہچان اور اہمیت کی حامل ہے۔ تاہم، یہ اضلاع سیاحت کے شعبے میں دنیا کی نظروں سے اوجھل ہیں اور صدیوں پر محیط یہاں کی تاریخی باقیات کو اس درجے پر توجہ نہیں دی گئی ، جو اس کی شایان شان ہے۔
اس کمی کو پورا کرنے کے لیے ملتان کے ایک ڈاکٹر سید مزمل حسین کی قیادت میں مقامی افراد پر مشتمل ایک سیاحتی گروپ موٹر سائیکلوں کے ذریعے جنوبی پنجاب کی لازوال تاریخ کو دنیا کے سامنے لاتے ہیں۔’وسیب ایکسپلورر’ کے نام سے قائم اس گروپ کے ممبران جنوبی پنجاب کے ان علاقوں کو دریافت کرتے ہیں ، جنہیں عموما کم ہی لوگ جانتے ہیں یا ان جگہوں پر جانے سے کتراتے ہیں۔
‘وسیب ‘سرائیکی زبان کا لفظ ہے، جس کے معنی ‘پڑوس’ کے ہیں، اس لحاظ سے وسیب ایکسپلورر سرائیکی علاقوں کی نمائندگی کرتے ہوئے وہاں کی سیاحت کے فروغ کے لیے کوشاں ہے۔ اس سیاحتی گروپ کو نشتر اسپتال ملتان میں خدمات سرانجام دینے والے ڈاکٹر سید مزمل حسین نے 2016 میں اس وقت قائم کیا تھا، جب ان کی پوسٹنگ ڈیرہ غازی خان میں ہوئی۔
تاشقند اردو سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ’ پوسٹنگ کے بعد مجھے اپنے آبائی شہر ملتان کی بہت یاد آتی تھی اور ایک طرح سے نفسیاتی کشمکش میں مبتلا ہو گیا تھا۔ اس کیفیت میں ماہرین نفسیات نے اپنے ذہن کو کسی اور جانب مصروف کرنے کی تجویز دی۔’
‘اس دوران مجھے سوشل میڈیا کے توسط سے موٹر سائیکلوں کے ذریعے سیر و سیاحت کرنے والے ایک گروپ ‘موٹرسائیکل ٹریول کلب آف پاکستان’ کے بارے میں علم ہوا اور ان کی تصویریں دیکھ کر متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔ ان سے رابطہ کیا تو انہوں نے بائیک اور موبائل جیسی سہولیات کے بارے میں دریافت کیا اور مجھے کہا گیا کہ آپ بھی یہ کام کر سکتے ہیں۔’

یہاں سے مزمل حسین نے تحریک پکڑتے ہوئے بائیک کے ذریعے اپنا پہلا سیاحتی سفر ڈیرہ غازی خان سے ملتان کی جانب کیا۔وہ بچپن سے ڈیرہ غازی خان آتے جاتے رہے ہیں لیکن پہلی بار انہوں نے اس راستے پہ پائے جانے والے تاریخی مقامات، دریائے چناب سے متصل بستیوں اور دستکاری کے مراکز پر ٹھہر کر تصویریں بنائی اور تعارف سمیت اسے سوشل میڈیا پر پوسٹ کیا۔
ڈاکٹر مزل حسین کہتے ہیں کہ’ میرے اس سفر کو لوگوں کی جانب سےکافی پسند کیا گیا۔ دوسرے مرحلے میں ڈیرہ غازی خان کے قریب گاؤں کے دورے کرنا شروع کیے۔ لوگوں سے تاریخی حویلیوں اور مندروں کے بارے میں معلومات لی اور یوں یہ سلسلہ آگے بڑھتا گیا۔ اس کے بعد ڈیرہ غازی کے مغرب پر واقع جنوبی پنجاب اور بلوچستان کے سرحد پر کوہ سلیمان سلسلے کی وادیاں، چشمے اور بلوچ ثقافت کو دریافت کرنے کی کوشش کی۔’
مزمل حسین اپنے اس سیاحتی سفر کو مسلسل سوشل میڈیا پر تشہیر کرتے رہے۔ اس وجہ سے ڈیرہ غازی کے پرانے اور نئے سیاح بھی ان کے ساتھ شامل ہو گئے اور انہوں نے ‘وسیب ایکسپلورر’ کے نام سے اپنے کلب کی بنیاد رکھی۔

ان کے مطابق ڈیرہ غازی خان میں 2018 تک ان کے پاس 50 کے لگ بھگ ساتھی تھے جبکہ ملتان میں یہ تعداد دو سو تک پہنچ گئی ہیں۔ مجموعی طور پر مختلف اضلاع میں وسیب ایکسپلورر کے ممبرز کی تعداد 700 کے قریب ہیں۔ یہ تمام افراد موٹرسائیکلوں کے ذریعے سیاحت، مقامی ثقافت اور تاریخی مقامات کو دریافت کرتے ہیں۔
مزمل حسین نے کہا کہ’ 2022 کے تباہ کن سیلاب کے وقت میں نے سیاحتی علاقوں میں متاثرہ افراد کے لیے میڈیکل کیمپ بھی لگائیں جبکہ باقی دوستوں نے خوراک اور کپڑے تقسیم کیے۔ اسی طرح اصل مقصد سیاحت کو برقرار رکھتے ہوئے ہم نے اپنی پہلی فلاحی سرگرمی بھی منعقد کی۔’
ان کے مطابق انہوں نے اب تک جنوبی پنجاب کے دو سو سے زائد مقامات اور تاریخی عمارتوں کو دریافت کیا ہے۔ ان میں زیادہ تر مقامات غیر مشہور ہیں یعنی ان کے بارے میں عموما لوگ کم ہی جانتے ہیں۔ ان میں پرانی حویلیاں اور مندر تو شامل ہیں ہی ، لیکن ایسی بستیاں بھی ہیں جہاں مسلمان، ہندو اور سکھ مل جل کر رہتے تھے۔
‘حویلی غوث پور تھہیم، مقبرہ سادن شہید، آٹھ سو سال پرانا دنیا پور کا مقبرہ احمد کبیر جیسے علاقوں کے بارے میں ہم نے لوگوں کو آگاہ کیا، جس کے بعد مختلف علاقوں سے سیاحوں نے اس کے دورے کیے۔’

ان نے مزید بتایا کہ ‘کوہ سلیمان میں فورٹ منروایک مشہور سیاحتی مقام ہے ۔ تقریبا ہر کوئی یہاں سیر کے لیے پہنچ جاتا ہے، لیکن یہاں سے متصل راجن پور سے خیبر پختونخواء تک ایسی بستیاں ہیں جہاں جانے سے لوگ کتراتے ہیں۔ ہم نے دو سو لومیٹر تک ایسے قبائلی علاقوں کو دریافت کیا جہاں جانے کے لیے سڑک بھی موجود نہیں۔’
ان قبائلی علاقوں کی دریافت کو مزمل حسین ‘وسیب ایکسپلورر’ کا کارنامہ سمجھتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ یہاں جا کر ہم نے لوگوں کا خوف دور کیا ہے۔ان میں ماڑی،7400 فٹ بلندی پر واقع یکبئی ٹاپ، اور مبارکی ٹاپ شامل ہیں۔
وسیب ایکسپلورر کی سیاحت نوے فیصد موٹر بائیک کے ذریعے ہی ہوتی ہے۔ یہ سلسلہ صرف جنوبی پنجاب تک محدود نہیں رہا ہے بلکہ یہ گوادر سے لے کر خنجراب تک موٹر سائیکلوں کے ذریعے سیاحت کو فروغ دیتے ہیں۔ ان کی یہ سرگرمیاں سالانہ لحاظ سے یوم کوہسار اور یوم ثقافتی ورثہ جیسے عالمی دنوں پر بھی منعقد کی جاتی ہیں۔ ڈاکٹر مزمل حسین ایسے مقامات بھی منظر عام پر لائے ہیں جو محکمہ آثار قدیمہ کے علم میں نہیں تھے۔

جنوبی پنجاب تاریخی لحاظ سے کتنا اہم ہے؟
ڈاکٹر مزمل حسین کے مطابق پانچ ہزار سال سے آباد ملتان جنوبی پنجاب کا مرکز کہلاتا ہے۔ یہاں سکندر اعظم نے اپنا تخت جمایا۔ ملتان میں مغلیہ دور، برطانوی دور اور سکھ دور کی باقیات بھی موجود ہیں۔ اسی طرح بہاولپور عباسی خاندان کی مشہور ریاست رہنے کی وجہ سے محلات کا شہر کہلاتا ہے ۔نور محل اور دربار محل جیسی باقیات یہاں پائی جاتی ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ‘اس کے علاوہ صحرائے چولستان میں ایک قدیم تہذیب دریائے ہاکڑہ کے کنارے آباد تھی۔ ادھر آپ کو طرح طرح کی فصیلیں اور قلعے ملتے ہیں، جن میں مشہور قلعہ دراوڑ ہے ، جہاں بین الاقوامی جیپ ریلی منعقد ہوتی ہے جبکہ ڈیرہ غازی خان میں بلوچ النسل قبائل پائے جاتے ہیں۔ یہ تمام تاریخی علاقے جنوبی پنجاب کے اضلاع کو سردیوں میں سیاحت کے لیے بہترین انتخاب بناتے ہیں۔