وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کمپوزٹ سرکل فیصل آباد نے مراکش کشتی حادثے میں ملوث انسانی اسمگلنگ نیٹ ورک کا سراغ لگا لیا ہے۔ اس حوالے سے ایک اہم پیش رفت میں، اسلام آباد ایئرپورٹ سے گرفتار کیے گئے سہولت کار عبدالغفار کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
ایف آئی اے کے مطابق، عبدالغفار مراکش کشتی حادثے میں بچ جانے والے سات پاکستانی مسافروں کے ساتھ وطن واپس پہنچا تھا، جہاں مسافروں کی نشاندہی پر اسے گرفتار کر کے فیصل آباد منتقل کر دیا گیا۔ تفتیش کے دوران انکشاف ہوا کہ ،عبدالغفار گزشتہ کئی سالوں سے یورپ جانے کے خواہشمند افراد کو غیر قانونی طریقے سے بھجوانے میں ملوث رہا ہے اور اس کا نیٹ ورک موریطانیہ اور برکینا فاسو میں سرگرم تھا۔
حکام کے مطابق، عبدالغفار کا باپ سرفراز اور قریبی رشتہ دار منیر بھی 2018 سے انسانی اسمگلنگ کے اس دھندے میں شامل ہیں۔علاوہ ازیں ، عبدالغفار کے افریقی اسمگلر ابوبکر کے ساتھ روابط کے شواہد بھی ملے ہیں۔ تفتیش میں یہ بھی معلوم ہوا کہ، ملزمان نے متعدد معصوم پاکستانیوں کو یورپ پہنچانے کے بہانے ان سے بھاری رقوم بٹوریں اور انہیں غیر محفوظ کشتیوں کے ذریعے روانہ کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
ایف آئی اے نے واضح کیا کہ، انسانی اسمگلنگ کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کر دی گئی ہیں اور ملزمان کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ترجمان کے مطابق، انسانی اسمگلنگ میں ملوث عناصر کی جائیدادیں ضبط کرنے کے ساتھ ساتھ، بیرون ملک موجود ملزمان کو انٹرپول کی مدد سے گرفتار کیا جائے گا۔
دریں اثنا، ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل لاہور نے مزید دو انسانی اسمگلروں، عمر حیات اور محمد نعیم، کو گرفتار کر لیا ہے۔ عمر حیات پر الزام ہے کہ، اس نے ایک شہری کو غیر قانونی طور پر سمندر کے راستے یورپ بھجوانے کے نام پر 57 لاکھ روپے بٹورے، جبکہ محمد نعیم سعودی عرب میں ملازمت کا جھانسہ دے کر 21 لاکھ روپے لے کر روپوش ہو گیا تھا۔ دونوں ملزمان کو گرفتار کر کے ان سے مزید تحقیقات جاری ہیں، جبکہ دیگر ملوث افراد کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔