دنیا بھر میں لاکھوں بچے تشدد زدہ ماؤں کے ساتھ پروان چڑھ رہے ہیں، یونیسف کی رپورٹ

یونیسف نے دنیا بھر میں خواتین کے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد اور اس کے بچوں پر گہرے اثرات پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ادارے کی تازہ رپورٹ کے مطابق دنیا کے ہر چار میں سے ایک سے زیادہ بچے ایسی ماؤں کے ہمراہ زندگی گزار رہے ہیں جو گزشتہ سال کے دوران جسمانی، نفسیاتی یا جنسی تشدد کا شکار رہی ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دنیا بھر میں 610 ملین سے زائد بچے گھریلو تشدد کے ماحول میں پرورش پا رہے ہیں، جس سے ان کی حفاظت، ذہنی صحت اور تعلیمی تسلسل شدید متاثر ہوتا ہے۔ یونیسف کے مطابق ایسے حالات بچوں کی نشوونما اور مستقبل کے لیے سنگین خطرات پیدا کرتے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق اوشیانیا، صحارا کے جنوب میں واقع افریقی ممالک، اور وسطی و جنوبی ایشیا میں گھریلو تشدد کی شرح دیگر خطوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ ان علاقوں میں دیرینہ معاشی و سماجی مسائل خاندانی سطح پر تشدد کو مزید بڑھا دیتے ہیں۔

یونیسف نے خواتین اور بچوں کے تحفظ کے لیے بہتر صحت خدمات، نفسیاتی معاونت، معیاری تعلیم اور مؤثر حفاظتی پالیسیوں کی فوری ضرورت پر زور دیا ہے۔ ادارے نے واضح کیا کہ خواتین کی مدد کرنا بچوں کی فلاح و بہبود کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق دنیا کے کئی ممالک میں خواتین کے خلاف تشدد گہری جڑیں رکھتا ہے اور اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے ہنگامی اقدامات اور عالمی سطح پر مربوط کوششیں ناگزیر ہیں۔

یونیسف نے خبردار کیا ہے کہ اگر عالمی برادری نے انسانی حقوق اور تحفظ کے لیے اپنی کوششیں تیز نہ کیں تو یہ خواتین اور بچے بڑھتے ہوئے تشدد، عدم تحفظ اور گہرے انسانی بحران کا سامنا کرتے رہیں گے۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں