فوجی آپریشن کا دوبارہ آغاز، باجوڑ میں 72 گھنٹوں کے لیے نافذ اچانک کرفیو کے باعث عوام گھروں میں محصور

سیاسی اور مقامی عمائدین کی مخالفت کے باوجود خیبر پختونخوا کے ضلع باجوڑ میں عسکریت پسندوں کے خلاف پاکستانی فوج نے ایک بار پھر آپریشن کا آغاز کردیا ہے۔ صوبائی وزارتِ داخلہ کی منظوری کے بعد ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق باجوڑ کے کچھ علاقوں میں 12 جبکہ بعض میں 72 گھنٹوں کے لیے عوامی نقل و حرکت پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ پابندی کے دوران گھروں میں رہیں، بصورتِ دیگر کسی بھی ناخوشگوار واقعے کے وہ خود ذمہ دار ہوں گے۔

مقامی صحافی بلال یاسر نے تاشقند اردو کو بتایا کہ “آپریشن کا آغاز ہوتے ہی مختلف فوجی چھاؤنیوں سے مارٹر گولے برسائے جا رہے ہیں اور اہداف کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ گھروں میں محدود ہونے کی وجہ سے زمینی کارروائی کے بارے میں کوئی معلومات موجود نہیں۔”

باجوڑ میں ہزاروں افراد اس وقت عارضی کیمپوں میں مقیم ہیں جبکہ کئی خاندان نقل مکانی پر مجبور ہو چکے ہیں۔ بلال یاسر نے بتایا کہ “رات دو بجے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اعلامیہ سامنے آیا، جس کے بعد لوگ ضروری انتظامات کے بغیر گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے۔ صبح نکلنے کی کوشش کی گئی لیکن آمد و رفت کے تمام ذرائع منظر سے غائب تھے۔”

انہوں نے کہا کہ “عارضی کیمپوں میں بھی خوراک، پانی اور بجلی سمیت کئی مسائل ہیں۔ صوبائی حکومت نے ضلعی انتظامیہ کو چند کیمپوں کے سوا کچھ نہیں دیا۔”

جماعتِ اسلامی کے فلاحی ادارے الخدمت فاؤنڈیشن نے پہلے روز سے باجوڑ کے تین مقامات پر امدادی کیمپ قائم کیے ہیں، جن میں لوگوں کو خوراک اور صحت جیسی بنیادی سہولیات دی جا رہی ہیں، جبکہ نقل مکانی کرنے والے افراد کی رجسٹریشن بھی کی گئی ہے۔

صدر الخدمت فاؤنڈیشن باجوڑ شیرزادہ قاصر نے تاشقند اردو کو بتایا کہ “مذاکرات سے پہلے آپریشن کے دوران ہم نے 22 سو خاندانوں کا اندراج کیا تھا۔ جرگہ مذاکرات کے نتیجے میں جنگ بندی کے دوران یہ تعداد کم ہوگئی تھی، لیکن گزشتہ دو دنوں سے یہ دگنی ہوگئی ہے۔ روزانہ ہزاروں افراد نقل مکانی پر مجبور ہو رہے ہیں۔”

ان کے مطابق کیمپوں کی صورتِ حال بھی نہایت ابتر ہے۔ جگہ جگہ اسکولوں کو خالی کر کے ان میں شہریوں کو رکھا گیا ہے۔ اس غیر یقینی صورتِ حال میں لوگ اندراج کی طرف دھیان نہیں دیتے۔

امن جرگہ کے رہنما صاحبزادہ ہارون الرشید نے مطالبہ کیا ہے کہ ‘راتوں رات نافذ کی گئی کرفیو کو فوری طور پر واپس لیا جائے تاکہ محصور عوام محفوظ مقامات تک پہنچ سکیں۔ عوام کو حفاظتی اقدامات کے لیے موقع ملنا چاہیے۔ اگر موجودہ حالات کے پیش نظر خدا نخواستہ عوام کو نقصان پہنچایا گیا تو ہم سب عوام کے ساتھ سڑکوں پر ہوں گے۔’

اس سے پہلے 29 جولائی کو سیکیورٹی فورسز کی جانب سے باجوڑ کے 16 مقامات پر تین دن کے لیے ‘آپریشن سربکف’ کا آغاز ہوا تھا، جس میں مقامی آبادی کو نقصان پہنچنے کی صورت میں باجوڑ کے عوام نے ہاتھوں میں قرآن اٹھائے عمری چوک میں آپریشن کے خاتمے کے لیے دھرنا دیا تھا۔

بلال یاسر کے مطابق اس کارروائی کے پہلے دن تین شہری شہید ہوئے اور کئی افراد زخمی بھی ہوئے، جبکہ سیکیورٹی فورسز کے قریب سمجھے جانے والے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) ہینڈل کے مطابق آپریشن میں دہشت گردوں کے ٹھکانے اور پناہ گاہیں تباہ کی گئیں جبکہ تقریباً 17 دہشت گرد ہلاک کیے گئے۔

امن و امان کی بگڑتی ہوئی اس صورتِ حال کے پیش نظر یکم اگست کو باجوڑ کے سیاسی اور مقامی عمائدین نے جماعتِ اسلامی کے رہنما صاحبزادہ ہارون الرشید کی قیادت میں 24 ارکان پر مشتمل جرگہ تشکیل دیتے ہوئے فریقین کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ شروع کیا۔ اس دوران جرگہ نے طالبان کے ساتھ مذاکرات کے سات دور مکمل کیے جبکہ وزیرِ اعلیٰ علی امین گنڈاپور سمیت عسکری قیادت سے ملاقاتیں بھی کیں۔ تاہم، مذاکرات کا کوئی خاطر خواہ نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔

بلال یاسر سمجھتے ہیں کہ “جرگہ کو دونوں فریقین کی طرف سے اختیارات نہیں دیے جا رہے تھے، جو اپنے تئیں معاملات کو ٹھیک کرنے کی کوششوں میں مصروف تھا۔ دونوں طاقتور فریقین میں ایک کسی بات پر آمادہ ہوتا، تو دوسرا انکار کر لیتا۔ اس وجہ سے جرگہ نے ان کے درمیان سے نکلنے کا فیصلہ کیا۔”

Author

اپنا تبصرہ لکھیں