خسرہ کے بعد اب کون سی بیماریاں سر اٹھا رہی ہیں؟ ایک تحقیقی جائزہ

دنیا بھر میں حالیہ عرصے کے دوران خسرہ کے بڑھتے ہوئے کیسز نے صحت کے ماہرین اور حکومتوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے، تاہم حقیقت یہ ہے کہ خسرہ واحد بیماری نہیں جس سے ویکسین کے ذریعے بچاؤ ممکن ہے اور جو دوبارہ خبروں کا حصہ بن رہی ہے۔ متعدد ایسی بیماریاں بھی سامنے آ رہی ہیں جنہیں ماضی میں ویکسین کی بدولت بڑی حد تک قابو میں کر لیا گیا تھا، مگر اب مختلف وجوہات کی بنا پر ان کے کیسز میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

ماہرین صحت کے مطابق دنیا کے کئی خطوں میں خسرہ کے ساتھ ساتھ پولیو، ڈفتھیریا، کالی کھانسی (پرٹوسس) اور روبیلا جیسی بیماریاں بھی دوبارہ سر اٹھا رہی ہیں۔ عالمی ادارۂ صحت کے اندازوں کے مطابق گزشتہ چند برسوں میں معمول کی ویکسینیشن میں کمی کے باعث لاکھوں بچے حفاظتی ٹیکوں سے محروم رہ گئے ہیں، جس کے نتیجے میں ایسی بیماریوں کے پھیلاؤ کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

تحقیقی رپورٹس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ COVID-19 وبا کے دوران صحت کے نظام پر پڑنے والے دباؤ، لاک ڈاؤنز اور طبی سہولیات تک محدود رسائی نے ویکسینیشن پروگرامز کو متاثر کیا۔ اس دوران کئی ممالک میں بچوں کی معمول کی ویکسینیشن میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے اثرات اب سامنے آ رہے ہیں۔

اس کے علاوہ سوشل میڈیا پر پھیلنے والی غلط معلومات اور ویکسین سے متعلق خدشات بھی ایک اہم مسئلہ بن چکے ہیں۔ بعض معاشروں میں ویکسین کے بارے میں شکوک و شبہات نے والدین کو اپنے بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگوانے سے روک دیا ہے، جس کے باعث کمیونٹی کی سطح پر بیماریوں کے خلاف اجتماعی تحفظ کمزور پڑ رہا ہے۔

صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ویکسینیشن کی شرح میں فوری طور پر اضافہ نہ کیا گیا تو خسرہ سمیت دیگر قابلِ انسداد بیماریاں بڑے پیمانے پر پھیل سکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی ادارۂ صحت اور مختلف ممالک کی حکومتیں ویکسینیشن مہمات کو دوبارہ تیز کرنے اور عوام میں آگاہی بڑھانے پر زور دے رہی ہیں۔

مختصراً، خسرہ کے بڑھتے ہوئے کیسز ایک انتباہ ہیں کہ ویکسین سے بچاؤ ممکن بیماریوں کے خلاف حاصل کی گئی کامیابیاں مستقل نہیں ہوتیں۔ اگر حفاظتی ٹیکوں کے پروگرام کو مضبوط نہ رکھا جائے تو وہ بیماریاں جو کبھی تقریباً ختم ہو چکی تھیں، دوبارہ عالمی صحت کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں