پاکستان سے تعلق رکھنے والی نوبیل امن انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی نے کہا ہے کہ ایران میں جاری احتجاجی مظاہروں کو لڑکیوں اور خواتین پر عائد طویل عرصے سے نافذ ریاستی پابندیوں سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔
ایکس پر جاری کیے گئے اپنے پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ یہ پابندیاں تعلیم سمیت عوامی زندگی کے ہر شعبے میں خواتین کی خودمختاری کو محدود کرتی ہیں۔ ایرانی لڑکیاں بھی دنیا بھر کی دیگر لڑکیوں کی طرح باعزت زندگی کا مطالبہ کر رہی ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایرانی عوام طویل عرصے سے ان جابرانہ اقدامات کے خلاف خبردار کرتے آ رہے ہیں، تاہم ان کی آواز کو دہائیوں سے دبایا جاتا رہا ہے۔ یہ پابندیاں ایک وسیع نظام کا حصہ ہیں جس میں صنفی تفریق، نگرانی اور سزا کے ذریعے کنٹرول کیا جاتا ہے، جو نہ صرف تعلیمی اداروں بلکہ مجموعی طور پر آزادی، انتخاب اور تحفظ کو متاثر کرتا ہے۔
ملالہ نے مزید کہا کہ مظاہرین کی آواز سنی جائے اور انہیں اپنے سیاسی مستقبل کا تعین کرنے کا حق دیا جائے۔ ان کے مطابق ایران کا مستقبل صرف اور صرف ایرانی عوام کو طے کرنا چاہیے، جس میں خواتین اور لڑکیوں کی قیادت بھی شامل ہو، نہ کہ کسی بیرونی طاقت یا جابرانہ نظام کی مداخلت ہو۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم آزادی اور وقار کے لیے کھڑے مظاہرین کے ساتھ ہیں، وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کا حق رکھتے ہیں