امریکہ نے جنوری 2026 میں وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو ان کے گھر سے فوجی کاروائی کے ذریعے گرفتار کرکے نیویارک منتقل کیا، یہ واقعہ بین الاقوامی قانون اور چھوٹے ممالک کی خودمختاری کے لیے ایک خطرناک نظیر ثابت ہو رہا ہے۔
مادورو کے بیٹے نے خبردار کیا کہ اگر کسی ملک کے سربراہ کے اغوا کو معمول بنا دیا گیا تو کوئی بھی ملک محفوظ نہیں رہے گا۔ یہ کاروائی چھوٹے ممالک کو یہ پیغام دیتی ہے کہ بڑی طاقتیں بین الاقوامی قانون سے بالاتر ہیں اور اپنے مفادات کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتی ہیں۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے بھی اس کاروائی کو خطرناک نظیر قرار دیا، جبکہ کولمبیا اور فرانس جیسے امریکی اتحادیوں نے بھی تشویش کا اظہار کیا۔ لاطینی امریکہ کے چھوٹے ممالک کو اب اپنی خودمختاری کے بارے میں شدید خدشات ہیں۔
چین نے وینزویلا پر امریکی کاروائی کو بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے شدید الفاظ میں مذمت کی، لیکن حقیقت میں چین کا رد عمل انتہائی محدود رہا۔
چین نے صرف سفارتی احتجاج تک اپنے آپ کو محدود رکھا اور کوئی عملی اقدام نہیں کیا۔ یہ خاموشی بہت کچھ کہتی ہے۔ چین کے لیے وینزویلا کی معاشی اہمیت محدود ہے کیونکہ وینزویلا کا تیل چین کی کل تیل درآمدات کا صرف دو فیصد ہے۔
چین کی اس غیر موثر حمایت سے دوسرے چھوٹے ممالک کو یہ سبق ملے گا کہ بڑی طاقتوں سے اتحاد صرف کاغذی ہوتے ہیں۔ چین نے وینزویلا کے ساتھ اپنے تعلقات کو برقرار رکھنے کا اعلان کیا لیکن کوئی ٹھوس اقدام نہیں کیا۔ یہ رویہ ایران، شمالی کوریا اور دیگر ممالک کو چین پر کم انحصار کرنے کی ترغیب دے سکتا ہے۔
تاہم، چین اس واقعے کو اپنے فائدے میں استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ خود کو بین الاقوامی قانون کا محافظ ظاہر کرے، جبکہ امریکہ کو غنڈہ گردی کرنے والی طاقت کے طور پر پیش کرے۔
امریکہ نے شمالی بحر اوقیانوس میں ہفتوں کے تعاقب کے بعد روسی پرچم والے تیل بردار جہاز مارینیرا کو قبضے میں لے لیا۔ روس نے اسے بین الاقوامی بحری قانون کی خلاف ورزی قرار دیا۔
روس کے پاس محدود اختیارات ہیں۔ روس یوکرین میں جنگ میں الجھا ہوا ہے اور براہ راست امریکہ سے ٹکراؤ کی استطاعت نہیں رکھتا۔ تاہم وہ ہائبرڈ جنگ کو تیز کر سکتا ہے، سائبر حملے بڑھا سکتا ہے، یا نیٹو ممالک کے خلاف خفیہ کارروائیاں کر سکتا ہے۔ طویل مدتی حکمت عملی کے طور پر روس چین اور ایران کے ساتھ اپنے اتحاد کو مزید مضبوط بنا سکتا ہے اور "سایہ بحری بیڑے” (shadow fleet) کو مزید توسیع دے سکتا ہے۔
جون 2025 میں اسرائیل اور ایران کے درمیان 12 روزہ جنگ ہوئی جس میں اسرائیل نے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کیے۔ اب اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو نے صدر ٹرمپ سے ملاقات میں ایران پر دوبارہ حملے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا۔
اسرائیلی ذرائع کے مطابق ایران اپنی میزائل صلاحیت دوبارہ بنا رہا ہے اور اس نے جون کی جنگ میں 3000 میزائلوں میں سے 1500 کھو دیے تھے۔ امریکی انٹیلیجنس کا کہنا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کو مہینوں پیچھے دھکیل دیا گیا ہے، لیکن یہ مستقل حل نہیں۔
کوئی بھی نئی جنگ تباہ کن ہوگی۔ ایران اندرونی بحران کا شکار ہے، معیشت تباہ ہو رہی ہے، پانی کا شدید بحران ہے، اور سپریم لیڈر کی عمر 86 سال ہے۔ ایسے حالات میں جنگ پورے خطے کو دہکا سکتی ہے۔
کونسل آن فارن ریلیشنز کی 2026 کی رپورٹ کے مطابق دنیا میں تنازعات کا خطرہ کسی بھی وقت سے زیادہ ہے۔ یوریشیا گروپ نے 2026 کو ایک "ٹِپنگ پوائنٹ” کا سال قرار دیا ہے۔
تیسری جنگ عظیم کے خدشات کے متعلق ماہرین نے 2026 تک بڑے پیمانے پر عالمی تنازع کا خطرہ 20-30 فیصد تک بتایا ہے۔ اگرچہ یہ ابھی ناگزیر نہیں، لیکن حالات پہلی اور دوسری جنگ عظیم سے پہلے کے دور سے مماثلت رکھتے ہیں۔
خطرناک عوامل میں
کثیر قطبی دنیا کا ابھرنا (امریکہ، چین، روس)
اتحادوں کی نئی تشکیل
معاشی عدم استحکام
قوم پرستی میں اضافہ
جوہری ہتھیاروں کی دوڑ
ماہرین کا کہنا ہے کہ 2026 ایک ایسا سال ہو سکتا ہے جب یورپ میں بڑے پیمانے پر جنگ کا غیر معمولی خطرہ ہو۔
وینزویلا کی کارروائی نے بین الاقوامی نظام میں خلا پیدا کر دیا ہے۔ چھوٹے ممالک کو احساس ہو گیا ہے کہ بڑی طاقتوں کی حمایت ناکافی ہے۔ چین کی کمزور حمایت نے یہ ثابت کیا کہ معاشی مفادات سیاسی وفاداری سے بڑھ کر ہیں۔ روس کو اپنی توانائی زیادہ تر یوکرین میں لگانی ہوگی۔ اسرائیل-ایران کشیدگی پورے مشرق وسطیٰ کو دہکا سکتی ہے۔
تیسری عالمی جنگ فوری طور پر شروع نہیں ہو رہی، لیکن دنیا بے شک ایک انتہائی خطرناک موڑ پر ہے۔ ایک غلط فیصلہ، ایک حادثہ، یا ایک غلط فہمی کافی ہو سکتی ہے عالمی تباہی کے لیے۔