ہم میں سے ہرآدم زاد نے اپنے اپنے نظریات کی بنیاد پرجنت یاجہنم میں جانا ہے۔آج بھی انسانوں کی ایک بڑی تعداد نظریات جبکہ دنیا بھر کے ”اربوں“ لوگ”اربوں“ یعنی مالیات کے اسیر ہیں۔دین فطرت اسلام سمیت متعدد ادیان کے باوجودجس کاکوئی”نظریہ“ نہ ہواس کی کوئی”نظیر“ نہیں دیتا۔آج مادی ترقی کیلئے مادہ پرست انسان انسانیت کوروندرہے ہیں۔فطرت کیخلاف مزاحمت اورقانون قدرت میں بیجا مداخلت کے نتیجہ میں نام نہاد سپرپاورامریکہ کی سرخ وسپیدحکمران اشرافیہ کے سیاہ چہروں سے نقاب اتر گیاہے۔جوانسانیت اوراخلاقیات کے علمبرداربنے پھرتے تھے وہ آج نجاست اورنحوست کی بندگلی میں کھڑے ہیں۔ہماراوہ مخصوص طبقہ جو مغرب کومہذب اورپاکستان میں اسلام پسندوں کوانتہاپسند کہتا تھا،اب اس کے پاس اپنافتنہ پروربیانیہ سمندربردکرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔یادرکھیں پاکستان سمیت جہاں بھی اِسلامیت کودوام نہیں وہاں انسانیت زندہ نہیں رہ سکتی۔انسان نے ایک ساتھ کئی ملین انسانوں کو موت کے گھاٹ اتارنے کیلئے ایٹم بم توبنالیا لیکن آج بھی موثردوا نہ ہونے سے متعدد مہلک امراض زندہ انسانوں کونگل رہے ہیں۔انسانیت کی بقاء اوربہبود کیلئے مقتدر انسانوں کواپنی خواہشات محدودکرناجبکہ ترجیحات بدلنا ہوں گی۔ایک ریاست کے انسانوں کی ضروریات کیلئے دوسرے ملک کے انسانوں کوناحق مارنا فلسفہ انسانیت سے متصادم ہے۔معدنیات کیلئے بیش قیمت زرعی زمین کوبانجھ بنانااور انسانیت کاخون کرنا جنون کے سوا کچھ نہیں۔
ہمیں ”معدنیا ت“ تویاد ہیں لیکن ہم نے ”دینیات“ کوفراموش کردیا۔اِسلام سمیت کوئی دین بیگناہ انسانوں کے قتل عام کاحامی نہیں ہے۔ جس کسی نے اس عارضی”دنیا“ کیلئے اپنے اپنے ”دین“ کادرس ِانسانیت”فراموش“کیا، مورخ اس کو ایک ضمیر”فروش“ کے طورپریادرکھیں گے۔جہاں تک ہم پاکستانیوں کاتعلق ہے،جس وقت تک ہمارے قلوب میں دوقومی نظریہ ”زندہ“ اوردھڑکتار ہے گا اس وقت تک بزدل دشمن کے ہاتھوں بحیثیت قوم ہماری”مات“ یا”موت“ نہیں ہوسکتی۔ہماری ریاست کودشمن کی جارحیت نہیں بلکہ نام نہاد اپنوں کی منافقت سے خطرہ ہے۔اگرہمارے سیاست کار آپس میں متحد ومستعد اورمادروطن کے ساتھ مخلص ہوتے توآج ہم مقروض اورآنکھیں ہوتے ہوئے نابینا نہ ہوتے۔اگرپاکستان کی حکمران اشرافیہ نے”بصیرت“ سے کام لیا ہوتا توقیدمیں کپتان کی”بصارت“ پر منفی اثر نہ پڑتا۔جس حکمران میں قوت برداشت کے ساتھ ساتھ وسعت قلبی نہ ہووہ ریاست کیلئے ”معقول“،عوام میں ”مقبول“ اورنظام کیلئے قابل ”قبول“ نہیں ہوسکتا۔میں پھرکہتا ہوں اقتدار ہرگز عزت کی علامت یاضمانت نہیں ہوتا، عزت داروہ ہے جودوسروں کوعزت دے۔پاکستان کے پاس مدبر سیاسی قیادت کے سوا قدرت کادیاسب کچھ ہے،بہرکیف قوم کی”دوہائیوں“ سے کئی”دہائیوں“ بعد ناامیدی اورمایوسی کے گہرے اندھیروں میں جوسورج ابھرا تھا اسے ہم نے محض حسد کی بنیاد پر پابندسلاسل کردیاہے۔
ہماری انفرادی واجتماعی”خطاؤں“کے باوجودمہربان قدرت نے اپنی بینظیر ”عطاؤں“ کے قابل سپاس”منصوبوں“ سے ہمار ے چاروں ”صوبوں“ کو بیحد نوازا ہے۔اگربلوچستان کے پہاڑوں میں سونا ہے توپنجاب میں انتھک کسان کی محنت سے ہمارے کھیت کھلیان سونا اگلتے اورہم وطنوں کی غذائی ضروریات کو پورا کرتے ہیں۔شہرقائدؒ سے گوادرتک پھیلے طویل گرم سمندر سے ہماری قومی معیشت سیراب وشاداب ہوتی ہے۔ہماری چاروں ”اکائیاں“ایک دوسرے کو”توانائیاں“فراہم کرتی ہیں توہماراوفاق پھلتا پھولتا ہے۔ہمارے”وفاق“ کی مضبوطی سے خوفزدہ دشمن کاہماری صفوں میں ”نفاق“ پیداکرنااس کی فطرت اورضرورت ہے، دشمن ملک کی باتوں پرکان دھرنے اوراپنی ماں جیسی ریاست کیخلاف ہتھیار اٹھانے والے گمراہ”لوگ“ درحقیقت بہترین معاشرے کیلئے بدترین”روگ“ ہیں۔ دشمن ملک کی ہرسازش وشورس سے ”بیزار“اور”بیدار“ پاکستانیوں نے منافرت اورصوبائیت کا ہرسومنات ضرب غزنوی ؒکے ساتھ پاش پاش کردیا ہے۔سو بہتر ہوگا گمراہ لوگ بھی مزید مجرمانہ سرگرمیوں سے باز رہیں جبکہ ریاستی رِٹ کاپہرہ دیں۔ پنجاب، خیبرپختونخوا،بلوچستان اورسندھ اپنی اپنی منفردخصوصیات کی بنیاد پر ایک دوسرے کیلئے ناگزیر ہیں۔ ان شاء اللہ پاکستان تاابدقائم رہے گا،یہ مستقبل شناس شخصیات کاکہنا ہے سو اس شجرسایہ دار کی چھاؤں سے محرومی کی صورت میں کوئی دھوپ برداشت نہیں کرسکتا۔پاکستان کوئی عام ریاست نہیں،یہ رحمانیت اورسچی روحانیت کامرکز ہے۔یادرکھیں جس طرح سندھ کادشمن پنجاب کادوست نہیں ہوسکتا اس طرح بلوچستان کے بدخواہ عناصرہرگز خیبرپختونخوا کے خیرخواہ نہیں ہوسکتے سو اپنی اپنی مضبوطی کیلئے ایک دوسرے کومضبوط کریں کیونکہ ہردور میں جومضبوط ہوتے ہیں وہ آفات وبلیات اوربیرونی جارحیت سے محفوظ ہوتے ہیں۔یادرکھیں اگرشاطراوربزدل دشمن کو”مہلت“دی جائے تووہ آپ کی سا لمیت کیلئے مزید”مہلک“ہوجاتا ہے لہٰذاء ہرخاص وعام ”آگاہ“ رہے ہمارا محبوب پاکستان ہماری محفوظ”پناہ گاہ“ ہے،اس کاکوئی دشمن ہم میں سے کسی کادوست نہیں ہوسکتا۔ہمارے جوجانثارمحافظ مادروطن کی حفاظت پرمامور ہیں،آپ اُنہیں اپنی دعاؤں اوروفاؤں کامحور بنائے رکھیں۔نظریاتی محاذ پرپاکستان اورافواج پاکستان کابھرپوردفاع کریں۔ہماری محبوب افواج پاکستان کاکوئی بھی دشمن ہمارے جان سے پیارے پاکستان اورپاکستانیوں کے ساتھ مخلص نہیں ہوسکتا۔
ہمارا بدترین دشمن زہریلے پروپیگنڈے کے زور پر ہم چاربھائیوں (چاروں صوبوں) کو ایک دوسرے سے خفاء اور جدا کرکے باری باری ہربھائی کو شدید نقصان پہنچانا اورہمارا وجودصفحہ ہستی سے مٹاناچاہتا ہے لہٰذاء چاروں بھائی کسی قیمت پرایک دوسرے کا”ہاتھ“ اور”ساتھ“نہ چھوڑیں۔جس دن پاکستانیوں سمیت مسلمانوں نے اللہ ربّ العزت کی رسی کومضبوطی سے تھام لیا اس روز قدرت کسی کافرریاست کی رسی کومزید ڈھیل نہیں دے گی۔عربوں سمیت دنیا بھر کے مسلمانوں کا باہمی”اتحاد“ بھی کفار کیخلاف بہترین اورکامیاب ”جہاد“ تصور ہوگا۔اِدھرہرے بھرے اسلام آباد کوچاروں صوبوں سے مسلسل تازہ ہوا آ نے دیں،اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ”اِسلام“کے دوام کیلئے”اِسلام آباد“ کااستحکام یقینی بناناہوگا۔ ”وفاقی“حکومت کی ”اصلاح“اورعوام کی اجتماعی ”فلاح“کیلئے جائز اورتعمیری تنقید کرناہر کسی کاسیاسی حق ہے لیکن کوئی سیاسی جماعت یاشخصیت ”وفاق“ پرحملے کااستحقاق نہیں رکھتی۔جو مٹھی بھر گمراہ لوگ مرکز گریز سیاست کرتے تھے ریاست کے راست”اقدام“ اور عوام کے سیاسی ”انتقام“نے انہیں قصہ پارینہ بنادیا ہے،آئندہ بھی جوسیاسی کردار اس بندگلی میں گیا اس کی سیاست کاسیاہ باب مستقل بنیادوں پر بندہوجائے گا۔پاکستان میں ہراس سیاستدان کاسیاسی مستقبل روشن اورتابناک ہے جو ہماری دشمن ریاست کے آشیرباد سے چلی ایک’’باریک“ اور”تاریک“ بٹوارہ تحریک کاحصہ نہیں بنا۔
منتقم مزاج مودی راج میں بھارت کے مسلمان ہرقسم کی مذہبی اورسیاسی آزادیوں سے محروم جبکہ ہزاروں کئی کئی برسوں سے ناحق قیدمیں ہیں،وہاں نہتے مسلمانوں کے ساتھ ساتھ تاریخی مساجد کوبھی شہیدکیاجاتا ہے اس کے باوجود پاکستان میں آزاد شہری ہوتے ہوئے جودشمن ریاست کواپنا نجات دہندہ سمجھتا اوراس کے اشاروں پراچھلتا ہے اس سے بڑا کوئی بدنسل اوربدبخت نہیں ہوسکتا۔بنگلہ دیش میں جوعناصرکئی دہائیوں سے بھارت کے بھگت بنے ہوئے تھے،حالیہ عوامی مزاحمت سے ان کی سیاست کاجنازہ اٹھ گیاہے۔بنگلہ دیش کے حالیہ انتخابات میں بھارت ”نوازوں“ کی ”آوازوں“پرکسی نے کان نہیں دھرے۔ماضی میں پاکستان اوربرادراسلامی ریاست بنگلہ دیش کے درمیان جو دراڑ پیداہوگئی تھی،اب دونوں طرف کی سیاسی قیادت کے درست اوردوررس ”فیصلے“ وہ ”فاصلے“ مٹاسکتے ہیں۔ہمارے بنگالی بھائیوں اوربہنوں کی طرح اب پاکستان کے باشعور عوام بھی بھارت کے کسی”بھگت“ کی”آؤ بھگت“ نہیں کرینگے۔پاکستان میں دشمن ملک کاکوئی ”بھگت“اب عوامی غضب کونہیں ” بھُگت“ سکتا۔بلوچستان کے دانااورتوانا ”بلوچ“عوام کی”سوچ“ کامحور پاکستان ہے،طاقتوراورخوددار’’پشتون“ بھی پاکستان اورافواج پاکستان کے”پشت بان“ ہیں۔سوہمارے سرفروش فوجی جانبازوں کے ہاتھوں پاک سرزمین سے ناپاک فتنہ الہند خوارج کاسوفیصدصفایاخارج ازامکان نہیں۔پاک فوج آئندہ بھی پاکستان اورپاکستانیوں کے اعتماد پرپوراترے گی۔