یہ تقریبا 55 سال پہلے کی بات ہے جب مردان سے تعلق رکھنے والی حمیدہ کا خاندان بغدادی بازار کے آس پاس ہنسی خوشی اپنی زندگی کے ایام بسر کر رہا تھا۔ حمیدہ کےوالد کا نام نور خان اور والدہ کا نام ناز بی بی تھا۔بغدادی بازار کے قریب ہی اسی زمانے میں ایک پل کے سائے میں حمیدہ کے والد ،بھائی یار محمد اور حسین بخش اینٹوں کی بھٹی میں کام کرنے جایا کرتے تھے۔ حمیدہ کی دو بہنیں بھی تھی۔ ایک کا نام سانگہ اور دوسری کا نام مجانہ تھا۔
حمیدہ کی ایک بہن سانگہ خیبرپختونخوا کے علاقے درگئی بیاہی گئی تھی۔ ایک روز حمیدہ کا ان کے ہاں جانا ہوا لیکن یہ گویا جدائی قسمت کا پیش خیمہ تھا۔ درگئی کے مقام پر ہی گلزار نامی شخص نے بیوی کے ساتھ مل کر حمیدہ کو اغواء کرکے بیچ دیا۔ حمیدہ یوں ہی ہاتھ در ہاتھ فروخت ہوتی گئی اور سندھ کے علاقے شکار پور تک جا پہنچی۔ یہاں حمیدہ کے خریدار نے ان کے ساتھ شادی کی اور اپنوں کے بغیر ان کی زندگی کا ایک نیا باب شروع ہوا۔
دہائیاں گزر گئیں، کئی نشیب اور فراز آئے حتی کہ حمیدہ پشتو بھول گئیں اور سندھی زبان میں مخاطب کرنے لگیں مگر اپنوں کی جدائی کا غم برابر ستائے جا رہا تھا۔ اتنے عرصے بعد بھی انہوں نے اپنوں کی یاد دل میں جگائے رکھی اور اسی لگن نے انہیں اپنوں تک پہنچانے کا سامان فراہم کردیا۔
سماجی کارکن اور درس و تدریس کے شعبہ سے وابستہ ولی اللہ معروف گزشتہ سات سالوں سے ٹوٹے دلوں کو جوڑ رہے ہیں اور بچھڑوں کو اپنوں تک پہنچارہے ہیں۔ ولی اللہ نے اب تک حمیدہ جیسی 180 خواتین کو اپنوں سے ملایا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ حمیدہ کے بیٹے نے ماں کی پکار پر سندھ کے دیہات سے ولی اللہ معروف سے رابطہ کیا اور اپنی ماں کی داستاں پہنچائی۔
ولی اللہ نے تاشقند اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ’ حمیدہ کے بیٹے نے گزشتہ روز مجھ سے رابطہ کیا اور اپنی ماں کی روداد سنائی کہ اس طرح میری ماں تقریبا 55 سال قبل اغواء ہوئی تھی اور یہاں لائی گئی تھی۔ اب ہم نے ان کے خاندان کو ڈھونڈنا ہے’۔
ولی اللہ معروف کہتے ہیں کہ’ میں نے اس کے بعد حمیدہ سے گفتگو کی لیکن وہ زیادہ تر بات سندھی زبان میں کرتی ہیں۔ پشتو کے چند ہی جوابی کلمات انہیں زبانی یاد ہیں جیسا کہ “وہ نہیں ہے” ،” وہ مرگیا”۔
‘میں نے ان سے ساری معلومات جمع کیں۔ مجھے بتایا گیا کہ مردان میں بغدادی بازار کے قریب ان کے والدین، چچا اور بھائی سارے اینٹوں کی بھٹی میں کام کرتے تھے’۔
ولی اللہ کے مطابق مردان سے متعلق حمیدہ سے حاصل ہونے والی معلومات ناکافی تھی جبکہ آج سے پانچ چھ سال قبل انہوں نے بیٹے کے ساتھ جا کر مردان میں اپنے تئیں اپنوں کو ڈھونڈنے کی کوشش بھی کی تھی۔ وہاں حمیدہ نے بیٹے سمیت چھ دن گزاریں لیکن علاقے کی ساخت مکمل تبدیل ہوچکی تھی اور کوئی پہنچاننے والا نہیں تھا۔
انہوں نے بتایا کہ ‘اس کے بعد میں نے درگئی میں موجود حمیدہ کی بہن ، بہنوئی اور بھانجوں کے نام دریافت کیے ۔ حمیدہ نے بہن کا نام سانگہ اور بہنوئی کا نام نذیر بتایا جو چارپائی بنانے کا کام کرتے تھے۔ اپنے بھانجے شیر افضل کا نام بھی انہیں یاد تھا لیکن بھانجیوں کے نام یاد نہیں تھے’۔
“یہ ساری معلومات جمع کرنے کے بعد میں نے سوشل میڈیا پر پوسٹ لگائی جو خوب وائرل ہوئی۔ خیبرپختونخوا میں بالخصوص اور پورے پاکستان میں بالعموم اس کیس کو بڑے پیمانے پر شیئر کیا گیا”۔
ولی للہ معروف کا کہنا ہے کہ ‘ پوسٹ کرنے کے سات گھنٹے بعد حمیدہ کے چچا زاد بھائی کے بیٹے نے مردان کی تحصیل تخت بھائی سے مجھ سے رابطہ کیا۔ انہوں نے ایک دوست کے وال پر میری پوسٹ دیکھی ۔ پوسٹ دیکھنے کے بعد وہ ایک لمحے کے رکا کہ شاید یہ ان کی چچی مجانہ (حمیدہ کی بہن)ہیں،کیونکہ ان دونوں کی شکلیں آپس میں ملتی ہیں لیکن پوری پوسٹ دیکھنے کے بعداسے معلوم ہوا کہ یہ تو پچاس سال قبل گم ہونے والی حمیدہ ہیں’۔
یوں حمیدہ کی باقی رہنے والے اپنوں تک پہنچنے کی راہیں روشن ہوگئی۔ ولی اللہ معروف کہتے ہیں کہ میں نے ان سے عنقریب ملنے جانا ہے اور پھر ان کے خاندان سے ملاقات کا پلان ترتیب دینا ہے۔