پاکستان ، ہمیشہ زندہ باد

جب سے مذاکرات کی بات شروع ہوئی ہے اور پاکستان کامیاب ہوتا دکھائی دے رہا ہے ، جین زی کےکچھ مقامی میوے باؤلے سے ہو گئے ہیں ۔ یہ اب قطر کی مثالیں دے کر سوال اٹھا رہے ہیں کہ قطر بھی تو مذاکرات کرواتا تھا ، اب پاکستان نے کروا لیے تو ایسا کیا ہو گیا جس پر اتنی خوشی منائی جا رہی ہے ۔ یہ بانوے کے ورلڈ کپ کی وکٹوں جیسی نازک انگلیاں نچا نچا کر یہ بھی کہتے ہیں کہ قطر تو خاموشی سے اور باوقار طریقے سے مذاکرات کراتا تھا ، ہم نے بلاوجہ ہی اتنی خوشیاں منانا شروع کر دی ہیں ۔ یہ دبستان ڈی چوک کے وہ ادبی واؤ معدولے ہیں جن کے کانوں میں پاکستان ہمیشہ زندہ بار کا نعرہ گھس جائے تو یہ باقاعدہ لغتی دولتیاں مارنا شروع کر دیتے کہ یہاں "ہمیشہ” کا لفظ غیر ضروری ہے ۔ اس گروہِ ناز کے وجود میں امڈتے آتش فشاؤں سے قطع نظر ، آئیے دیکھتے ہیں کہ جنگ کے پہلے مرحلے کے بعد کون کہاں کھڑا ہے؟ پاکستان کہاں کھڑا ہے ، امریکہ ، اسرائیل اور ایران کہاں کھڑے ہیں ، ان میں سے کس کا پلڑا بھاری ہے اور یہ کہ چین اور روس کدھر ہیں اور کیا کر رہے ہیں۔

پاکستان سے شروع کرتے ہیں ۔ پہلا سوال یہ ہے کہ مذاکرات ابھی کامیاب ہی نہیں ہوئے بلکہ وہ شروع ہی نہیں ہوئے تو پھر پاکستان ابھی سے اتنا کیوں خوش ہے، کیا اس کا خوش ہونا بنتا ہے ؟ اس سوال کا جواب ہے کہ جی ہاں خوش ہونا بنتا ہے ۔ کیوں بنتا ہے ، اس کی مختصر وجوہات عرض کر دیتا ہوں۔

ایک لمحے کو ہمیں ذرا ماضی میں جانا ہو گا جب ٹرمپ الیکشن میں کامیاب ہوئے ۔ مقامی اور غیر ملکی تجزیہ کاروں میں اس بات پر اتفاق تھا کہ پاکستان اب عالمی برادری میں غیرمتعلق ہو چکا ہے ۔ پاکستان میں جو چند سنجیدہ اہل دانش ہیں وہ مسلسل لکھ رہے تھے کہ پاکستان اب عالمی برادری میں غیر اہم اور غیر متعلق ہو چکا ہے ۔ کچھ نے تو یہاں تک لکھ دیا کہ پاکستان اب دنیا کی ضرورت نہیں بلکہ بوجھ بن چکا ہے۔ تھوڑا ہی وقت گزرا ہےاور اب منظر نامہ بالکل بدل چکا ہے۔ اب پاکستان جنوبی ایشیا میں ہی نہیں ، مشرق وسطی کے معاملات بھی اہم ہو چکا ہے۔ اہم ہی نہیں ہو چکا ، مرکز اور محور بن چکا ہے۔ اب وزیر اعظم پاکستان ٹویٹ کرتا ہے تو ٹرمپ اسے ری ٹویٹ کرتا ہے۔ ان ایران امریکہ جنگ کے مذاکرات ہونے لگتے ہیں تو دنیا پاکستان کی طرف دیکھنے لگتی ہے۔ کیا اس پر خوش نہیں ہونا چاہیے ؟

دوسری بات اس سے بھی اہم ہے۔ پاکستان کی فارن پالیسی کا بنیادی اصول ہے کہ ہم نے چین اور امریکہ کو ساتھ لے کر چلنا ہےا ور اسی طرح سعودیہ سے ہمارا محبت ا ور عقیدت کا رشتہ ہے تو ایران بھی ہمارا بھائی اور پڑوسی ہے ، ہم نے اس سے بھی نہیں بگاڑنی۔ یہ توازن ہم نے ہمیشہ قائم رکھا اورا س کے باوجود قائم رکھا کہ یہ کوئی آسان کام نہیں تھا۔ اس وقت بھی ہماری یہی کوشش تھی کہ کسی طرح یہ جنگ ٹل جائے ۔ ٹرمپ کو نوبل انعام دینے کی تجویز بھی اسی جنگ کو ٹالنے کی ایک کوشش تھی ۔ ورنہ نہ ہم نوبل انعام کے انکل ہیں نہ ہم نے یہ دینا ہوتا ہے۔ یہ صرف ایک سفارتی داؤ تھا۔ وہی عدیم ہاشمی والی بات کہ :
اس نے ہنسی ہنسی میں محبت کی بات کی
میں نے عدیم اس کو مکرنے نہیں دیا

پاکستان نے بھی یہی کیا کہ ٹرمپ ہنسی ہنسی میں امن کی بات کر ہی رہا ہے تو اسے مکرنے نہ دیا جائے اسے نوبل انعام کے لیے تجویز کر کے امن پر پکا کر لیا جائے۔ نوبل انعام پہلے کون سا میرٹ پر ملتا تھا کہ ہم نے ٹرمپ کا نام تجویز کر کے اس کی توہین کر دی۔ یہ پہلے سے ہی مخصوص ایجنڈے کے تحت ملتا ہے ، ہم نے بھی ایک چال چل لی۔ کامیاب ہو سکی یا نہیں اور کس حد تک کامیاب رہی ، یہ وقت بتائے گا ۔ سر دست اتنا جان لیجیے کہ مذکرات پاکستان میں ہو رہے ہیں تو یہ بے سبب نہیں ، کچھ فورگراؤنڈنگ ہوتی ہے تو بات آگے بڑھتی ہے۔

تو پاکستان یہ چاہتا تھا کہ وہ نوبت ہی نہ آئے کہ سعودی عرب اور ایران میں جنگ کی کیفیت پیدا ہو جائے اور پاکستان کو کسی ایک طرف کھڑا ہونا پڑے ۔ اس لیے پاکستان نے پہلے دن سے خیر خواہی دکھائی ۔ بات اگر مذاکرات کی طرف بڑھ گئی ہے کہ تو یہ سب سے زیادہ پاکسستان کی کامیابی ہے۔ جو یہ سمجھتے ہیں کہ خوشیاں صرف ورلڈ کپ جیتنے پر منائی جاتی ہے انہیں کسی اچھے نفسیاتی معالج سے رجوع کرنا چاہیے۔

اب آئیے اگلے سوال کی جانب کہ جنگ کے اس مرحلے تک کون کہاں کھڑا ہے اور کس کا پلڑا بھاری ہے؟ میں تو اس پر مسلسل اپنی رائے دے رہا ہوں کہ ایران کا پلڑا بھاری ہے۔ یہاں اس موضوع پر دلائل کی تکرار مناسب نہیں ہو گی۔ البتہ ابھی برطانوی اخبار انڈی پنڈنٹ میں سام کائلی کا تجزیہ پڑھ رہا تھا ، وہ لکھتے ہیں : ” یہ ایران کی جیت ہے” ۔ ویسے کیا آپ جانتے ہیں یہ صاحب کون ہیں؟ دی انڈیپنڈنٹ کے ورلڈ افیئرز ایڈیٹر ، متعدد ایوارڈز یافتہ صحافی، دستاویزی فلم ساز اور براڈکاسٹر، ہیں۔ تیس سال سے زائد عرصے تک صومالیہ، روانڈا، عراق، افغانستان، اسرائیل اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں پر کام کرنے والے محقق ۔

اب آئیےا س سوال کی جانب کہ چین اور روس کہاں کھڑے ہیں ؟ کیا وہ ایران کا ساتھ دے رہے ہیں ؟ جب یہ جنگ شروع ہوئی تو میں نے اپنے ہر ٹاک شو میں سفارت کاروں سے ایک ہی سوال پوچھا : کیا چین اور روس ایران کا ساتھ دیں گے؟

جواب میں جو بتایا گیا اس کا خلاصہ یہ تھا کہ ضرور دیں گے لیکن پہلے ایران کو یہ ثابت کرنا ہو گا کہ وہ مزاحمت کے قابل ہےاور مزاحمت کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران بھی عراق کی طرح پہلے چند روز میں ہی ٹوٹ کر بکھر گیا تو چین اور روس اس کی جنگ لڑنے نہیں آئیں گے۔ لیکن اگر ایران نے مزاحمت کو طول دے لیا اور کامیابی سے دے لیا تو روس اور چین اس سے لاتعلق نہیں رہیں گے۔

ایران اس مرحلے یعنی اس امتحان میں کامیاب رہا۔ اس نے مزاحمت کی اور کامیابی سے کی۔ اس نے دوسرے ممالک کی طرح ایک کونے میں کھڑے ہو کر مار نہیں کھائی بلکہ آگے بڑھ کر حملے بھی کیے اور آبنائے ہرمز کو بند کر کے ساری دنیا کو بتا دیا کہ جنگ کیا ہوتی ہےاورا س کا ذائقہ کیسا ہوتا ہے۔ چنانچہ اب مشرق وسطی کے امور کے ماہرین یہ لکھ رہے ہیں کہ کویت وٖغیرہ میں امریکہ کے بعض ایسے اڈوں پر بھی حملے ہوئے ہیں جو اڈے نقشوں پر کہیں موجود ہی نہیں تھے ۔ تو وہ کون ہے جس نے ایران کو "پن پوائنٹ ایکوریسی” کے ساتھ بتایا کہ یہاں اڈہ ہے ، یہاں میزائل مارو۔ ایک صاحب لکھتے ہیں : انٹیلی جنس ہی اصل کرنسی ہےا ور پوٹن اسے خرچ کر رہے ہیں "۔

جو لوگ مضامین باندھ رہے تھے کہ ایران کے بعد کس کی باری ہے ، اور چہرے پر معنی خیز مسکراہٹ لا کر پاکستان کی طرف دیکھتے تھے ، انہیں خبر ہو کہ ان کے ممدوح ابھی ایران کی دلدل میں مذاکرات کا سہارا تلاش کر رہے ہیں۔ "ایران کے بعد” کی بات دیوانے کا خوب ہے صاحب۔

ویسے اس کالم کا عنوان کیا ہونا چاہیے ؟ دبستان ڈی چوک کے ادبی نقاد اجازت دیں تو ” پاکستان ہمیشہ زندہ باد” لکھ لوں؟

Author

اپنا تبصرہ لکھیں