مدارس رجسٹریشن کا معاملہ، جمیعت علمائے اسلام نے صدر کے اعتراضات سے متعلق اسپیکر قومی اسمبلی پاکستان کو خط لکھ دیا

پاکستان میں حکومت کی اتحادی جماعت جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سینئیر رہنما اور سینیٹر، کامران مرتضٰی نے مدارس رجسٹریشن بِل پر صدر کے اعتراضات سے متعلق اسپیکر قومی اسمبلی پاکستان، ایاز صادق کو خط لکھ دیا۔.

خط میں لکھا گیا کہ اس بل کے تحت ہی پارلیمنٹ نے دینی مدارس کی رجسٹریشن کی منظوری دی تھی، صدر پاکستان آصف زرداری کی طرف سے اٹھائے گئے اعتراضات کی نقول فراہم کی جائیں۔

خط میں اسپیکر کی جانب سے ان اعتراضات کو ایڈریس کرنے کیلئے کیے گئے اقدامات سے آگاہ کرنے کی بھی درخواست کی گئی ہے۔

خیال رہے کہ دسمبر کے پہلے ہفتے میں صدر پاکستان آصف زرداری نے مدارس رجسٹریشن کا بل اعتراض لگا کر واپس بھجوادیا تھا۔

مدارس رجسٹریشن کا معاملہ ہے کیا؟

2019 میں جب پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت تھی، دینی مدارس کو تعلیمی ادارے سمجھتے ہوئے محکمہ تعلیم کے تحت ریگولیٹ کر دیا گیا تھا۔.

یہ اقدام ایک ایسے وقت میں کیا گیا، جب حکومت کی جانب سے پاکستان کے ہر تعلیمی ادارے کے نصاب کو پرکھنے کے متعلق بات کی گئی۔.

اکتوبر 2024 میں 26ویں آئینی ترمیم کے موقع پر مولانا فضل الرحمن نے اِس وعدے پر حکومت کے ساتھ اتحاد کیا کہ مدارس کی رجسٹریشن “سوسائٹیز رجسٹریشن ایکٹ 1860” کے تحت کی جائے۔.

پی ٹی آئی کی ترمیم سے قبل پاکستان میں دینی مدارس کی رجسٹریشن اسی ایکٹ کے تحت ہوتی تھی، جِس میں دینی مدارس کو ضلعی ڈپٹی. کمشنر کے تحت رجسٹر کیا جاتا تھا اور حکومت کو، مدارس کی فنڈنگ یا نصاب جاننے کا کوئی اختیار حاصل نہیں ہوتا تھا۔.

مدارس رجسٹریشن کا بل جب منظوری کے بعد پاکستان کے صدر آصف علی زرداری تک گیا تو اُس کے بعد اُنہوں نت اعتراض لگا کر واپس بھیج دیا۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں