ہم سب بطور معاشرہ الخدمت فاؤنڈیشن کے مقروض ہیں۔ الخدمت نے وہ قرض اتارے ہیں جو اس پر واجب بھی نہیں تھے۔ رمضان کا آخری عشرہ شروع ہو چکا ہے۔ یہ معاشرہ چاہے تو اس عشرے میں الخدمت فاؤنڈیشن کے کچھ قرض اتار سکتا ہے۔ ہم پر تو یہ واجب بھی ہیں۔
دل پر ہاتھ کر بتائیے، زلزلے، سیلاب اور کرونا تک، کوئی ایسا سانحہ یا آزمائش جو اس قوم پر اتری ہو اور الخدمت سب سے پہلے میدان میں نہ اتری ہو۔ حتی کہ فلسطین کے مقتل میں بھی، یہ الخدمت تھی جو کئی حکومتوں سے بھی پہلے پہنچی۔
الخدمت دیار عشق کی کوہ کنی کا نام ہے۔ پاکستان ہو یا فلسطین، زلزلہ ہو یا سیلاب آئے یہ انسانیت کے گھائل وجود کا اولین مرہم بن جاتی ہے۔ خدمت خلق کے اس مبارک سفر کے راہی اور بھی ہوں گے لیکن یہ الخدمت فاؤنڈیشن ہے جو اس ملک میں مسیحائی کا ہراول دستہ ہے۔
کتنے مقبول گروہ یہاں پھرتے ہیں۔ وہ جنہیں دعوی ہے کہ پنجاب ہماری جاگیر ہے اور ہم نے سیاست کو شرافت کا نیا رنگ دیا ہے۔ وہ جو جذب کی سی کیفیت میں آواز لگاتے ہیں کہ بھٹو زندہ ہے اور اب راج کرے گی خلق خدا، اور وہ جنہیں یہ زعم ہے کہ برصغیر کی تاریخ میں وہ پہلے دیانتدار قائدہیں اور اس دیانت و حسن کے اعجاز سے ان کی مقبولیت کا عالم یہ ہے کہ بلے پر دستخط کر دیں تو کوہ نور بن جائے۔
ان سب کا یہ دعوی ہے کہ ان کا جینامرنا عوام کے لیے ہے۔ ان میں کچھ وہ ہیں جو عوام پر احسان جتاتے ہیں کہ وہ تو شہنشاہوں جیسی زندگی گزار رہے تھے، ان کے پاس تو سب کچھ تھا وہ تو صرف ان غریب غرباء کی فلاح کے لیے سیاست کے سنگ زار میں اترے ۔ لیکن جب اس ملک میں افتاد آن پڑتی ہے تو یہ سب ایسے غائب ہو جاتے ہیں جیسے کبھی تھے ہی نہیں۔
جن کے پاس سارے وسائل ہیں اور اقتدار ہے، ان کی بے نیازی دیکھیے۔ قومی خزانے سے افطار دسترخوان سجے ہیں اور نام وزیر اعلی کا چل رہا ہے۔ آدمی دیکھتا ہےا ور حیران ہو جاتا ہے یہ قومی خزانے کے مہمن ہیں یا مریم نواز صاحبہ کے مہمان ہیں؟ ان کے اخراجات پنجاب حکومت سرکاری خزانے سے دے رہی ہے یا مریم صاحبہ ذاتی طور پر یہ اخراجات برداشت کر رہی ہیں۔
سندھ میں جہاں بھٹو صاحب زندہ ہیں، خدا انہیں سلامت رکھے، شاید اب کسی اور کا زندہ رہنا ضروری نہیں رہا۔ عالی مرتبت قائدین سیلاب زدگان میں جلوہ افروز ہوتے ہیں تو پورے پچاس روپے کے نوٹ تقسیم کرتے پائے جاتے ہیں۔ معلوم نہیں یہ کیسے لوگ ہیں ۔ ان کے دل نہیں پسیجتے اور انہیں خدا کا خوف نہیں آتا؟ وہاں کی غربت کا اندازہ کیجیے کہ پچاس کا یہ نوٹ لینے کے لیے بھی لوگ لپک رہے تھے۔ یہ جینا بھی کوئی جینا ہے۔ یہ بھی کوئی زندگی ہے جو ہمارے لوگ جی رہے ہیں ۔ کون ہے جو ہمارے حصے کی خوشیاں چھین کر مزے کر رہا ہے۔ کون ہے جس نے اس سماج کی روح میں بیڑیاں ڈال رکھی ہیں؟یہ نو آبادیاتی جاگیرداری کا آزار کب ختم ہو گا؟
ٹائیگر فورس کے بھی سہرے کہے جاتے رہے ہیں لیکن یہ وہ رضاکار ہیں جو صرف سوشل میڈیا کی ڈبیا پر پائے جاتے ہیں۔ زمین پر ان کا کوئی وجود نہیں۔
کسی قومی سیاسی جماعت کے ہاں سوشل ورک کا نہ کوئی تصور ہے نہ اس کے لے دستیاب ڈھانچہ۔ باتیں عوام کی کرتے ہیں لیکن جب عوام پر افتاد آن پڑے تو ایسے غائب ہوتے ہیں جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔ محاورہ بہت پرانا ہے لیکن حسب حال ہے ۔ یہ صرف اقتدار کے مال غنیمت پر نظر رکھتے ہیں۔ اقتدار ملتا ہے تو کارندے مناصب پا کر صلہ وصول کرتے ہیں۔ اس اقتدار سے محروم ہو جائیں تو ان کا مزاج یوں برہم ہوتا ہے کہ سر بزم یہ اعلان کرتے ہیں کہ ہمیں اقتدار سے ہٹایا گیا ہے اب فی الوقت کوئی اوورسیز پاکستانی سیلاب زدگان کے لیے فنڈز نہ بھیجے۔
ایسے میں یہ الخدمت ہے جو بے لوث میدان عمل میں ہے۔ اقتدار ان سے اتنا ہی دور ہے جتنا دریا کے ایک کنارے سے دوسرا کنارا ۔ لیکن ان کی خدمت خلق کا طلسم ناز مجروح نہیں ہوتا۔ سچ پوچھیے کبھی کبھی تو حیرتیں تھام لیتی ہیں کہ یہ کیسے لوگ ہیں۔ حکومت اہل دربار میں خلعتیں بانٹتی ہے اور دربار کے کوزہ گروں کو صدارتی ایوارڈ دیے جاتے ہیں۔ اقتدار کے سینے میں دل اور آنکھ میں حیا ہوتی تو یہ چل کر الخدمت فاؤنڈیشن کے پاس جاتا اور اس کی خدمات کا اعتراف کرتا۔ لیکن ظرف اور اقتدار بھی دریا کے دو کنارے ہیں ۔ شاید سمندر کے۔ایک دوسرے کے جود سے نا آشنا۔
الخدمت فاؤندیشن نے دل جیت لیے ہیں اور یہ آج کا واقعہ نہیں، یہ روز مرہ ہے۔ کسی اضطراری کیفیت میں نہیں ، یہ ہمہ وقت میدان عمل میں ہوتے ہیں اور پوری حکمت عملی اور ساری شفافیت کے ساتھ ۔ جو جب چاہے ان کے اکاؤنٹس چیک کر سکتا ہے۔ یہ کوئی کلٹ نہیں کہ حساب سے بے نیاز ہو، یہ ذمہ داری ہے جہاں محاسبہ ہم رکاب ہوتا ہے۔
آپ دیکھ لیجیے، فلسطین پر قیامت ٹوٹی تو حکومتوں سے پہلے الخدمت وہاں پہنچی۔ ملک میں سیلاب آئے یا کرونا، سب سے پہلے الخدمت میدان میں ہوتی ہے۔
مجھے کہنے دیجیے کہ الخدمت فاؤنڈیشن نے وہ قرض اتارے ہیں جو واجب بھی نہیں تھے ۔ میں ہمیشہ جماعت اسلامی کا ناقد رہا ہوں لیکن اس میں کیا کلام ہے کہ یہ سماج الخدمت فاؤنڈیشن کا مقروض ہے ۔ سیدنا مسیح کے الفاظ مستعار لوں تو یہ لوگ زمین کا نمک ہیں۔ یہ ہم میں سے ہیں لیکن یہ ہم سے مختلف ہیں ۔ یہ ہم سے بہتر ہیں۔ ہمارے پاس دعا کے سوا انہیں دینے کو بھی کچھ نہیں، ان کا انعام یقینا ان کے پروردگار کے پاس ہو گا۔
لیکن رمضان کے آخری عشرے میں، ہم اگر چاہیں تو الخدمت کا کچھ قرض ضرر اتار سکتے ہیں۔