اسلام آباد میں وکلا نے معروف وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کی گرفتاری اور سزا کے خلاف پیر کے روز تین روزہ ہڑتال کا آغاز کر دیا، جس کے باعث وفاقی دارالحکومت میں عدالتوں میں معمول کی عدالتی کارروائیاں بری طرح متاثر ہوئیں اور بیشتر سماعتیں ملتوی کر دی گئیں۔
اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے وکلا کو ہدایت دی گئی کہ وہ عدالتی کارروائیوں کا بائیکاٹ کریں۔ بار کے سیکریٹری منظور ججہ نے کہا کہ وکلا پولیس کے مبینہ ظلم کے خلاف متحد ہیں اور اس صورتحال پر خاموش نہیں رہ سکتے۔ ان کے مطابق وکلا کی جانب سے عدالتوں میں پیش نہ ہونے کا فیصلہ اجتماعی طور پر کیا گیا ہے۔
ہڑتال کے دوران وکلا نے ریلی کی صورت میں احتجاج کیا، جو ڈپٹی کمشنر آفس سے شروع ہو کر ایس ایس پی آفس تک پہنچی۔ اس موقع پر وکلا نے پولیس کے خلاف نعرے لگائے اور بعد ازاں احتجاج ضلعی جوڈیشل کمپلیکس پہنچ کر اختتام پذیر ہوا۔
اسلام آباد بار ایسوسی ایشن نے عدالتوں میں پولیس کے داخلے پر پابندی عائد کر دی، جبکہ عدالت کے احاطے میں موجود پولیس اہلکاروں کو بھی وہاں سے ہٹا دیا گیا۔ سیشن کورٹ ایسٹ کے باہر بھی احتجاج کیا گیا، جہاں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے اضافی پولیس تعینات کی گئی۔
وکلا کی ہڑتال کا اثر اسلام آباد ہائی کورٹ میں بھی دیکھنے میں آیا، جہاں ایک سول کیس کی سماعت کے دوران وکیل قیصر عباس گوندل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ وکلا کی گرفتاری کے خلاف ہڑتال جاری ہے، اسی وجہ سے متعلقہ فریقین عدالت میں پیش نہیں ہو سکے۔ چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے گرفتاریوں کی تفصیلات طلب کیں اور سوال کیا کہ کون سے وکلا کو گرفتار کیا گیا ہے۔
وکلا کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو گرفتار کیا گیا ہے، تاہم ہڑتال کے باعث کسی بھی مقدمے میں پیش رفت نہ ہو سکی اور بیشتر سماعتیں ملتوی کر دی گئیں۔
ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو جمعے کے روز اسلام آباد میں اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ ضلعی عدالت جا رہے تھے۔ بعد ازاں انسداد دہشت گردی عدالت نے دونوں کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔