اُن دنوں باجوڑ میں فوجی آپریشن کے باعث ہر طرف خوف و ہراس چھایا ہوا تھا۔ کرفیو کے نفاذ نے نظامِ زندگی کو مفلوج کر کے رکھ دیا تھا۔ انٹرنیٹ کی فراہمی بھی تعطل کا شکار تھی۔ افغان سرحد سے متصل تحصیل لوئی ماموند کے علاقے زگئی میں بائیس سالہ محب اللہ ساڑھے تین بجے کے قریب انٹرنیٹ کی غرض سے گھر کے ساتھ کھیتوں میں ایک پگڈنڈی پر بیٹھے تھے کہ اس دوران وہ ڈرون کا نشانہ بن گئے۔ ان کے جسم کا ساٹھ فیصد حصہ فوری طور پر تباہ ہو گیا۔
محب اللہ کے ایک دوست نے اس وقت ہمیں بتایا تھا کہ ’ان کا جنازہ اتنا آسان نہیں تھا۔ جسم کے ٹکڑوں کو کفن میں سمیٹنا مشکل ہو رہا تھا۔‘
یہ سال 2025 کے وسط میں منظرِ عام پر آنے والی وہ نظر انداز موت تھی، جو خیبرپختونخوا کی متنازع فضا میں بڑھتے ہوئے ڈرون حملوں کی نشاندہی کر رہی تھی۔ اس سال دہشت گرد تنظیموں کی جانب سے بڑے پیمانے پر پُرتشدد حملوں میں ’ڈرون‘ اور ’کواڈکاپٹرز‘ کا استعمال کیا گیا۔
خیبرپختونخوا کے محکمہ انسدادِ دہشت گردی کی جانب سے جاری کی جانے والی سالانہ رپورٹ میں ڈرون حملوں کے اعداد و شمار شامل کیے گئے تو یہ بہت سے لوگوں کے لیے تشویش اور حیرانی کا باعث تھے۔ ان بڑھتے ہوئے ڈرون حملوں کے پیش نظر خیبرپختونخوا پولیس کو جدید ’اینٹی ڈرون سسٹم‘ سے بھی لیس کیا گیا۔
دوسری جانب ان ’ڈرون‘ یا ’کواڈ کاپٹرز‘ حملوں میں عوام کی جانیں بھی ضائع ہوئیں، جن کے اعداد و شمار تاحال کسی سرکاری یا آزاد ذریعے سے سامنے نہیں آئے۔ تاہم محب اللہ کی طرح ایسے کئی واقعات وقتاً فوقتاً سامنے آتے رہے۔
کالعدم تنظیموں کی جانب سے ‘ایئرفورس یونٹس’ کے قیام کا اعلان کیا معنی رکھتا ہے؟
ان بڑھتے ہوئےحملوں کے تناظر میں ایک غیر معمولی پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں سرگرم کالعدم دہشت گرد تنظیموں نے پہلی بار باقاعدہ فضائی شعبے قائم کرنے کا اعلان کیا ۔ دسمبر 2025 کے آخر میں کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان نے اپنی نئی عسکری کابینہ میں ’ایئر فورس‘ قائم کرنے کا اعلان کیا اور اسی طرح کالعدم بی ایل اے نے بھی اپنا پہلا فضائی شعبہ ’قہر‘ متعارف کرایا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فضائی شعبے ریاستی ائیرفورس جیسے نہیں، بلکہ خودکش ڈرون اور کواڈ کاپٹر حملوں کے لیے بنائے گئے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تنظیم صرف قبائلی یا سرحدی علاقوں تک محدود نہیں رہنا چاہتی بلکہ ملک کے نسبتاً آباد اور مرکزی حصوں میں بھی کارروائیوں کی صلاحیت حاصل کرنا چاہتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کے فضائی شعبے ڈرونز کے ذریعے فوجی نقل و حرکت کی نگرانی، چیک پوسٹوں کی جانچ اور اہداف کے تعین میں بھی استعمال ہوتے ہیں۔ دی واچ فلور نامی ایک ادارے نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ ٹی ٹی پی کے اس شعبے میں تقریباً 80 تربیت یافتہ افراد اور 30 ڈرون موجود ہیں، جبکہ مزید 150 ڈرونز کی تیاری جاری ہے۔
علاوہ ازیں، کالعدم ٹی ٹی پی اپنی اعلیٰ قیادت کے اجلاسوں اور خفیہ سرگرمیوں کے دوران ڈرونز کو حفاظتی نگرانی کے لیے بھی استعمال کرتی ہے، تاکہ کسی ممکنہ فوجی آپریشن یا اچانک کارروائی کی صورت میں پیشگی اطلاع مل سکے۔
دوسری جانب 12 فروری کو جاری ہونے والے ایک پیغام میں کالعدم بلوچ لبریشن آرمی نے حالیہ حملوں میں گوادر پورٹ سمیت دیگر مقامات پر اپنے ائیرفورس یونٹ ’قہر‘ کے ذریعے حملوں کا دعویٰ بھی کیا، تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق سامنے نہیں آئی۔ بی ایل اے نے اپنے پیغام میں یہ بھی بتایا ہے کہ وہ اس یونٹ کے ذریعے خفیہ معلومات کے حصول کو ممکن بنائیں گے، جبکہ زمینی صورتحال سے اپنے جنگجوؤں کو آگاہ رکھیں گے۔
ماہرین سمجھتے ہیں کہ ایک ڈرون پر نسبتاً کم خرچ آتا ہے، جبکہ اس میں دہشت گردوں کی ہلاکت کے امکانات بھی کم ہوتے ہیں۔ یہ ایک طرف فدائیت سے اشتہادی نقطۂ نظر کی عکاسی کرتا ہے، جبکہ دوسری طرف عسکریت پسندوں کی جانب سے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی طرف ایک بڑی پیش رفت بھی ہے۔