لاہور پہلی بار آمداور جانا اردو ڈائجسٹ میں

(عامر خاکوانی کی صحافتی یادداشتیں)

میں اپنے کالموں میں بعض اوقات جماعت اسلامی کے لئے قدرے نرم الفاظ استعمال کرتا ہوں ، حالانکہ میں کبھی ایک سکینڈ کے لئے بھی اسلامی جمعیت طلبہ یا جماعت اسلامی کا حصہ نہیں رہا۔ ہولا ہاتھ رکھنے کی کئی اور وجوہات بھی ہیں، مگر ایک دلچسپ وجہ یہ بھی ہے کہ میرا صحافتی کیرئر شروع کرانے میں جماعت اسلامی کا کردار رہا ہے، اِن ڈائریکٹ کردار ، ایسا جو شائد جماعت والے بھی نہیں جانتے۔

یہ نومبر کا مہینہ تھا اور سال تھا انیس سو پچانوے۔ امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمد نے مینار پاکستان لاہور میں ایک آل پاکستان کنونشن کا اعلان کیا۔ تین چار روز تک پورے ملک سے جماعت کے عہدے دار، کارکنان اور حامی اکھٹے ہونے تھے ۔

میں ان دنوں کراچی سے ایل ایل بی کی ڈگری لے کر اپنے آبائی شہر احمد پورشرقیہ واپس لوٹ آیا تھا۔ میرے والد مرحوم سینئر ایڈووکیٹ تھے، ان کے کہنے پر ہی ایل ایل بی میں داخلہ لیا تھا، حالانکہ میری گرایجوایشن ڈبل میتھ اور فزکس کے ساتھ تھی ۔ میرے بڑے بھائی بھی وکیل تھےجبکہ ایک بہنوئی اور بعض دیگر قریبی عزیز بھی وکیل تھے۔ ایک طرح سے وکلا کا خاندان تھا۔ والد کا ستمبر بانوے (1992)میں انتقال ہوگیا تھا۔ بڑے بھائی نے ان کا چیمبر اور وکالت سنبھال رکھی تھی۔

مستقبل کے حوالے سے میرا ذہن ابھی واضح اور یکسو نہیں تھا، البتہ یہ طے تھا کہ کسی قسم کی سرکاری نیم سرکاری ملازمت نہیں کرنی اور نہ کاروبار کرنا ہے۔ وکالت اور صحافت دو آپشنز میرے ذہن میں آتی تھیں۔ مجھے بچپن ہی سے لکھنے پڑھنے سے بہت دلچسپی تھی، لا کی تعلیم کے دوران میرے ایک دو کالم جنگ اخبار میں چھپ چکے تھے، خواہش تھی کہ کالم نگار اور تجزیہ نگار بنوں۔ یہ مگر اندازہ ہوچکا تھا کہ باقاعدہ صحافت اختیار کئے بغیر یہ ممکن نہیں تھا۔ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ صحافی کیسے بنا جائے؟

دوسری طرح لا کی ڈگری کے بعد وکالت ہی فطری آپشن بنتی تھی۔ مجھے وکالت ویسے پسند بھی تھی اور دلائل دینا، قانونی کتب پڑھنا اچھا لگتا تھا۔ سسپنس ڈائجسٹ میں مرزا امجد بیگ کی کورٹ روم ڈرامہ کے گرد گھومتی کہانیاں پڑھ کر وکیل بننے کا جی چاہتا تھا۔ تب یہ اندازہ نہیں تھا کہ یہ سب فرضی کہانیاں ہیں۔ کراچی میں ایک عزیزہ کے دیور شہر کے معروف وکیل تھے۔ بعد میں وہ ہائی کورٹ کے جج بھی بن گئے۔ ان کے ساتھ ملاقات میں وعدہ کر آیا تھا کہ ایک بار گھر ہو آئوں، پھر تمام کشتیاں جلا کر کراچی واپس آ کر ان کے ساتھ چیمبر میں بطور جونیئر وکیل کام شروع کر دوں گا۔ تب بارکونسلز کے ضابطے کے مطابق کسی سینئر وکیل کے ساتھ چھ مہینے انٹرن شپ کرنا لازمی تھی، اس کے بعد وکالت کا لائسنس ملتا۔ اب یہ مدت ایک سال ہوگئی اور پہلے ایک امتحان پاس کرنا بھی لازمی ہوگیا ہے۔ میری انٹرن شپ شروع ہوچکی تھی، لائسنس کے لئے فارم بھر کر لاہور بھجوا دیا تھا، چند ماہ میں باقاعدہ وکیل بن جاتا۔

قدرت کو مگر شائد کچھ اور ہی منظور تھا۔ اب ہوتی ہے انٹری جماعت اسلامی کی۔ جماعت کا لاہور میں تین روزہ آل پاکستان کنونشن آ گیا۔ میرے بھائی طاہر ہاشم خاکوانی کے ایک دوست جماعت اسلامی کے مقامی عہدے دار تھے۔ انہوں نے بھائی کو ساتھ چلنے پر مجبور کیا کہ احمد پورشرقیہ سے ہماری کارکنوں کی بس جا رہی ہے، آپ بھی ساتھ چلیں۔ بھائی نے اپنی جان چھڑانے کے لئے فٹ سے میرا نام پیش کر دیا کہ اسے لے جائو۔ وہ تیار ہوگئے ، انہیں تو ایک نگ پورا کرنا تھا۔ بڑا نہیں تو چھوٹا بھائی سہی۔

مجھے طاہر بھائی نے کہا کہ تم نے ابھی تک لاہور نہیں دیکھا۔ تم ساتھ چلے جائو، لاہور دیکھ لو، چار پانچ دنوں میں واپسی ہوجائے گی۔ اخراجات کے لئے کچھ رقم بھی حوالے کی۔ ہم نے بھی سوچا کہ چلو لاہور دیکھ ہی ڈالیں اور وہ جو مشہور ہے کہ جس نے لاہور نہیں دیکھا، وہ ابھی تک پیدا ہی نہیں ہوا تو اس تہمت کو بھی مٹا دیں۔

یوں نومبر کی ایک خنک صبح ہم اپنے شہر کے مقامی کارکنوں کے ساتھ لاہور میں وارد ہوئے۔ مینار پاکستان کے وسیع گراونڈ میں خیمے لگے تھے، بہت اچھے انتظامات تھے۔ احمد پورشرقیہ تحصیل کے امیر جماعت تب مولانا یعقوب صاحب تھے، نہایت شریف النفس اور بھلے آدمی تھے۔ مشہور تھا کہ ستتر کی پی این اے تحریک میں پولیس کے لاٹھی چارج سے وہ ایسے زخمی ہوئے کہ جان کے لالے پڑ گئے۔ کئی ماہ تک بستر پر رہے۔ تب انہوں نے عہد کیا کہ آئندہ زندگی دعوت دین میں وقف کرنی ہے،یوں وہ جماعت اسلامی کا حصہ بن گئے۔ سراپا دعوت تھے۔ بعد میں سنا کہ جماعت اسلامی سے برگشتہ ہو کر غیر فعال ہوگئے تھے۔ معلوم نہیں آج کل حیات ہیں یا دنیا سے رخصت ہوگئے۔ ان کا بیٹا میرا ہم عمر ہی تھا، اس کے ساتھ پہلے دن مینار پاکستان کے آس پاس گھومتا رہا، بھاٹی گیٹ کے باہر ایک حمام میں جا کرگرم پانی سے غسل بھی کیا۔ وہیں پر پی سی او سے فون کر کے اپنے بچپن کے دوست ذوالفقار علی نقوی المعروف پونم کو اپنے آنے کی اطلاع کی۔

پونم نقوی میرا پرائمری کے زمانے کا نہایت گہرا اور بے تکلف دوست ہے۔ نائن الیون سے تین چار سال قبل آسٹریلیا پڑھنے چلا گیا تھا، وہاں سے امریکہ کا رخ کیا۔ طویل عرصے سے امریکہ میں سیٹل ہے، وہیں پراپنی ایک کلاس فیلو گوری خاتون کو مسلمان کر کے شادی کی اور خوش وخرم زندگی گزار رہا ہے۔ پونم نہ ہوتا تو شائد میں لاہور میں ٹک نہ پاتا کیونکہ اس شہردلنشیں میں میرا کوئی اور جاننے والا نہیں تھا۔ پونم کے نام سے شائد یہ لگے کہ اہل تشیع سے تعلق ہے، مگر ایسا نہیں ۔ ان کا گھرانہ کٹر سنی تھا۔ اس کے والد دبیر الملک نقوی احمد پوری احمد پورشرقیہ کے معروف شاعر تھے، وہ بڑے پختہ اور عمدہ شاعر تھے، فنون جیسے اہم ادبی جرائد میں ان کی شاعری چھپتی تھی اور قتیل شفائی، احمد ندیم قاسمی جیسے شعرا ان کے مداح تھے۔

پونم تب لاہور کے ایک تعلیمی ادارے پاک ایمز سے ایم بی اے فنانس کر رہا تھا۔ تب یہ عام رواج تھا کہ باہر سے تعلق رکھنے والے سٹوڈنٹس یا جاب کرنے والے ہاسٹلز میں اپنے کسی جاننے والے کے پاس ٹھیر جاتے۔ اس سے اخراجات بہت کم ہوجاتے۔ پونم بھی علامہ اقبال میڈیکل کالج میں ہمارے میٹرک کے ایک کلاس فیلو دوست ڈاکٹر نصیر احمد چودھری کے ساتھ ٹھیرا ہوا تھا۔

ڈاکٹر نصیر جسے تب ہم پیار سے ملا نصیر کہا کرتے بڑا مخلص، سادہ اور سوئٹ انسان ہے۔ نیک روح۔ آج کل تو وہ ماشااللہ سے نامور آرٹھوپیڈک کنسلٹنٹ ڈاکٹر بن چکا ہے۔ڈاکٹر نصیر کی اہلیہ بھی ڈاکٹر ہیں ، فاطمہ جناح میڈیکل کالج سے فارغ التحصیل۔ نصیر طویل عرصہ شیخ زائد ہسپتال رحیم یار خان میں رہا، وہاں پر آرتھوپیڈک شعبے کا سربراہ بنا، آج کل وہیں پر ہے یا وکٹوریہ ہسپتال بہاولپور میں ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ ہے۔ ڈاکٹر نصیر تبلیغی جماعت سے تعلق رکھتا تھا، اس نے اپنے تمام ہنر آزما کر مجھے بھی ایک سہہ روزے کے لئے آمادہ کر لیا ، مگر یہ چند ماہ بعد کا قصہ ہے۔

خیر شام کو پونم اپنے عظیم الشان موٹرسائیکل پر بیٹھ کر نیو کیمپس پنجاب یونیورسٹی سے مینار پاکستان آپہنچا۔ اس کا موٹر سائیکل ان دنوں کسی عربی گھوڑے سے کم نہیں لگتا تھا۔ ہم دونوں تب پچاسی نوے کلو کے تو ہوں گے، سی ڈی سیونٹی بائیک تھی، بے چاری اگلے دو ڈھائی سال ہم دونوں کو خوشی خوشی ڈھو کر لاہور کے چپے چپے پر لے گئی۔ پونم کا جماعت اسلامی یا کسی بھی مذہبی تنظیم کے ساتھ کچھ زیادہ خوشگوار تعلقات نہیں تھے۔ جیسے ہی وہ جلسہ گاہ پہنچا، مجھ سے ملاقات ہوئی ۔ اس نے اپنے ہاتھ سے آدھے گنجے، آدھے ننگے سر کے اڑے ہوئے بال مشکل سے سنوارے ، تیکھی ناپسندیدہ نظروں سے ادھر اُدھر مست پھرتے جماعتیوں کو دیکھا اور فوری فیصلہ سنا دیا کہ اپنا بیگ اٹھائو اور میرے ساتھ چلو۔ بہت ہوگیا تمہارا آل پاکستان کنونشن۔ واجبی سی مزاحمت کے بعد خاکسار نے اپنا بیگ اٹھایااور پونم کی موٹرسائیکل کے پیچھے بیٹھ گیا۔ اگلے پانچ سات دن میرے لاہور میں گھومتے پھرتے ، کھابے کھاتے گزرے، جماعت اسلامی کا آل پاکستان کنونشن میرے لئے اسی شام ختم ہوگیا تھا۔ سوری قاضی صاحب اس کنونشن میں آپ کی ایک تقریر بھی نہ سنی۔

پاک ایمز کالج میں پونم کے دوستوں کا ایک گروپ تھا، اس میں جو چار پانچ کلاس فیلوز تھے، ان سب سے ملاقاتیں ہوئیں۔ ان میں موٹے ہونٹوں اور روایتی لاہوری لہجے والا رضوان تھا، اچھرے کا رہائشی رضوان مزے کا لاہوری نوجوان تھا۔ اسی نے مجھے پہلی بار لاہورکے مشہور بونگ پائے کا ناشتہ کرایا۔ بونگ کا نام بھی پہلی بار سنا اور کھایا بھی پہلی بار۔ احمد پور شرقیہ میں پائے یا سری پائے کا رواج تھا۔ بونگ وہاں نہیں بنا کرتی ۔ ایک لڑکا عثمان بھی تھا، تیز طرار ، وہ تب کسی غیر ملکی بینک میں کام کر رہا تھا، بعد میں شائد وہ بھی بیرون ملک چلا گیا۔ انہی میں طیب اعجاز قریشی بھی تھا۔ مشہور صحافی الطاف حسن قریشی کا بھتیجا اور ڈاکٹر اعجاز حسن قریشی کا بیٹا۔ طیب سے ملنے ہی ہم اردو ڈائجسٹ گئے تھے، جہاں سرخ بالوں والے الطاف حسن قریشی صاحب سے پہلی بار ملاقات ہوئی۔

ان دنوں مجھے دست شناسی کا شوق تھا، کراچی سے میر بشیر کی مشہور کتاب رموز دست شناسی لے کر ازبر کر لی تھی، کیرو کی پامسٹری اور بعض دیگر کتب بھی پڑھ رکھی تھیں۔ کچھ پامسٹری کا جادو اورکچھ انسانی نفسیات میں درک ، میں جس کا ہاتھ دیکھتا،وہ میرا مداح بلکہ شدید قسم کا مداح بن جاتا۔ ایسے کئی لوگ ہیں جن کا ہاتھ بیس پچیس سال پہلے دیکھا تھا تو اب بھی وہ جب ملیں تو پہلا مطالبہ یہی کرتے ہیں کہ پھر سے ہمارا ہاتھ دیکھ کر کچھ بتائیں۔ ان سے لاکھ معذرت کروں کہ اب میں اسے درست نہیں سمجھتا اور مجھے سب بھول بھال گیا ہے ، مگر یہ لوگ پھر بھی اصرار کرتے رہتے ہیں۔
پونم کے تمام دوستوں کے ہاتھ دیکھے، پاک ایمز کالج جا کر اس کی کلاس فیلوز لڑکیوں کو بھی اپنی دست شناسی سے ازحد متاثر کیا۔ پونم کی ایک کلاس فیلو لڑکی جس کی خوداعتمادی، صاف گوئی کی کالج میں شہرت تھی کہ یہ کمپلیکس فری لڑکی ہے اور لڑکوں کی طرح رہتی ہے، ویسے چلتی ہے وغیرہ۔ اس کا ہاتھ دیکھا اور وہ بھی شدید متاثر ہوئی۔ پھر اس ماہ پارہ کو مزید امپریس کرنے کے لئے خود ہی آفر کر ڈالی کہ آپ اپنی تاریخ پیدائش بتائیں تو آپ کو ذائچہ بھی بنا دیتا ہوں۔ (جی حیران نہ ہوں، خاکوانی صاحب بھی تب جوان آدمی تھے ، حسن ان کے پتھر دل کو بھی نرم کر سکتا ہے۔) اس لڑکی نے باآواز بلند فراٹے سے اپنی تاریخ پیدائش بتا دی۔ میں متاثر ہوا کہ یہ واحد لڑکی ہے جسے اپنی عمر بتاتے بھی کوئی کمپلیکس نہیں۔ تھوڑی دیر بعد جب دوسرے لڑکے ادھرادھرہوئے تو وہ چپکے سے کہنے لگی،کیا تاریخ پیدائش ایگزیکٹ بتانا ضروری ہے؟ میرے اثبات میں جواب پر دھیمی آواز میں بولی، دو سال پھر بڑھالیں، دراصل میری آفیشل عمر کچھ اور ہے جبکہ حقیقی عمر مختلف ہے۔ دل میں مسکرا کر سوچا کہ عورت جتنی بھی پراعتماد ہو، اپنی عمر بتانے میں وہ ڈنڈی مار ہی جائے گی۔ اب یاد نہیں کہ زائچہ بنایا یا نہیں، ویسے مجھے علم نجوم نہیں آتا تھا، زائچہ کیا بنانا تھا؟ پامسٹری البتہ کتابوں سے اچھی خاصی سیکھ رکھی تھی۔

اردو ڈائجسٹ کے دفتر گئے تو طیب اعجاز قریشی ہمیں الطاف صاحب سے ملوانے لے گیا۔ وہ بیٹھے کچھ لکھ رہے تھے۔ ہمیں دیکھ کر اپنا کلپ بورڈ سائیڈ میں رکھ دیا۔ خوش خلقی سے ملے، چائے بسکٹ منگوا لئے۔ طیب نے میرا کہا کہ یہ نقوی کا دوست عامر ہے، اسے پڑھنے لکھنے کا بڑا شوق ہے، خوب کتابیں رسالے پڑھتا ہے۔ الطاف صاحب نے اپنے مخصوص انداز میں میری طرف دیکھا اور گویا ہوئے، آپ نے اردو ڈائجسٹ پڑھا ہے، کچھ اس بارے میں اپنی رائے دیجئے ؟
ہمارے شہر احمد پورشرقیہ میں بلدیہ کے زیراہتمام ایک اچھی لائبریری موجود تھی جہاں کئی اخبار اور رسائل آیاکرتے۔ میں نے اردو ڈائجسٹ کے بہت سے شمارے وہاں پر پڑھے تھے ۔ اردو ڈائجسٹ کا ایک خاص انداز کا پرانا ، روایتی سٹائل مجھے پسند نہیں تھا۔ الطاف صاحب نے تو شائد رسماً کہا ہوگا، مجھے لگا کہ انہیں واقعی میری قیمتی رائے میں دلچسپی ہے۔ نوجوانی کے جوش میں آو دیکھا نہ تائو، اردو ڈائجسٹ کے بخیے ادھیڑ ڈالے۔ کئی روایتی سلسلوں پر سخت تنقید کی، بہت سے کچے پکے اعتراضات بھی داغ دئیے۔ کئی مشورے بھی دئیے کہ نئی چیزیں شروع کریں، سائنس وٹیکنالوجی پر چیزیں دیں،جدید ادب کو چھاپیں، نوجوانوں کے لئے اسے پرکشش بنائیں، وغیرہ وغیرہ۔

الطاف صاحب میں بلا کا تحمل ہے، وہ خاموشی سے سنتے رہے اور پھر اپنے مخصوص انداز میں لمبا سا کھینچ کر کہا جی ہاں ں ں۔ بعد میں جب اردو ڈائجسٹ میں کام کیا تو معلوم ہوا کہ یہ ان کا خاص انداز تھا، جب وہ کسی بحث میں نہ الجھنا چاہیں تو اسی جی ہاںںں سے بات ختم کر دیتے ہیں۔

ملاقات کے بعد ہم واپس ہاسٹلز آ گئے۔ مختلف جگہوں پر گھومتے پھرتے رہے۔ میڈیکل کالج کینٹین سے دو تین چیزیں مزے کی کھائیں۔ ایک تو چائے کے ساتھ فرنچ ٹوسٹ اور فرائی ٹوسٹ تھے، کچن والے توس کو ہلکے سے آئل کے ساتھ توے پر سینک کر دیتے، وہ کرسپی اور مزے کا لگتا۔ دوسرا دودھ شیک تھا۔ دودھ کے گلاس کو ملک شیکر میں ڈال، چینی ملا کر شیک کر دیتے۔ اسے دودھ شیک کہا جاتا۔ ہاسٹل میں رات کو ایک خاص قسم کی ڈش ملتی جسے برجی یابرجھی کہتے۔

کینٹین والا شامی کباب، پیاز،ٹماٹر، ہری مرچوں اور انڈے کو ملا کر ایک کچومر سا بنا دیتا،بعض لڑکے اس میں مکھن بھی ڈلوا لیتے ۔ توے کی پتلی گرم روٹیوں کے ساتھ یہ خوب مزا دیتی۔ مغرب کی نماز کے فوراً بعد ہاسٹل میں میس شروع ہوجاتا ۔ میڈیکل کالج کے چار سٹوڈنٹ اور ایک ڈاکٹرز ہاسٹل تھا، بعد میں چار نمبر ہاسٹل گرلز کو دے دیا گیا۔ میں چار نمبر ہاسٹل کی چوتھی منزل پر تین چار ماہ رہا تھا۔ پونم نقوی نے ہر ہاسٹل کے میس میں اپنا کھاتا کھول رکھا تھا۔ ہم اندازہ لگا لیتے کہ آج شام کہاں پر زیادہ مزے کی چیز ہے، وہاں کھانے پہنچ جاتے ۔

ویسے یہ سب باتیں بعد میں وہاں رہائش کے زمانے کی ہیں، تب تو یہ ہوا کہ ایک دن ہاسٹل میں گزرا اور اگلے روز دس گیارہ بجے ہی ہاسٹل فائرنگ کی آواز سے گونج اٹھا۔ فرسٹ فلور پر ہمارا کمرہ تھا۔ نیچے سیڑھیوں کے پاس سے آواز آئی تھی، بھاگے بھاگے نیچے آئے۔ دیکھا کہ ایک نوجوان موٹر سائیکل پر اوندھا پڑا ہے اور اس کے سر کے پیچھے سے خون بہہ رہا ہے۔ پتہ چلا کہ یہ کسی طلبہ تنظیم کا ایکٹوسٹ ہے، ہاسٹل میں کسی سے ملنے آیا۔ اس نےاندر آ کر سیڑھیوں کےپاس موٹرسائیک سٹینڈ پر کھڑا کیا کہ پیچھےسے دو لڑکےآئےاس کے سر میں گولیاں مار کر فرار ہوگئے۔ اس طرح کے واقعات تب لاہور کی طلبہ تنظیموں کے مابین عام ہوا کرتےتھے۔ خیر میرے دوست پونم نقوی نے مجھے کہا کہ فوری طور پر اپناپرس وغیرہ اٹھائو، ہمیں نکلنا ہے ورنہ پولیس آتےہی سب سے پہلے آوٹ سائیڈرز کو تنگ کرےگی۔ میری زندگی کا یہ پہلا واقعہ تھا کہ اتنے قریب سے اپنے سامنے کسی کو گولی لگنے سے دم توڑتے دیکھا۔ شاک کی کیفیت تھی، مگر وقت نی نزاکت سمجھ کر تیزی سے حرکت میں آئے اور اگلے پانچ منٹؤں میں ہمارا موٹرسائیکل کیمپس کی نہر والی سڑک پر تھا۔ اگلے چار پانچ دن ہم پونم کے مختلف دوستوں کے گھر رہے اور اپنا بیگ بھی اس کے ایک فوجی کیپٹن دوست کی مدد سے اٹھوایا۔

پونم کے دوستوں نے دھرم پورہ صدر سے کھوئے والے کباب بھی کھلائے، یہ بھی ایک نئی چیز تھی۔ میں سوچتا رہا کہ بھلا قیمے میں کھوئے کا کیا کام ؟ پھر بعد میں تو ملائی بوٹی وغیرہ بھی بہت بار کھائی ۔ پانچ سات دن رہ کر خاطر مدارت کرانے کے بعد لاہور سے واپس گھر احمد پور شرقیہ چلا گیا۔
پھر وہی عدالت اور سینیر وکیل کے ساتھ بطور "سٹپنی” کام کرنا۔ لاہور سے آئے مہینہ ڈیڈھ ہوگیا۔ جنوری کے وسط میں اپنی پھوپھو کے گھر گیا۔ دنیا پور تحصیل میں ایک گاوں کوٹلہ مانجھا کے نام سے ہے، وہاں وہ رہتی تھیں، میرے دو پھوپھو زاد بھائی جو مجھے سے دو تین سال ہی بڑے ہوں گے ، ان کے ساتھ خوب بنتی تھی۔ خوب مزے کئے۔ گاوں کی فضا۔ صبح دیسی گھی یا مکھن سے چپڑی روٹی ، لسی ، اچار،اپلوں پر بنی دودھ پتی چائے وغیرہ ۔

ایک جمعرات کو نماز عصر کے بعد میرا بڑا کزن ندیم خان مجھے اپنے ساتھ قریبی گائوں لے گیا۔ وہاں ایک بزرگ کا مزار تھا۔ سجادہ نشین ایک پہنچا ہوا ہنرمند روحانی شخص تھا۔ وہاں ایک عجیب وغریب واقعہ ہوا، ایک طرح کی روحانی واردات، اس کی تفصیل یہاں لکھنا مناسب نہیں۔ کبھی کسی روز الگ سے لکھوں گا۔ یہاں لکھ دیا تو اصل مضمون کو چھوڑ کر اس پر بحث شروع ہوجائے گی۔ خیر میں نے ان صاحب سے میں نے دو معاملات میں دعا کرنے کی درخواست کی۔ پہلی یہ کہ میں صحافت میں جانا چاہتا ہوں، اللہ سے دعا کریں کہ وہ سبب پیدا کر دیں۔ دوسرا یہ کہ مجھے باجماعت نماز کی عادت ہوجائے، اس کے لئے صحبت سعید مل جائے۔اس نے دعا کے لئے ہاتھ اٹھا دئیے، ہم سب نے آمین کہی۔

خیر دو چار دن کے بعد واپس احمد پورشرقیہ چلا گیا۔ وہاں پہنچا تو اگلے روز مجھے میرے اور پونم کے ایک مشترکہ دوست اطہر سیال نے آ کر بتایا کہ پونم لاہور سے احمد پور آیا تھا۔ اس نے اپنے دوست طیب اعجاز قریشی کا پیغام دیا ہے کہ اگر عامر نے اردو ڈائجسٹ جوائن کرنا ہے تو فوری طور پر لاہور آ جائے۔

میں یہ بات سن کر ہکابکا رہ گیا کہ اتنا جلدی دعا قبول بھی ہوگئی۔ گھر مشورہ کیا۔ بڑے بھائی نے کہا کہ تم صحافی بننا چاہتے تھے، اب موقعہ مل رہا ہے تو ضرور فائدہ اٹھائو۔ میں نے پھر سے اپنا بیگ اٹھایا اور نیو خان کی نان اے سی بس میں بیٹھ کر لاہور پہنچ گیا۔ سیدھا پونم کے پاس ہاسٹل گیا۔ اگلے روز اردو ڈائجسٹ طیب سے ملنے گیا۔ طیب نے کہا کہ ایک سب ایڈیٹر نےجاب چھوڑ دی ہے، سیٹ خالی ہے۔ چچا (الطاف صاحب )نے کہا ہے کہ تمہارا وہ نوجوان دوست اگر آنا چاہے تو اسے بلوا لو۔

رمضان کا مہینہ شروع ہو چکا تھا۔ میں نے طیب سے کہا کہ میں عید کے بعد آ جائوں گا یعنی مارچ میں۔ طیب نے کہا ، اتنی دیر مناسب نہیں۔ میرے ابو جرمنی گئے ہوئے ہیں، اس وقت میں ہی مینجنگ ایڈیٹر ہوں، فوری طور پر جوائن کر لو تاکہ کوئی اور نہ یہ سیٹ لے جائے۔ میں چند لمحے سوچتا رہا، پھر کہا کہ چلو میں اپنے گھر جا کر سردیوں کے گرم کپڑے، جیکٹ وغیرہ اور رضائی تو لے آوں۔ طیب اعجاز قریشی نے کہا، ٹھیک ہے ، آج ہی نکل جائو،کل پانچ فروری یوم کشمیر کی چھٹی ہے، پرسوں سے اردو ڈائجسٹ جوائن کر لو۔
میں نے ایسا ہی کیا۔

یوں چھ فروری انیس سو چھیانوے کے دن کیمپس پل سے سنتالیس نمبر ویگن میں بیٹھ کر میں موڑ سمن آباد اترا اور وہاں سے پیدا چلتا ہوا سمن آباد پہلے گول چکر کے قریب واقع اردو ڈائجسٹ کے دفتر انیس ایکٹر سکیم سمن آباد پہنچ گیا۔ میرے صحافتی کیرئر کا آغاز ہوگیا۔

(اردو ڈآئجسٹ میں گزرے برسوں کی کہانی ان شااللہ اگلی قسط میں اگلے ہفتے ملاحظہ کیجئے۔ اس بار کوشش ہوگی کہ ناغہ نہ ہو۔ )

Author

اپنا تبصرہ لکھیں