مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر ایک ایسے نکتے پر آن کھڑا ہوا ہے، جہاں سے مستقبل کے جغرافیائی نقشے تبدیل کیے جا سکتے ہیں۔ یہ کوئی خیالی بات نہیں، بلکہ ایک باقاعدہ منصوبہ ہے جو برسوں سے بین الاقوامی طاقتوں کی خفیہ میزوں پر تیار ہوتا رہا ہے۔ اس منصوبے کی ایک نئی جہت اس وقت سامنے آئی جب معروف ترک تجزیہ کار گربوز اورن نے ایک انٹرویو میں انکشاف کیا کہ اسرائیل شام کو نسلی بنیادوں پر تقسیم کرنے کے منصوبے پر تیزی سے عمل کر رہا ہے، اور اس وقت اس کا ہدف دروز اور کرد اقلیتوں کے درمیان ایک نیا اتحاد قائم کر کے شام کی وحدت کو توڑنا ہے۔ یہ بیان محض ایک نظریاتی مفروضہ نہیں بلکہ اسرائیلی خفیہ سرگرمیوں اور زمینی حقائق پر مبنی ایک انتہائی خطرناک رجحان کا پیش خیمہ ہے۔
گربوز اورن نے جس انداز میں اس منصوبے کی گہرائی بیان کی ہے، وہ ایک باشعور قاری کو فوری طور پر یہ سمجھنے پر مجبور کرتا ہے کہ اسرائیل صرف فلسطینی زمینوں پر قبضہ نہیں کر رہا، بلکہ وہ مشرقِ وسطیٰ کے تمام ممالک کو داخلی عدم استحکام، نسلی تقسیم اور خودمختاری کی تحریکوں کے ذریعے اندر سے کھوکھلا کرنے پر تلا ہوا ہے۔ اسرائیل کی اس حکمت عملی کو “Soft Partitioning Doctrine” کہا جا سکتا ہے، جس میں ریاستوں کو کھلے حملوں سے نہیں بلکہ نسلی گروہوں کی خودمختاری کے نام پر تقسیم کیا جاتا ہے۔
کرد اور دروز، دونوں ایسی اقلیتیں ہیں جو شام میں تاریخی حیثیت رکھتی ہیں۔ کردوں نے ہمیشہ اپنی ایک علیحدہ شناخت اور ریاست کا خواب دیکھا ہے، اور مغربی طاقتوں نے اس خواب کو کبھی حقیقت، کبھی امید، اور کبھی جنگ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا ہے۔ امریکی حمایت یافتہ کرد ملیشیائیں شام کے شمالی علاقوں میں مضبوط عسکری اور انتظامی ڈھانچہ قائم کر چکی ہیں، جنہیں اسرائیل پسِ پردہ سفارتی و انٹیلیجنس سطح پر تقویت دے رہا ہے۔ دوسری جانب دروز برادری، جو مذہبی لحاظ سے اقلیت ہے مگر جغرافیائی لحاظ سے ایک حساس خطے میں آباد ہے، کو بھی اسرائیل اپنے ثقافتی، مذہبی اور سیکیورٹی بیانیے کے ذریعے قائل کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ وہ دمشق سے الگ ہو کر ایک نیا مستقبل تلاش کریں۔
یہ کوششیں صرف شام تک محدود نہیں ہیں۔ کرد آبادی ترکی، عراق اور ایران میں بھی موجود ہے، اور اگر شام میں کردوں کو کامیابی ملتی ہے تو یہ پورے خطے میں ایک زنجیری ردِعمل پیدا کر سکتا ہے۔ ترکی کے لیے یہ صورتحال کسی بھی وقت ایک مکمل جنگ میں تبدیل ہو سکتی ہے، کیونکہ وہ اپنے جنوب مشرقی علاقوں میں کردوں کی خودمختاری کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔ اسی طرح ایران کے مغربی علاقوں میں کرد آبادی کو اسرائیل کی خفیہ مدد سے بغاوت پر اکسانا ایک پرانا منصوبہ ہے، جو حالیہ برسوں میں نئی جان لے چکا ہے۔
دروز اقلیت کی شمولیت اس منصوبے کو مزید پیچیدہ اور خطرناک بنا دیتی ہے، کیونکہ دروز صرف شام ہی نہیں، بلکہ لبنان، اردن اور اسرائیل کے اندر بھی موجود ہیں۔ اگر دروز برادری اسرائیلی حمایت یافتہ منصوبے کا حصہ بنتی ہے تو یہ فرقہ واریت کی آگ کو پورے مشرقِ وسطیٰ میں بھڑکا سکتی ہے۔ لبنان، جو پہلے ہی طائفہ وارانہ نظام کے باعث ایک نازک توازن پر کھڑا ہے، دروز-حزب اللہ کشمکش کا میدان بن سکتا ہے۔ اردن میں موجود دروز برادری کی متحرک حیثیت ملک کی بادشاہت کے لیے نیا چیلنج بن سکتی ہے۔
اس منصوبے کا ایک عالمی زاویہ بھی ہے۔ امریکہ، فرانس اور برطانیہ جیسے مغربی ممالک اسرائیلی منصوبے کو بالواسطہ یا براہ راست سہولت فراہم کر رہے ہیں۔ ان کی پالیسی کا مرکزی نقطہ یہی ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں کوئی بھی ریاست اتنی طاقتور نہ ہو کہ وہ اسرائیل یا مغرب کے مفادات کے خلاف کھڑی ہو سکے۔ روس اور ایران کی شام میں موجودگی ان طاقتوں کے لیے دردِ سر بنی ہوئی ہے، اور شام کو تقسیم کر کے نہ صرف روسی اثر کو محدود کیا جا سکتا ہے بلکہ ایران کو شام-لبنان راہداری سے بھی کاٹا جا سکتا ہے۔
بین الاقوامی ذرائع ابلاغ اس موضوع پر خاموش ہیں یا جان بوجھ کر اس سازش کو نظر انداز کر رہے ہیں۔ عرب دنیا، جو کبھی فلسطین کے لیے آواز بلند کرتی تھی، اب خود سیاسی انتشار، معاشی بحران اور علاقائی رقابتوں کا شکار ہے۔ سعودی عرب اور امارات جیسے ممالک اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کر چکے ہیں، اور اب وہ شام کے معاملات میں مداخلت سے اجتناب برتتے ہیں، یا خفیہ طور پر اسرائیلی منصوبوں کی راہ ہموار کر رہے ہیں۔
یہ وقت ہے کہ عرب لیگ، اسلامی تعاون تنظیم (OIC)، اور اقوام متحدہ جیسے ادارے اس منصوبے کی سنگینی کا ادراک کریں۔ شام کی وحدت کا دفاع صرف شامی حکومت کا فرض نہیں، بلکہ یہ پوری مسلم دنیا کی اخلاقی، سیاسی اور اسٹریٹجک ذمہ داری ہے۔ شام کی تقسیم کا مطلب محض ایک جغرافیائی شکست نہیں بلکہ امت مسلمہ کی فکری، تہذیبی اور دفاعی وحدت کا زوال ہوگا۔
آخر میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اگر دروز اور کرد اقلیتوں کے ذریعے شام کو تقسیم کرنے کا یہ منصوبہ کامیاب ہو گیا تو مشرقِ وسطیٰ میں ایک نئی آگ بھڑک اٹھے گی — ایک ایسی آگ جس کی لپیٹ میں آنے والے صرف عرب ممالک نہیں بلکہ پوری عالمی امن و سلامتی ہو گی۔ اس سازش کے خلاف ایک مربوط بین الاقوامی حکمت عملی، مؤثر سفارتی اقدامات اور میڈیا کی طرف سے بیداری کا فروغ وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ ورنہ ہم تاریخ کے ایک ایسے موڑ پر کھڑے ہوں گے جہاں سے واپسی ممکن نہ ہوگی، اور نقشے صرف کاغذوں پر نہیں بلکہ خون سے دوبارہ لکھے جائیں گے۔