کویت کی شہریت کی اعلیٰ کمیٹی نے شہریت کے قانون کے تحت 2,899 افراد کی شہریت منسوخ کرنے کے لیے سفارشات کابینہ کو پیش کر دی ہیں۔ یہ فیصلہ نائب وزیرِاعظم، وزیر دفاع، اور وزیر داخلہ شیخ فہد الیوسف کی سربراہی میں منعقدہ اجلاس میں کیا گیا، جس میں ان تمام وجوہات کا جائزہ لیا گیا جو شہریت کی منسوخی کا سبب بنیں۔
دہری شہریت اور جعل سازی کے معاملات
کویتی قانون کے مطابق دہری شہریت رکھنا ممنوع ہے۔ سال 1959 کے شہریت قانون کی شق نمبر 15 کے تحت 2 افراد کی شہریت منسوخ کی گئی ہے۔ مزید برآں، شق نمبر 21 کے تحت 408 افراد کی شہریت دروغ گوئی اور جعل سازی کے ذریعے حاصل کرنے پر ختم کی گئی۔
شق 13 کی دفعہ 4 کے تحت، 54 مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے 489 افراد کی شہریت بھی منسوخ کر دی گئی۔
فلپائنی خاتون کی شہریت کی منسوخی
کویتی اخبار الرای کے مطابق، ایک فلپائنی خاتون کی شہریت بھی منسوخ کی گئی ہے، جو ایک معمر کویتی شہری سے شادی کے بعد شہریت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی تھی۔ کویتی شوہر کے انتقال کے بعد اس نے ایک ایشیائی ڈرائیور سے دوسری شادی کر لی، جو شق نمبر 8 کے تحت قومی تشخص کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔
یہ اقدامات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ کویتی حکومت اپنے قوانین کے نفاذ میں سختی سے عمل پیرا ہے اور شہریت کے معاملات میں کسی قسم کی بدعنوانی یا خلاف ورزی کو برداشت نہیں کرتی۔