خیبر پختونخوا میں پچاس لاکھ بچے اسکول سے باہر، غیر رسمی تعلیم کتنی مؤثر ثابت ہوسکتی ہے؟

محکمہ تعلیم خیبر پختونخوا کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق صوبے میں 50 لاکھ بچے بنیادی تعلیم سے محروم ہیں، جن میں 41 فیصد لڑکے اور 59 فیصد لڑکیاں شامل ہیں۔ مجموعی طور پر پورے پاکستان میں یہ نمبر ڈھائی کروڑ تک پہنچ گیا ہے۔ اس وقت خیبر پختونخوا میں 26 ہزار 814 پرائمری، 3 ہزار 569 مڈل، 2 ہزار 714 ہائی اور 888 ہائر سیکنڈری اسکولز ہیں۔ یعنی ہر مرحلے میں اسکولوں کی تعداد میں کمی واقع ہوتی ہے، جو اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ پرائمری کے بعد بچوں کی رسائی تعلیم تک محدود ہو جاتی ہے۔

اس کمی کو پورا کرنے کے لیے صوبائی حکومت کو 22 ہزار نئے مڈل اور ہائی اسکول قائم کرنے کی ضرورت ہے، جس کا امکان وقت اور مالی صورتحال کے پیش نظر بہت مشکل دکھائی دیتا ہے۔

ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن فاؤنڈیشن (ای سی ای ایف) خیبر پختونخوا کے محکمہ تعلیم کا وہ ادارہ ہے، جو رسمی تعلیم میں آنے والی خلا کو پُر کرنے کا مجاز ہے۔ دیگر صوبوں کی طرح خیبرپختونخوا میں بھی اسکول سے باہر بچوں کو تعلیم سے روشناس کرانے کے لیے غیر رسمی تعلیم کے کئی منصوبے کام کر رہے ہیں۔ ڈائریکٹر پروگرام (ای سی ای ایف) حبیب الرحمان نے تاشقند اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ “اسکولوں میں کمی کے ساتھ ہمارا دوسرا بنیادی مسئلہ بڑھتی ہوئی آبادی بھی ہے۔ 2.6 فیصد سالانہ شرح نمو کے ساتھ ہمارے ہاں تقریباً 4 لاکھ نئے بچوں کا اضافہ ہو رہا ہے۔”

اس تناظر میں غیر رسمی تعلیم کی اہمیت شدت اختیار کر جاتی ہے، جس میں کم وقت اور لاگت کے ساتھ دور دراز علاقوں میں تعلیم کے سلسلے کو جاری رکھا جا سکتا ہے۔ حبیب الرحمان کے مطابق “غیر رسمی تعلیم کی اس کڑی میں ان کا پہلا پروگرام ‘گرلز کمیونٹی اسکولز’ ہے۔ یہ ان علاقوں میں قائم ہوتے ہیں جہاں اسکول کی سہولت موجود نہیں ہوتی۔ گرلز کمیونٹی اسکولز عطیہ شدہ گھروں، حجروں اور مسجدوں میں قائم کیے جاتے ہیں۔ ان اسکولوں میں تعلیم دینے کے لیے مقامی برادری سے ایک استاد کا انتخاب کیا جاتا ہے، جبکہ دیہی تعلیمی کمیٹی اسکول کی سرگرمیوں کا انتظام سنبھالتی ہے۔”

یہ اسکول پرائمری اور مڈل سطح کا نصاب اختیار کرتے ہیں، اور ان کو حکومت کی جانب سے مفت درسی کتب، تدریسی مواد اور اساتذہ کو تنخواہ فراہم کی جاتی ہے۔ لڑکیوں کے لیے مختص ان اسکولوں میں لڑکے بھی تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ اس وقت 2 لاکھ 84 ہزار بچے ان اسکولوں میں زیرِ تعلیم ہیں، جن میں ستر فیصد لڑکیاں ہیں۔

ایسا ہی ایک اسکول اپر دیر کے علاقے سلطان آباد میں 2015 میں قائم ہوا تھا۔ اس اسکول میں پڑھانے والی سلمیٰ بی بی نے تاشقند اردو کو بتایا کہ “یہ ہمارے گھر میں ہی چھت پر موجود ہے۔ ان سالوں میں یہاں بچوں کی تعداد 200 تک پہنچ گئی ہے، جن میں زیادہ تر لڑکیاں ہیں۔

گرلز کمیونٹی اسکول، سلطان آباد اپر دیر

وہ کہتی ہیں کہ “اس اسکول میں میرے سمیت تین ٹیچرز نرسری سے کلاس پنجم تک پڑھا رہے ہیں۔ فاؤنڈیشن کی جانب سے ہمارے لیے تربیتی کورس منعقد کیے جاتے ہیں جبکہ تمام درسی سہولیات بھی دی گئی ہیں۔ اس اسکول میں باقی طریقہ کار رسمی اسکولوں کے مطابق ہی ہے۔”

اسی طرح ضلع ہنگو میں 2016 میں قائم ایک کمیونٹی اسکول کی ٹیچر نادیہ نے تاشقند اردو کو بتایا کہ “ہمارے ہاں چالیس بچوں کے لیے ایک ٹیچر ہوتی ہے۔ ابتدائی طور پر اس اسکول کو ہم نے فاؤنڈیشن کے تعاون سے اپنے گھر میں شروع کیا، جبکہ بعد میں بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر اسے ایک علیحدہ عمارت میں منتقل کیا۔”

کمیونٹی اسکول میں ٹیچر کے طور پر خدمات سر انجام دینے والی نادیہ کہتی ہیں کہ “اس اسکول میں یونیفارم کی کوئی شرط نہیں ہوتی، جبکہ بچوں کو ہر ممکن سہولیات دی جاتی ہیں۔ ہمارے ہاں بچوں کی تعداد 350 تک ہو گئی ہے، جنہیں کلاس ششم تک پانچ ٹیچرز پڑھا رہے ہیں۔”

ای سی ای ایف نے اس کے علاوہ بھی غیر رسمی تعلیم کے لیے کئی پروگرام شروع کیے ہیں۔ حبیب الرحمان مزید بتاتے ہیں کہ “جن علاقوں میں سرکاری اور نجی اسکول دونوں موجود نہیں ہیں، وہاں ‘New School Initiatives’ کے نام سے ہماری اسکیم چلتی ہے۔ ان علاقوں میں مقامی افراد کے توسط سے اسکول قائم کیے جاتے ہیں، جن میں داخل طلبہ کی فیس فاؤنڈیشن کی جانب سے ادا کی جاتی ہے۔”

فاؤنڈیشن کی ویب سائٹ پر درج معلومات کے مطابق اب تک 34 ایسے اسکول بنائے جا چکے ہیں جن میں پانچ ہزار سے زائد طلبہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں، جبکہ وہ علاقے جہاں نجی اسکول موجود ہے، وہاں بچوں کو داخل کر کے اخراجات فاؤنڈیشن کی جانب سے ادا کیے جاتے ہیں۔ اس اسکیم کو ایجوکیشن سپورٹ اسکیم کہا جاتا ہے، جن میں بھی اس وقت پانچ ہزار سے زائد طلبہ انرول ہیں۔

حبیب الرحمان کے مطابق اہم پروگرام کے طور پر اسکول سے باہر بڑی عمر کے بچوں کے لیے “الٹرنیٹیو لرننگ پاتھ وے” کے نام سے بھی ایک نظام موجود ہے، جہاں مقاصد کو برقرار رکھتے ہوئے نصاب کو کم کیا جاتا ہے اور مڈل کا تین سالہ کورس اٹھارہ ماہ میں ختم کر دیا جاتا ہے۔ اس کے بعد فارغ التحصیل طلبہ کلاس نہم میں داخلہ لینے کے قابل ہوتے ہیں۔

حبیب الرحمان بتاتے ہیں کہ “وہ بچے جو ان تمام پروگرامز سے مختلف وجوہات کی بنیاد پر مستفید نہیں ہو سکتے، ان کے لیے ‘پوھہ’ کے عنوان سے ایک آن لائن کورس موجود ہے۔ اس نظام میں اس وقت پندرہ ہزار بچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ اس ایل ایم ایس پروگرام میں تمام نصاب ویڈیوز اور ای-لیبز کی صورت میں فراہم کیے گئے ہیں۔ یہاں سے کورس مکمل کرنے والے بچے کلاس نہم بورڈ میں بطور ریگولر طالب علم امتحانات دے سکتے ہیں۔”

اسکول میں اساتذہ کی کمی کو سامنے رکھتے ہوئے پوھہ کے علاوہ ای سی ای ایف 50 ورچول اسکول قائم کرنے کا ارادہ بھی رکھتا ہے ۔

ماہرین کے مطابق غیر رسمی تعلیمی سلسلہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس سے نہ صرف وقت کی بچت ہوتی ہے بلکہ جدید دور کے تقاضوں سے موافقت بھی پیدا ہوتی ہے۔ تاہم، رسمی تعلیم کو یکسر فراموش نہیں کیا جا سکتا، بلکہ اس میں غیر رسمی طریقہ کار اپنانا ہی تعلیمی نظام کی مضبوطی کی علامت ہے۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں