ایران میں پرتشدد مظاہروں کا مقصد امریکا کو خوش کرنا ہے: ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای

ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے تہران اور ملک کے دیگر شہروں میں جاری احتجاجی مظاہروں پر ردِعمل دیتے ہوئے عوام سے اتحاد برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے اور احتجاج کو “دہشت گردی کی کارروائیاں” قرار دیا ہے۔ رہبر اعلی نے خبردار کیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران تخریب کار عناصر کے خلاف کارروائی سے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹے گا۔

جمعے کو سرکاری ٹی وی پر خطاب میں آیت اللہ خامنہ ای نے الزام عائد کیا کہ مظاہروں کے دوران سرکاری اور عوامی املاک کو نقصان پہنچایا گیا ہے اور ان کارروائیوں کا مقصد امریکہ کو خوش کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں ہونے والی توڑ پھوڑ منظم سازش کا حصہ ہے۔

یہ ایران میں احتجاج شروع ہونے کے بعد آیت اللہ خامنہ ای کا دوسرا ردِعمل ہے۔ اس سے قبل وہ کہہ چکے ہیں کہ احتجاج ایک جائز عمل ہے، تاہم احتجاج اور فساد میں واضح فرق ہے۔ ان کے مطابق حکومت کو مظاہرین سے بات چیت کرنی چاہیے، مگر تخریب کاروں سے مذاکرات بے فائدہ ہیں۔

رہبرِ اعلیٰ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات اور مظاہرین کی حمایت پر بھی سخت ردِعمل ظاہر کیا۔ آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ گزشتہ شب تہران میں چند تخریب کار سرگرم تھے جنہوں نے عوامی املاک کو نقصان پہنچا کر صدر ٹرمپ کو خوش کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ امریکی صدر کو ایران کے معاملات میں مداخلت کے بجائے اپنے ملک کے مسائل پر توجہ دینی چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکہ یہ دعویٰ کر رہا ہے کہ اگر ایران کی حکومت اپنا موجودہ رویہ برقرار رکھے گی تو وہ مظاہرین کا ساتھ دے گا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ امریکہ خود اپنے اندرونی مسائل حل کرنے میں ناکام ہے اور اس کے ہاتھ ہزاروں ایرانیوں کے خون سے رنگین ہیں۔

آیت اللہ خامنہ ای نے مزید کہا کہ ٹرمپ کو خوش کرنے کے لیے آگ لگائی جا رہی ہے، مگر سب کو یہ جان لینا چاہیے کہ اسلامی جمہوریہ ایران ہزاروں قربانیوں کے بعد قائم ہوا ہے اور یہ نظام تخریب کاروں کے سامنے کبھی جھکنے والا نہیں۔

احتجاج 28 دسمبر سے جاری ہیں، جن میں اب تک درجنوں مظاہرین اور کم از کم چار سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔ مظاہرے بنیادی طور پر مہنگائی اور کرنسی کی قدر میں شدید کمی کے خلاف شروع ہوئے تھے۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے حالات میں تحمل سے کام لینے اور عوام کے “جائز مسائل” سننے کی بات کی ہے، تاہم دیگر سرکاری حلقوں کا کہنا ہے کہ غیر ملکی مداخلت کے باعث سخت اقدامات ناگزیر ہیں۔

حکومت نے احتجاج کو روکنے کے لیے انٹرنیٹ سروس بند کر دی ہے، جبکہ فون سروس بھی متاثر ہے اور کئی پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں۔ اس کے باوجود سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز میں تہران اور دیگر شہروں میں مظاہرین کو نعرے لگاتے اور آگ جلاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

ایرانی سرکاری میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل سے منسلک “دہشت گرد عناصر” تشدد کو ہوا دے رہے ہیں۔ دوسری جانب امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ایرانی حکومت نے مظاہرین کے خلاف سخت کارروائی کی تو اسے اس کی قیمت چکانا پڑے گی۔

ادھر ایران کے سابق بادشاہ کے بیٹے رضا پہلوی نے مزید احتجاج کی اپیل کی ہے، جسے بعض مبصرین کے مطابق مظاہروں میں تیزی آنے کی ایک وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں