یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کاجا کالاس نے آبنائے ہرمز میں تیل اور گیس کی ترسیل بحال کرنے کے لیے ایک نیا سفارتی حل تجویز کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اس مقصد کے لیے جنگ کے دوران یوکرین سے اناج کی برآمد کے لیے طے پانے والے بحیرہ اسود معاہدے کی طرز پر ایک نیا انتظام کیا جا سکتا ہے۔
برسلز میں یورپی یونین کے اعلیٰ سفارت کاروں کے اجلاس سے قبل گفتگو کرتے ہوئے کایا کالاس نے بتایا کہ انہوں نے اس معاملے پر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس سے بھی بات کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بات پر غور کیا جا رہا ہے کہ آیا جنگی حالات میں یوکرین سے اناج کی محفوظ ترسیل کے لیے قائم کیے گئے بلیک سی اناج معاہدہ جیسا کوئی اقدام آبنائے ہرمز میں بھی ممکن ہے یا نہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ آبنائے ہرمز کی بندش ایشیا کے لیے توانائی کی فراہمی کے حوالے سے انتہائی خطرناک صورت حال پیدا کر سکتی ہے۔ ان کے مطابق، اس کا اثر صرف توانائی تک محدود نہیں رہے گا بلکہ کھاد کی پیداوار بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ کاجا کالاس نے کہا کہ اگر اس سال کھاد کی کمی پیدا ہوئی تو اگلے سال خوراک کی شدید قلت کا خدشہ بھی پیدا ہو سکتا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ یورپی یونین کے وزرائے خارجہ اس بات پر بھی غور کریں گے کہ آیا مشرقِ وسطیٰ میں یورپی یونین کے بحری مشن اسپائڈیز مشن کے اختیارات میں تبدیلی ممکن ہے یا نہیں۔ یہ مشن اس وقت بحیرہ احمر میں بحری جہازوں کو یمن کے حوثی باغیوں کے حملوں سے بچانے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔