جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے 27ویں آئینی ترمیم کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارلیمنٹ میں ان کی جماعت کے ارکان نے اس ترمیم کی بھرپور مخالفت کی تھی۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ جمعیت علمائے اسلام پاکستان کی مرکزی مجلسِ شوریٰ کا دو روزہ اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا، جس میں 27ویں آئینی ترمیم اور اس عرصے کے دوران پارلیمنٹ میں پیش کیے گئے اور منظور ہونے والے قوانین پر تفصیلی غور کیا گیا۔
مولانا فضل الرحمٰن کے مطابق جے یو آئی (ف) نے 27ویں آئینی ترمیم کو مکمل طور پر رد کر دیا ہے۔ ان کے بقول، پارلیمنٹ میں ہمارے ارکان نے اس کی مخالفت کی اور مرکزی شوریٰ نے بھی ارکان کے اس فیصلے کی توثیق کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اصل مسئلے کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ایک سال قبل 26ویں آئینی ترمیم پارلیمنٹ میں لائی گئی تھی اور تقریبا ایک ماہ اور ایک ہفتے تک حکومت نے جے یو آئی کے ساتھ مذاکرات کیے۔ ان کے مطابق، تحریک انصاف کو بھی مکمل طور پر اعتماد میں لیا گیا تھا اور ہر پیش رفت سے آگاہ رکھا گیا، یہاں تک کہ پی ٹی آئی کی تجاویز کو 26ویں ترمیم کا حصہ بنایا گیا اور اسے حکومت سے منوایا بھی گیا۔ مولانا فضل الرحمٰن کے مطابق 26ویں ترمیم مشاورت کے ساتھ آگے بڑھی اور اسے متفقہ کہا جا سکتا ہے۔
سربراہ جے یو آئی (ف) نے کہا کہ وہ مسلسل زور دیتے رہے کہ ایسی کوئی ترمیم منظور نہ کی جائے جس سے متفقہ نوعیت پر آنچ آئے، لیکن 27ویں آئینی ترمیم میں حکومت نے اپوزیشن کو اعتماد میں لینے کی اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی۔ ان کے مطابق، 26ویں ترمیم ان کے ساتھ ایک عہد و پیمان تھا لیکن 27ویں ترمیم میں انہیں مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا۔
مولانا فضل الرحمٰن نے الزام لگایا کہ اس ترمیم کے پیچھے مقصد پارٹی کو زبردستی توڑنا تھا اور اکثریت جبری اور جعلی تعداد پوری کرکے حاصل کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ یہ سب کچھ پارلیمنٹ اور جمہوری اقدار کے خلاف ہوا، اور اس عمل سے نہ حکومت کی عزت میں اضافہ ہوا اور نہ ہی ان قوتوں کی ساکھ بہتر ہوئی جو اس ترمیم کو لانے پر اصرار کر رہی تھیں