‘یہ لیگ کے عالمی تشخص کو نقصان پہنچائے گا’، دی ہنڈرڈ لیگ میں پاکستانی کھلاڑیوں کو نظر انداز کیے جانے کے خدشات پر مائیکل وان کا ردِ عمل

انگلینڈ کی کرکٹ لیگ میں پاکستانی کھلاڑیوں کو نظرانداز کیے جانے کے خدشات پر سابق کپتان مائیکل وان نے سخت ردِعمل دیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ اگر “دی ہنڈرڈ” لیگ کی نئی بھارتی ملکیت رکھنے والی ٹیموں نے پاکستانی کھلاڑیوں کو منتخب نہ کیا تو یہ انگلش کرکٹ کے لیے ایک خطرناک مثال ثابت ہو سکتا ہے۔

مائیکل وان نے کہا ہےکہ انگلینڈ اینڈ ویلز کرکرٹ بورڈ کو فوری طور پر اس معاملے کا سنجیدگی سے نوٹس لینا چاہیے، کیونکہ “دی ہنڈرڈ” لیگ کو ابتدا ہی سے ایک عالمی مقابلے کے طور پر پیش کیا گیا تھا جہاں دنیا بھر کے کھلاڑیوں کو مساوی مواقع ملنے تھے۔ ان کے مطابق، اگر کسی بھی ملک کے کھلاڑیوں کو سیاسی بنیادوں پر نظرانداز کیا گیا تو یہ لیگ کے بنیادی فلسفے کے منافی ہوگا۔

انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستانی کھلاڑی دہائیوں سے انگلینڈ کی کاؤنٹی اور کلب کرکٹ کا اہم حصہ رہے ہیں۔ خاص طورعمران خان، وسیم اکرم اور وقار یونس جیسے عظیم کرکٹرز نے نہ صرف انگلش کرکٹ میں نمایاں کردار ادا کیا بلکہ کھیل کو عالمی سطح پر مقبول بنانے میں بھی اہم حصہ ڈالا۔ وان کے مطابق، اگر آج پاکستانی کھلاڑیوں کو نظرانداز کیا گیا تو برطانیہ میں موجود بڑی پاکستانی کمیونٹی شدید مایوسی کا شکار ہو سکتی ہے، جو کرکٹ سے گہری وابستگی رکھتی ہے۔

رپورٹس کے مطابق، “دی ہنڈرڈ” کی چند نئی فرنچائزز، جن کی ملکیت بھارتی سرمایہ کاروں کے پاس ہے، پاکستانی کھلاڑیوں کو اسکواڈ میں شامل نہ کرنے پر غور کر رہی ہیں۔ وان کا کہنا ہے کہ اگر ایسا ہوا تو یہ لیگ کے عالمی تشخص کو نقصان پہنچائے گا۔ انہوں نے کرکٹ بورڈ کے حالیہ بیان کو ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اصل صورتحال 11 اور 12 مارچ کو ہونے والی نیلامی میں واضح ہو جائے گی، جب یہ معلوم ہوگا کہ آیا پاکستانی کھلاڑیوں کو معاہدے دیے جاتے ہیں یا نہیں۔

اطلاعات کے مطابق آئندہ نیلامی کے لیے تقریبا 62 پاکستانی کھلاڑیوں نے رجسٹریشن کروائی ہے۔ وان کے مطابق اگر صرف رسمی بولی لگائی گئی لیکن کسی کو باقاعدہ معاہدہ نہ دیا گیا تو یہ اس بات کا اشارہ ہوگا کہ معاملہ کھیل سے زیادہ سیاست کا ہے۔

سابق کپتان نے یہ اہم سوال بھی اٹھایا کہ اگر غیر رسمی پابندی جیسی صورتحال پیدا ہوئی تو کیا اس کا مطلب یہ ہوگا کہ لیگ پر اصل کنٹرول کرکٹ بورڈ کے بجائے فرنچائز مالکان کے پاس ہے؟ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ انڈین کرکٹ بورڈ اپنی لیگ آئی پی ایل پر مکمل کنٹرول رکھتا ہے، تو کیا انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ بھی اسی مضبوطی کا مظاہرہ کرے گا؟

وان نے خدشہ ظاہر کیا کہ مستقبل میں برطانوی نژاد پاکستانی کھلاڑی جیسے ریحان احمد، عادل راشد اور ثاقب محمود بھی اس فضا سے متاثر ہو سکتے ہیں، خاص طور پر جب انہیں بھارت میں کھیلنے کے لیے پہلے ہی ویزا مسائل کا سامنا رہتا ہے۔

تاہم انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ کچھ عملی وجوہات بھی ہو سکتی ہیں، جیسے “دی ہنڈرڈ” کے دوران پاکستان ٹیم کی ویسٹ انڈیز کے خلاف سیریز یا بعض اوقات پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے غیر ملکی لیگز میں شرکت کی اجازت نہ دینا۔ لیکن ان کے مطابق اگر فیصلہ سیاسی بنیادوں پر کیا گیا تو یہ ناقابل قبول ہوگا۔

مائیکل وان نے واضح مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ جب بھارت اور پاکستان عالمی کپ جیسے بڑے مقابلوں میں ایک دوسرے کے خلاف کھیل سکتے ہیں تو پھر کسی غیر ملکی لیگ میں بھارتی مالکان پاکستانی کھلاڑیوں کو منتخب کیوں نہیں کر سکتے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اس رجحان کو روکا نہ گیا تو اس سے نہ صرف پاکستانی کرکٹ بلکہ انگلش کرکٹ کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں