ایران کی وزارتِ انٹیلی جنس کے ایک باخبر عہدیدار نے کہا ہے کہ اسرائیل مقبوضہ القدس میں واقع مسجدِ اقصیٰ کو نشانہ بنانے کی ایک مبینہ سازش تیار کر رہا ہے جس کا مقصدایران اور مزاحمتی تنظیموں پر اس حملے کا الزام ڈالنا ہو سکتا ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق، عہدیدار نے کہا کہ اس منصوبے میں ڈرون یا میزائل کے ذریعے مسجدِ اقصیٰ کے احاطے پر حملہ کیا جا سکتا ہے اور اسے ایک جعلی کارروائی کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق، یہ حملہ یومِ القدس سے پہلے کیا جا سکتا ہے تاکہ عرب اور مسلم دنیا میں ایران اور مزاحمتی محور کے خلاف عوامی رائے کو بھڑکایا جا سکے۔
عہدیدار نے دعویٰ کیا کہ یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آ رہی ہے جب ایران اور امریکہ و اسرائیل کے درمیان کشیدگی جاری ہے اور اسرائیل و امریکا ایران میں رجیم چینج کی کوشش کر رہے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ اطلاعات کے مطابق، مسجدِ اقصیٰ کے اردگرد کے علاقوں سے آبادکاروں کا بتدریج انخلا شروع ہو گیا ہے جو مبینہ منصوبے کی تیاریوں کا حصہ ہو سکتا ہے۔
ایرانی عہدیدار نے مسلمانوں اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل اور اس کے مغربی اتحادیوں کو مسجدِ اقصیٰ کے خلاف کسی بھی ممکنہ کارروائی سے خبردار کریں۔ ان کے مطابق، مسجدِ اقصیٰ پر حملہ ایک سنگین جرم ہوگا جس کے انتہائی خطرناک نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔