اسرائیل کے وزیر دفاع کاٹز نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے سیکیورٹی چیف علی لاریجانی ہلاک ہو گئے ہیں۔ ایران کی جانب سے ابھی تک اس بارے میں کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔
وزیر دفاع کاٹز نے ایک ٹیلی ویژن پر بیان دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اسرائیل نے ایران کے سیکیورٹی چیف علی لاریجانی اور بسیج فورس کے کمانڈر سولیمانی کو ہلاک کیا ہے۔کاٹز نے کہا کہ ‘رجیم کے رہنما ہلاک کیے جا رہے ہیں اور ان کی صلاحیتیں ختم کی جا رہی ہیں۔ ہماری فوج پوری طاقت کے ساتھ کام کر رہی ہے تاکہ میزائل صلاحیتوں اور اسٹریٹجک انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا جا سکے اور ختم کیا جا سکے۔’
اسرائیلی وزیر دفاع کے دعوے کے بعد علی لاریجانی کے ایکس (سابقہ ٹویٹر) اکاؤنٹ پر ایک ہاتھ سے لکھا ہوا نوٹ شائع کیا گیا ہے، جسے ایرانی ریاستی میڈیا نے بھی شیئر کیا۔ یہ نوٹ حالیہ امریکی حملے میں ہلاک ہونے والے ایرانی بحری اہلکاروں کی یاد میں شائع کیا گیا، جن کی تدفین آج متوقع تھی۔
علی لاریجانی نے پیغام میں لکھا کہ ‘ایران کے بہادر بحری اہلکاروں کی تدفین کے موقع پر، ان کی یاد ہمیشہ ایرانی عوام کے دلوں میں رہے گی، اور یہ شہادتیں مسلح افواج کے ڈھانچے میں ایرانی فوج کی بنیاد کو سالوں تک مضبوط کریں گی۔ میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ یہ پیارے شہداء اعلیٰ درجات عطا فرمائے۔’
ایران کے سیکیورٹی چیف علی لاریجانی کو جمعہ کے روز مرکزی تہران میں سالانہ القدس ڈے ریلی میں دیگر سینئر ایرانی عہدیداروں کے ساتھ مارچ کرتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔ لاریجانی نے ریاستی میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ریلی کے دوران ہونے والا بم دھماکہ ایران کے دشمنوں کی ‘مایوسی’ کی علامت ہے۔
انہوں نے کہا کہ ‘یہ حملے خوف اور مایوسی کی بنیاد پر کیے گئے ہیں۔ جو شخص مضبوط ہو، وہ ریلیوں پر بم نہیں گرائے گا۔ یہ واضح ہے کہ یہ ناکام ہو چکے ہیں۔ لاریجانی نے مزید کہا کہ ٹرمپ ‘یہ نہیں سمجھتے کہ ایرانی عوام ایک بہادر، مضبوط اور پرعزم قوم ہے۔ جتنا وہ دباؤ ڈالیں گے، قوم کا عزم اتنا ہی مضبوط ہوگا۔’
علی لاریجانی کون ہیں؟
علی لاریجانی ایران کے سیاسی اور سیکیورٹی ڈھانچے میں ایک سنجیدہ اور عملی شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ وہ سالوں تک سیکریٹری آف دی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں اور امریکہ و اسرائیل کے ایران کے خلاف اقدامات کے دوران جنگی حکمت عملی میں اہم کردار ادا کیاہے۔
لاریجانی 1958 میں نجف، عراق میں پیدا ہوئے اور امول کے ایک متمول خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کے والد ایک معروف مذہبی عالم تھے، اور 20 سال کی عمر میں انہوں نے فریدہ مطہری سے شادی کی، جو ایران کے بانی روح اللہ خمینی کے قریبی ساتھی کی بیٹی ہیں۔
انہوں نے ریاضی اور کمپیوٹر سائنس میں ڈگری حاصل کی اور بعد میں مغربی فلسفہ پر ڈاکٹریٹ مکمل کی، جس کا محور ایمانوئل کانٹ تھا۔
1979 کے انقلاب کے بعد، وہ پاسداران انقلاب میں شامل ہوئے، بعد میں حکومت میں شامل ہو کر ثقافت کے وزیر اور ریاستی نشریاتی ادارےآئی آر آئی بی کے سربراہ بھی رہے۔
2005 میں وہ سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری اور ایران کے چیف نیوکلئر مذاکرات کار بنے، اور 2007 میں اس عہدے سے مستعفی ہوئے۔ 2008 میں پارلیمنٹ میں شامل ہو کر تین مسلسل مدتوں تک اسپیکر رہے اور 2015 کے نیوکلئر معاہدے کی منظوری میں اہم کردار ادا کیا۔
لاریجانی اگست 2025 میں دوبارہ سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری کے عہدے پر واپس آئے اور ایران کی قیادت میں ایک مرکزی شخصیت کے طور پر ابھرے۔