اسرائیل نے ایران کے ایک بڑے گیس فیلڈ پر حملہ کیا ہے، جس میں پاسدارانِ انقلاب کے دو اعلیٰ کمانڈرز جاں بحق ہو گئے ہیں۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ 45 روزہ جنگ بندی کی کوششیں جاری ہیں۔
اسرائیلی حکام کے مطابق حملہ جنوبی پارس گیس فیلڈ پر کیا گیا، جو ایران کی توانائی پیداوار کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ یہ گیس فیلڈ خلیج فارس میں واقع ہے اور قطر کے ساتھ مشترکہ ہے۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ حملے کا مقصد ایران کی آمدنی کے ایک بڑے ذریعے کو نشانہ بنانا تھا، جبکہ ایرانی سرکاری میڈیا نے اس حملے کا الزام امریکہ اور اسرائیل پر عائد کیا ہے۔
یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب مصر، پاکستان اور ترکی کی جانب سے ایران اور امریکہ کو 45 روزہ جنگ بندی کی تجویز دی گئی ہے، جس میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ بھی شامل ہے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ مذاکرات جاری ہیں، تاہم دھمکیوں اور حملوں کے ساتھ بات چیت ممکن نہیں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق حملوں میں پاسدارانِ انقلاب کے انٹیلیجنس سربراہ میجر جنرل مجید خادمی اور قدس فورس کے ایک یونٹ کے سربراہ اصغر باکری جاں بحق ہوئے ہیں۔
اسرائیلی وزیرِ دفاع نے کہا ہے کہ ایران کی اعلیٰ قیادت کو مسلسل نشانہ بنایا جائے گا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز کو نہ کھولا گیا تو توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔