ازبکستان کے دارالحکومت تاشقند میں ایک نیا ادارہ قائم کیا گیا ہے جو انسانی علم کی تاریخ میں وسطی ایشیا کے کردار کو اجاگر کرنے کے لیے ایک اہم اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔
اسلامی تہذیب مرکز (اسلامک سیوالائزیشن سینٹر)کے نام سے قائم یہ وسیع کمپلیکس تقریبا دس ہیکٹر رقبے پر پھیلا ہوا ہے اور اس کا مقصد خطے کی اسلامی ثقافت، فنِ تعمیر اور علمی روایت کو نمایاں کرنا ہے۔ تاریخی طور پر شاہراہِ ریشم کے ذریعے تجارت کے ساتھ ساتھ علم، فنون اور خیالات کا تبادلہ بھی ہوتا رہا، جس میں موجودہ ازبکستان کے شہروں کا اہم کردار تھا، اور یہی روایت اب اس مرکز کے ذریعے دوبارہ زندہ کی جا رہی ہے۔
اس مرکز کے مرکزی ہال میں اسلامی دنیا کے اہم ترین نوادرات میں شامل مصحفِ عثمانی کو رکھا گیا ہے، جو ساتویں صدی کا ایک نایاب نسخہ ہے اور یونیسکو کے عالمی یادداشت پروگرام میں شامل ہے۔ اس کے ساتھ خانہ کعبہ کے غلاف کا ایک حصہ بھی نمائش کے لیے رکھا گیا ہے، جو مسلمانوں کے لیے انتہائی مقدس حیثیت رکھتا ہے۔
یہ نوادرات دو ہزار سے زائد تاریخی اشیا اور مخطوطات کے ساتھ نمائش میں پیش کیے گئے ہیں، جنہیں ایک طویل عرصے پر محیط کوششوں کے ذریعے ازبکستان واپس لایا گیا۔ یہ اقدام ازبک صدر شوکت مرزائیوف کی قیادت میں مکمل ہوا، جس میں بین الاقوامی نیلام گھروں اور مختلف اداروں نے بھی تعاون کیا۔

میوزیم کی نمائش کو ‘تہذیبیں، شخصیات اور دریافتیں’ کے تصور کے تحت ترتیب دیا گیا ہے، جس میں قبل از اسلام دور سے لے کر وسطی ایشیا کی نشاۃ ثانیہ اور جدید ازبکستان تک کا سفر دکھایا گیا ہے۔ اس میں ایک خصوصی ہال میں عظیم مسلم سائنس دانوں اور مفکرین کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا ہے، جن میں الخوارزمی، ابن سینا اور مرزا الغ بیگ شامل ہیں۔
فنِ تعمیر کے لحاظ سے یہ مرکز تیموری طرزِ تعمیر کی عکاسی کرتا ہے، جیسا کہ سمرقند کے ریگستان کے مدارس میں دیکھا جا سکتا ہے۔ عمارت کے چار بڑے دروازے ازبکستان کے مختلف علاقوں کی نمائندگی کرتے ہیں جبکہ اندر جدید ٹیکنالوجی، تھری ڈی ماڈلز اور انٹرایکٹو نظام کے ذریعے تاریخی ادوار کو زندہ کیا گیا ہے۔

اس منصوبے پر دنیا کے چالیس ممالک کے پندرہ سو سے زائد ماہرین نے کام کیا ہے۔ اس میں تحقیق، بحالی، ڈیجیٹلائزیشن لیبارٹریز اور ایک بڑی لائبریری بھی شامل ہے، جس سے یہ مرکز ایک فعال تحقیقی ادارے کے طور پر بھی کام کرے گا۔
مرکز کے ڈائریکٹر فردوس عبدالخالقوف کے مطابق، اس منصوبے کا مقصد دنیا کو یہ یاد دلانا ہے کہ اس خطے نے عالمی تہذیب کی ترقی میں کس قدر اہم کردار ادا کیا ہے۔
مارچ 2026 میں کھلنے والا یہ مرکز نہ صرف ایک عجائب گھر ہے بلکہ ایک ایسا پلیٹ فارم بھی ہے جو دنیا بھر کے محققین، طلبہ اور ثقافتی ماہرین کو ایک جگہ جمع کر کے علمی و ثقافتی مکالمے کو فروغ دے گا۔
