چیف جسٹس آف پاکستان، جسٹس یحییٰ آفریدی نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ججز کے تبادلے کو ایک مثبت اور ضروری اقدام قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ، ججز کی تعیناتی اور تبادلہ دو الگ معاملات ہیں، اس لیے ان کو گڈمڈ نہ کیا جائے۔
سپریم کورٹ پریس ایسوسی ایشن کی تقریب حلف برداری سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ، دوسرے صوبوں کے ججز کو بھی فیئر چانس ملنا چاہیے، اسلام آباد ہائی کورٹ کسی ایک شخص یا مخصوص طبقے کی نہیں، بلکہ پورے پاکستان کی عدالت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ، جو ججز اسلام آباد ہائی کورٹ میں تبادلے کے بعد آئے ہیں، وہ پہلے سے ہی ہائی کورٹ کے جج ہیں، ان کا تقرر نہیں کیا گیا ،بلکہ تبادلہ کیا گیا ہے۔ اس اقدام کو سراہا جانا چاہیے، نہ کہ اس پر اعتراض کیا جائے۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ، بطور چیف جسٹس، میرا ویژن بڑا ہونا چاہیے، ہمیں عدالتی نظام کو مزید بہتر اور منصفانہ بنانا ہے، اس لیے مستقبل میں بھی اس عمل کو جاری رہنا چاہیے۔
چیف جسٹس نے عدلیہ میں موجودہ چیلنجز پر بات کرتے ہوئے کہا کہ، سپریم کورٹ میں زیر التوا مقدمات کا بیک لاگ ختم کرنا ان کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ، عدالت میں ججز کی تعداد کم ہے اور سارا بوجھ چند مخصوص ججز پر پڑ جاتا ہے، جسے متوازن بنانے کی ضرورت ہے۔
انہوں کا مزید کہنا تھا کہ، میں اپنے دائرہ اختیار میں بلا خوف و خطر فیصلے کروں گا، اور عدالتی نظام کو مزید فعال بنانے کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھایا جائے گا۔
تقریب حلف برداری میں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس جمال مندوخیل نے شرکت کی، جہاں جسٹس جمال مندوخیل نے نومنتخب عہدیداران سے حلف لیا۔
چیف جسٹس نے اس موقع پر اعلان کیا کہ، سپریم کورٹ رپورٹرز کو ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے گی، تاکہ عدالتی امور کی شفاف رپورٹنگ کو یقینی بنایا جا سکے۔
یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب اسلام آباد ہائی کورٹ میں ججز کے تبادلے پر وکلا برادری اور ہائی کورٹ کے سینئر ججز کی جانب سے شدید تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے، اور وکلا نے ہڑتال کا اعلان بھی کر رکھا ہے۔