‘بنگلہ دیش میں اسلام کا مستقبل روشن ہے’، جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے نائب امیر کی تاشقند اردو سے گفتگو

بنگلہ دیشن جماعت اسلامی کے نائب امیر مجیب الرحمان نے لاہور میں ایک بین الاقوامی کانفرنس کے موقع پر تاشقنداردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا بھر کے لوگ، پوری انسانیت، اس موجودہ نظام کو دیکھ چکی ہے۔ یہ عالمی نظام جسے انسانوں نے خود بنایا ہے، کبھی یہ مادّیت کی شکل میں، کبھی قوم پرستی ،کبھی سیکولرزم، کبھی کمیونزم کی صورت میں سامنے آیا۔ یہ سارے انسان ساختہ فلسفے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دنیا کے لوگ ان سب نظریات سے تنگ آ چکے ہیں۔ وہ ایک نئے نظام کے منتظر ہیں۔ ایک ایسا نظام جو حقیقی ہو، فطری ہو، اور وہ اسلام کا نظام ہے۔ ان شاء اللہ، لوگ بےچینی سے اس بات کے منتظر ہیں کہ اسلام آئے اور غالب ہو، تاکہ ہماری دکھ اور تکلیفیں ختم ہوں اور دنیا میں امن قائم ہو۔

بنگلہ دیش میں ہونے والی حالیہ تبدیلیوں پر انہوں نے کہا کہ آپ نے خود دیکھا کہ بنگلہ دیش جماعتِ اسلامی کے دو وزراء، جو بی این پی (نیشنلسٹ پارٹی) کی حکومت میں شامل تھے، انہوں نے تین اہم وزارتیں سنبھالیں۔سوشل ویلفیئر، صنعت، اور ایک اور حکومتی وزارت۔انہوں نے انتہائی شفاف طریقے سے کام کیا۔ ان کے مخالفین نے اُن پر کرپشن یا بدعنوانی ڈھونڈنے کی کوشش کی، لیکن ایک ٹکہ بھی غلط استعمال کا ثبوت نہ مل سکا۔

ان کے مطابق یہ بنگلہ دیش جماعتِ اسلامی کی مقبولیت اور اس کی قیادت کی ایمانت داری کا ثبوت ہے۔ ان وزراء نے اپنی وزارتوں میں امن، شفافیت اور بہترین ماحول قائم کیا۔

پاکستان سے متعلق سوال پر انہوں نے بتایا کہ میرا خیال ہے کہ بنگلہ دیش کے عوام کی پاکستان سے بہت سی امیدیں وابستہ ہیں۔ یہاں پاکستان میں بنگلہ دیش کے مقابلے میں زیادہ اسلامی ماحول ہے، اس لیے یہ توقع کی جاتی تھی کہ پاکستان بنگلہ دیش سے پہلے حقیقی اسلامی ریاست بنے گا۔ لوگوں کی یہی توقعات تھیں اور اب تک یہی سوچ رہی ہے۔لیکن موجودہ حالات میں، اگر اللہ نے چاہا اور مدد فرمائی، تو میرا خیال ہے کہ بنگلہ دیش پاکستان سے پہلے ایک مکمل اسلامی ملک بن کر اُبھرے گا۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں