اسلام آباد میں ازبک سفارتخانے کی جانب سے ازبکستان کی آزادی کی 34 ویں سالگرہ کی شاندار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں پاکستان کے وزرا، مختلف ممالک کے سفارت کاروں اور دیگر معزز مہمانوں نے شرکت کی۔پاکستان کے وزیر ریلوے حنیف عباسی تقریب میں بطور مہمان خصوصی شریک ہوئے۔
ازبکستان کے سفیر علی شیر تختیوف نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ دن ازبک عوام کے لیے صرف ایک چھٹی کا دن نہیں بلکہ ان کے خوابوں کی تکمیل کی علامت ہے۔یہ وہ دن ہے جب لاکھوں خاندانوں کا خواب پورا ہوا ۔

سفیر نے بتایا کہ صدر شوکت مرزائیوف کی قیادت میں ازبکستان ایک نئے دور میں داخل ہو چکا ہے، جسے “نیا ازبکستان” کہا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی معیشت ہر سال چھ فیصد سے زیادہ کی رفتار سے بڑھ رہی ہے۔ صرف گزشتہ آٹھ برسوں میں جی ڈی پی دگنی ہو کر 115 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے اور اس سال 130 ارب ڈالر سے تجاوز کرنے کی توقع ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ازبکستان نے اب تک تقریباً 130 ارب ڈالر کی غیر ملکی سرمایہ کاری حاصل کی ہے۔ صرف رواں سال 35 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری سے نو ہزار سے زائد نئے منصوبے اور ادارے قائم ہو رہے ہیں۔ یومِ آزادی کے موقع پر 79 بڑے منصوبے شروع کیے گئے جن کی مجموعی مالیت چار ارب ڈالر ہے۔

سفیر کے مطابق ازبکستان میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کی تعداد دگنی ہو چکی ہے، جو دس ملین سے زیادہ افراد کو روزگار فراہم کر رہے ہیں۔ رواں سال حکومت نے 5.5 ملین نئی ملازمتیں پیدا کرنے کا ہدف رکھا تھا، جن میں سے آٹھ ماہ میں پانچ ملین نوکریاں دی جا چکی ہیں۔

سفیر نے مزید کہا کہ سب سے خوش آئند بات یہ ہے کہ سات لاکھ ازبک شہری، جو پہلے بیرون ملک کام کر رہے تھے، واپس وطن لوٹ آئے ہیں۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ازبکستان اب صرف خام مال برآمد کرنے والا ملک نہیں رہا، بلکہ صنعتی پیداوار 2017 کے 29 ارب ڈالر سے بڑھ کر آج 70 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔ ملک کی تاریخ میں پہلی بار ازبکستان کی فٹبال ٹیم ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کر چکی ہے، جو عوام کے اتحاد اور عزم کی ایک مثال ہے۔

اردو میں خطاب کرتے ہوئے ازبک سفیر نے کہا کہ ازبکستان اور پاکستان صرف معاشی مفادات کے ذریعے نہیں بلکہ صدیوں پرانے تاریخی اور ثقافتی رشتوں کے ذریعے جڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف کے رواں سال کے دورہ ازبکستان کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس موقع پر دونوں ملکوں کے درمیان اسٹریٹجک پارٹنرشپ کونسل کے قیام پر اتفاق ہوا جو دوطرفہ تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جائے گی۔

تقریب کے مہمانِ خصوصی، پاکستان کے وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان اور ازبکستان کے تعلقات صرف سفارت کاری تک محدود نہیں بلکہ یہ صدیوں پرانی برادرانہ وابستگی اور اعتماد پر قائم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریلوے اور ٹرانسپورٹ کے شعبے دونوں ملکوں کو مزید قریب لا سکتے ہیں۔

حنیف عباسی نے تجارت، سرمایہ کاری، توانائی اور تعلیم کے شعبوں میں باہمی تعاون بڑھانے پر زور دیا اور کہا کہ دونوں ممالک کو چاہیے کہ اپنی تجارت کو مزید وسعت دیں تاکہ ایک دوسرے کی معیشت کو تقویت ملے۔

