ایران کی مزاحمت حیران کن ہے ۔ یہی عالم رہا تو اس جنگ کے نتائج اس سے زیادہ حیران کن ہو سکتے ہیں۔
آپ یقینا اسے ایک جذباتی موقف قرار دیں گے اور شاید طنز بھرا قہقہہ لگا کر کہیں کہ اندھے کو اندھیرے میں بہت دور کی سوجھی لیکن مجھے اپنی اس رائے پر اصرار ہے کہ اس جنگ نے نتائج حملہ آوروں کی توقع کے بالکل برعکس بھی ہو سکتے ہیں۔ عین ممکن ہے کہ اس جنگ کے اختتام پر دنیا ایک بالکل مخلتف ایران دیکھ رہی ہو اور خطے کا توازن وہ نہ ہو جو اس وقت ہے۔
آج تک امریکہ کو ہم نے جتنی بھی جنگیں بھی لڑتے دیکھا ہے وہ یک طرفہ تھیں ۔ کم از کم ہماری نسل پہلی بار دیکھ رہی ہے کہ امریکہ کسی پر حملہ آور ہوا اور اسے جواب میں جنگ کا حقیقی ذائقہ چکھنا پڑ رہا ہے ۔ پہلی بار ایسا ہوا کہ اس کے جنگی جہاز گر رہے ہیں ۔ پہلی بار ایسا ہوا کہ اس کے فوجی اڈوں پر میزائل برس رہے ہیں ۔ ایسا نہیں کہ ایک یا دو اڈوں پر کوئی بھولا بھٹکا میزائل جا گرا ہو ، ایران نے اس سارے خطے میں امریکہ کے کم و بیش تمام اڈوں کو ہٹ کیا ہے ۔ بتا کر کیا ہے اور اعلانیہ ہے اور ٹھونک بجا کر کیا ہے۔ یہ پون صدی کی تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے۔ پرل ہاربر کے بعد یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے۔ یہ معمولی بات نہیں ہے۔
امریکہ اور اسرائیل کا خیال تھا ایران کے سپریم لیڈر کو نشانہ بنا لیا تو ایران کی مزاحمت دم توڑ دے گی ۔ ایران کی مرکزی شخصیت نہیں رہے گی تو ایران کی قوت بکھر جائے گی ۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔ ایران نے جتنا بھی جواب دیا ہے ، سپریم لیڈر کی شہادت کے بعد دیا ہے ۔ یہ صلاحیت حیران کن ہے۔
آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے بعد ٹرمپ کے لہجے کا طنطنہ ہی کچھ اور تھا ۔ ان کا خیال تھا کہ ایران اب گرتی ہوئی دیوار ہے ۔ چنانچہ فاتحانہ تمکنت سے اعلان ہوا کہ انقلابی گارڈز ، فوج اور پولیس ہتھیار ڈال دیں اور سرنڈر کر دیں ورنہ سب قتل کر دیے جائیں گے ۔ دو چار ویڈیوز شیئر کر کے یہ تاثر دیا گیا کہ ایران میں لوگ سپریم لیڈر کے مارے جانے پر خوش ہیں اور عوامی بغاوت ہونے ہی والی ہے ۔ لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔ سامے کی حقیقت یہ ہے کہ سپریم لیڈر کی شہادت کے بعد ایرانی قوم میں یک جہتی بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔
اس کی وجہ قابل فہم ہے۔ یہ نفسیاتی اور فکری وجہ ہے۔ ایران کی تعبیر حیات سے کسی کو ایک سو اختلاف ہو سکتے ہیں ، لیکن س سے کسی کو اختلاف نہیں ہو سکتا کہ ایران کی فکر کا مرکز کربلا ہے۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ صدیوں کربلا کو محور بنانے والے اپنی کربلا میں کھڑے کیے جائیں تو سرنڈر کر دیں۔ یہ بھی کوئی جذباتی بات نہیں ، انسانی نفسیات کی حقیقتوں سے آگہی رکھنے والے جانتے ہیں کہ یہ فطرت کا تقاضا ہے ۔ جو چیز ان کی بنیادی طاقت ہے ، وہ ان کی کمزوری نہیں بن سکتی۔ مقتل ، لہو ، لاشے دیکھ کر یہ سرنڈر نہیں کریں گے۔ نظر آ رہا ہے کہ آخری دم تک مزاحمت ہو گی ۔ ایسا نہیں ہو گا کہ مرکزی قیادت ہٹ ہو گئی تو مزاحمت ختم ۔
نیشن سٹیٹس یعنی قومی ریاستوں کی جنگوں میں ایسا ہی ہوتا ہے کہ مرکزی قیادت ہٹ ہو جائے تو لڑنے کی سکت ختم ہو جاتی ہے۔ عراق میں بھی یہی ہوا۔ لیکن ایران کا معاملہ مختلف ہے ۔ یہ بے شک معروف معنوں میں ایک قومی ریاست ہے لیکن اس کی مزاحمت کا رنگ قومی ریاست سے تھوڑا ہٹ کر ہے۔ اس ڈھانچے کی طرف خود ایرانی صدر نے اشارہ کر دیا ہے۔ اسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔
ایرانی صدر سے جب خطے میں ٹارگٹس کے انتخاب کا سوال ہوا تو انہوں نے کہا کہ ہمارا اپنے دستوں سے اس طرح اب رابطہ نہیں رہا اس لیے اب وہ پہلے سے دی گئی ہدایات کے مطابق کارروائی کر رہے ہیں اور اپنے طور پر کر رہے ہیں۔
غور فرمائیےاس کا کیا مطلب ہے؟ اس کا مطلب ہے کہ نیشن سٹیٹ کا دفاعی ڈھانچہ تو موثر نہیں رہا ۔ یہاں تک کہ دستوں سے باقاعدہ رابطہ تک نہیں ۔ محض ایک قومی ریاست ہوتی تو یہیں بکھر جاتی ا ور سرنڈر ہوتا یا بغاوت ہو جاتی۔ لیکن یہاں اس سب کے باوجود مزاحمت ہو رہی ہے۔ اور نہ صرف مزاحمت ہو رہی ہے بلکہ ایسی مزاحمت ہو رہی ہے کہ امریکہ کے خلاف پون صدی میں ایسی مزاحمت کی کوئی مثال نہیں ملتی۔
مزید غور فرمائیے کہ اس کا کیا مطلب ہے؟ اس کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ ایران بطور قومی ریاست اپنی قوت سے محروم ہو گیا تو وہ نظریاتی نان سٹیٹ ایکٹرز کی طرح بھی لڑے گا۔ قومی ریاست کی قوت سے بے نیاز ہو کر بھی لڑے گا۔ اس کے دستے مرکزی نظام کے خاتمے کی شکل میں بھی لڑیں گے۔ جب تک یہ موجود رہیں گے مزاحمت ہو گی۔ تب تک سرنڈر کا کوئی امکان نہیں ہے۔ ان کا مکمل خاتمہ کرنے کے لیے زمینی دستے بھیجنا پڑیں گے۔ اور اگر زمینی دستے بھیجے گئے تو لازم نہیں کہ کامیاب ہوں ، تو اس کا انجام اس وقت کی جنگ سے زیادہ حیران کن بھی ہو سکتا ہے۔
جب جنگ چلتی رہے گی تو پھر وہ بھی ہو سکتا ہے جو ابھی تک نہیں ہوا۔ لوگ پوچھتے ہیں اور درست پوچھتے ہیں کہ چین کہاں ہے؟ امریکہ اگر ایک ایک کو مارتا رہے گا اور چین دیکھتا رہے گا تو کل چین کے ساتھ کون کھڑا ہو گا۔ ایران کا 90 فی صد آئل چین خریدتا ہے۔ چین ایران سے کیسے بے نیاز رہ سکتا ہے۔ تو جناب اگر ایران کچھ وقت ایسی ہی مزاحمت دکھانے میں کامیاب ہوا تو پھر وہ ماحول بن سکتا ہے جہاں اسے چین اور روس سے غیر اعلانیہ مدد ملنا شروع ہو جائے۔ پھر یہ امریکہ کی دلدل ہو گی اور چین روس اپنے حساب نبٹانے آ جائیں گے۔
ایران نے جنگ کی قیمت کو بہت بڑھ دیا ہے۔ اب ایسا نہیں کہ ایران تباہ ہوتا رہے اور خطے کے باقی ممالک دہی کے ساتھ قلچہ کھاتے رہیں ۔ پہلی بار یو اے ای کو بھی پتا چل رہا ہے کہ جنگ کیا ہوتی ہے۔ یو اے ای پر اب تک 165 بیلسٹک میزائل 541 ڈرون حملے ہو چکے ہیں ۔ اگر چہ ان میں سے 92 فی صد کویو اے ای کے دفاعی نظام نے روک لیا لیکن جو 8 فی صد پہنچ گئے وہ بھی کم نہیں ۔ اس کے نتائج ساری دنیا کے سامنے ہیں ۔
اس سے کیا ہو گا؟ اس سسے یہ ہو گا کہ جنگ کی قیمت بڑھ جائے گی۔ امریکہ پرا س کے حلیفوں کا دباؤ بڑھے گا۔ لوگ حساب سودوزیاں کریں گے کہ جنگ جاری رہنے میں فائدہ ہے یا کوئی راستہ نکالنے میں۔ امریکی تھنک ٹینک سٹمسن سنٹر کی سینیئر فیلو کیلی گریکو نے لکھا ہے کہ اگر چہ یو اے ای اور قطر نے ایرانی حملوں کو دفاعی نظام سے روک لیا لیکن اس کی قیمت کا کیا ہو گا۔ کب تک وہ اس قیمت کو برداشت کریں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ حملے میں اگر ایران کا ایک ڈالر خرچ ہوتا ہے تو دفاع میں یو اے ای کا 28 ڈالر تک خرچ ہو رہا ہے۔ ایرانی ڈرون سستے ہیں، جب کہ انہیں روکنے والا دفاعی نظام مہنگا ہے۔
مڈل ایسٹ آئی میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ بتاتی ہے کہ خود اسرائیل کا دفاعی نظام دباؤ میں ہے چنانچہ اب وہ ایران سے آنے والے ہر میزائل اور ڈرون کو نہیں روک رہا بلکہ جن کے بارے میں اسے لگتا ہے کہ وہ کھلی جگہ پر گریں گےانہیں وہ روکتا ہی نہیں تا کہ دفاعی نظام کی قوت کو بچایا جائے۔
یعنی یہ 30 گنا مہنگا کام ہے ۔ معیشت ٹھپ ہو رہی ہے۔ ایر پورٹ ویران پڑا ہے۔ معاشی سرگرمیں محدود ہو رہی ہیں ، آبنائے ہرمز بند ہے۔ دفاعی نظام کب تک چلے گا اور اس کے لیے درکار میزائل جب تک چلیں گے؟ پہلے تو ادھر ادھر امن خراب ہوتا تھا تو کرکٹ میچ ان کے ہاں منتقل ہو جاتے تھے ، پہلی بار گرم ہوائیں ان تک پہنچی ہیں ، دیکھنا ہے قوت برداشت کیا ہوتی ہے؟
میزائلوں کا سوال یقینا ایران سے بھی جڑا ہے کہ وہ کب تک حملے جاری رکھ پاتا ہے۔ اور اس کے پاس کتنا ذخیرہ ہے۔ یہ فیصلہ کن چیز ہو گی ۔ لیکن پھر وہی بات ذہن میں رہے کہ جنگ طوالت اختیار کرتی ہے تو اسلحہ کی سپہلائی چین قائم ہو ہی جاتی ہے۔ روس بھی ہےا ور چین بھی ہے۔ کھلی جنگ میں بھلے وہ نہ اتریں لیکن اس امکان کو آپ کیسے نظر اندازکر سکتے ہیں کہ تنور گرم دیکھ کر وہ بھی چپاتیاں لگانے آ جائیں ۔
ایک اور دلچسپ چیز بھی ہے۔ وہ یہ کہ ایران خود بھی اتنا گیا گزرا شاید نہیں ہے جتنا عام تاثر تھا۔ روس جیسی طاقت نے یوکرین کے خلاف جو ڈرون استعمال کیے تھے وہ ایران سے لے کر کئے تھے۔ اس سے کیا ثابت ہوا؟ جمع تقسیم کر لیجیے اور تھوڑی دیر اس پہلو پر غور کر لیجیے۔
اگر معااملات طول پکڑتے ہیں تو امریکہ کے پریشان ہونے کا وقت آ گیا ہے۔ ٹرمپ نے شاید مس کیلکولیشن کی ہے اور اب نتائج سامنے ہیں ۔ تضادات دیکھیے ، کانگریس کہہ رہی حملہ اس لیے ہوا کہ ایران ایٹمی ہتھیار نہ بنا لے ، سی آئی اے کہہ رہی ہے کہ فی الحال ایسا کوئی خطرہ نہیں تھا کہ ایران ایٹمی ہتھیار بنا لیتا ، ٹرمپ کہہ رہے ہیں کہ حملہ تو رجیم چینج کے لیے کیا تھا۔
ایران اگر اسی طرح طرح مزاحمت جاری رکھنے میں کچھ دن کامیاب ہو گیا تو ٹرمپ نے اسی روایتی پر سوز لہجے میں آدھی آنکھیں بند کر کے پوچھتا پھرنا ہے کہ مجھے دھکا کس نے دیا تھا۔