جسم میں آئرن کی کمی کی وجہ سے کیا بیماریاں لاحق ہو سکتی ہیں ؟

اگر جسم میں آئرن معمول سے زیادہ جمع ہونے لگے تو اسے طبی زبان میں "ہیماکرومیٹوسس” (Hemochromatosis) کہا جاتا ہے۔ یہ حالت بعض اوقات موروثی بیماری کے طور پر سامنے آتی ہے، جبکہ بعض صورتوں میں بار بار خون کی منتقلی یا آئرن سپلیمنٹس کے حد سے زیادہ استعمال سے بھی ہو سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق آئرن کی زیادتی سب سے پہلے جگر کو متاثر کرتی ہے۔ آئرن جگر میں جمع ہو کر فیٹی لیور، سوجن، یا جگر کے کینسر جیسی خطرناک بیماریوں کا سبب بن سکتا ہے۔ وقت کے ساتھ یہ حالت جگر کے سکڑنے یعنی سروسس میں بھی بدل سکتی ہے۔

دل بھی اس اضافی آئرن سے محفوظ نہیں رہتا۔ دل کے پٹھوں میں آئرن کی تہہ جمنے سے ہارٹ فیل، دھڑکن کی بے ترتیبی اور کارڈیومایوپیتھی جیسی بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

آئرن جب لبلبے میں جمع ہوتا ہے تو انسولین بننے کا عمل متاثر ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں ٹائپ 2 ذیابیطس ہو سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آئرن اوورلوڈ کو ذیابیطس کے ایک ممکنہ سبب کے طور پر بھی دیکھا جاتا ہے۔

زیادہ آئرن پٹیوٹری گلینڈ پر اثر انداز ہو کر ہارمونی نظام کو متاثر کرتا ہے، جس سے مرد و خواتین دونوں میں بانجھ پن یا دیگر ہارمون سے جُڑی بیماریاں پیدا ہو سکتی ہیں۔

جوڑوں میں درد یا آرتھرائٹس بھی آئرن کی زیادتی کا ایک اثر ہے۔ اس کے علاوہ جلد کی رنگت بھی متاثر ہو سکتی ہے، جو کہ کانسی یا سیاہی مائل دکھائی دینے لگتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آپ آئرن سپلیمنٹس لے رہے ہیں تو انہیں صرف ڈاکٹر کے مشورے سے لیں، اور اپنے خون میں آئرن کی مقدار کا باقاعدگی سے معائنہ کرواتے رہیں

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں