ایران پر مشترکہ امریکی و اسرائیلی کارروائیوں کے نتیجے میں جہاں مشرقِ وسطیٰ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو گئی ہے، وہیں پاکستان کے ماہرین یہ خدشہ بھی ظاہر کر رہے ہیں کہ ایران کے اندر کسی بھی طرح کی ممکنہ تبدیلی سے پاکستان کے لیے ماضی کی طرح افغان طرز پر ایک اور ’محاذ‘ کھل سکتا ہے۔
گزشتہ سال جون کے مہینے میں بھی ایران اسرائیل کشیدگی کے دوران اس بات کی طرف متعدد خبر رساں اداروں نے اپنی رپورٹس میں اشارہ کیا تھا۔ ان دنوں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کے درمیان ہونے والی ملاقات میں مبینہ طور پر یہ پہلو بھی زیرِ بحث آیا تھا۔
رائٹرز نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ پاکستانی آرمی چیف نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ تہران میں غیر یقینی صورتِ حال اور اس پر امریکی حملوں کی صورت میں ان علاقوں میں موجود کئی دہشت گرد تنظیمیں اس سے فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔
اس خدشے کے پیچھے ایک وجہ کالعدم ’جیش العدل‘ نامی دہشت گرد تنظیم کی جانب سے جاری اعلامیے میں اسرائیلی حملوں کا خیرمقدم بھی تھا۔ یہ تنظیم گزشتہ ایک دہائی سے ایران کے خلاف دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث ہے اور پاک ایران تعلقات میں اتار چڑھاؤ کا باعث بھی رہی ہے۔
جیش العدل پہلی بار 2012 میں منظرِ عام پر آئی تھی۔ اس تنظیم کے زیادہ تر ارکان نسلی بلوچ برادری سے تعلق رکھتے ہیں، جو سنی دہشت گرد تنظیم ’جنداللہ‘ کے بکھرنے کے بعد یہاں جمع ہوئے۔ یہ تنظیم ایران کے صوبہ سیستان بلوچستان کے بلوچ النسل شہریوں کے حقوق کی آزادی کی جنگ لڑنے کا دعویٰ کرتی ہے۔
تاہم 2014 سے ’جیش العدل‘ ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر دہشت گرد حملوں میں ملوث ہے۔ ان میں پاسدارانِ انقلاب کے القدس فورس کے سابق کمانڈر قاسم سلیمانی کی برسی کے موقع پر تین جنوری 2024 کو ہونے والے دھماکے بھی شامل ہیں، جن میں تقریباً 95 افراد جان سے گئے تھے۔
جنرل قاسم سلیمانی جنوری 2020 میں عراق میں بغداد کے ہوائی اڈے کے قریب نو دیگر افراد کے ساتھ امریکی ڈرون حملے میں مارے گئے تھے۔
جنوری 2024 میں ایران نے پاکستان کے سرحدی صوبے بلوچستان میں میزائل حملے کرتے ہوئے ’جیش العدل‘ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ بھی کیا تھا۔ اس پر جوابی کارروائی میں پاکستان نے بھی ایران کے جنوب مشرقی صوبے سیستان بلوچستان میں ’دہشت گردوں کی پناہ گاہوں‘ پر میزائل حملے کیے تھے۔
نو سو کلومیٹر طویل مشترکہ سرحد رکھنے والی دونوں ریاستیں ایک دوسرے پر سرحد پار مداخلت کا الزام لگاتی رہی ہیں۔ ایرانی حکام کا خیال ہے کہ پاکستان میں کالعدم ’جیش العدل‘ کی محفوظ پناہ گاہیں قائم ہیں۔ دوسری طرف پاکستان کا موقف ہے کہ ایران میں دو بڑی کالعدم بلوچ علیحدگی پسند تنظیموں، بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور بلوچ لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف)، کے ٹھکانے موجود ہیں۔
14 جون 2025 کو جیش العدل نے ایران پر اسرائیلی حملوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے ایرانی عوام کو صورتِ حال سے فائدہ اٹھانے اور حکومت کے خلاف جدوجہد میں ان کا ساتھ دینے کی دعوت دی تھی۔ گروپ نے دعویٰ کیا تھا کہ اسرائیلی حملہ ایرانی عوام کے خلاف نہیں بلکہ موجودہ رجیم کا تختہ الٹنے کے لیے شروع ہوا ہے، جسے وہ اپنا مخالف سمجھتے ہیں۔
ایک ایسے وقت میں جب بلوچستان کی علیحدگی پسند تحریکوں نے حالیہ بڑے حملوں میں ملوث ہونے کی ذمہ داری قبول کی ہے، پاک ایران سرحد سے ملحقہ علاقوں میں دونوں حکومتوں کے خلاف برسرِ پیکار یہ مسلح گروہ ایران کے ساتھ ساتھ پاکستان پر بھی اثرانداز ہو سکتے ہیں۔
اسی وجہ سے پاکستان مشرقِ وسطیٰ میں جاری اس تنازعے کو سنجیدگی سے دیکھ رہا ہے۔ وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے منگل کے روز پاکستان کی پارلیمان سے خطاب کرتے ہوئے اپنی کوششوں کی تفصیل بھی پیش کی۔ ان کے مطابق پاکستان کی اپیل پر ایران نے سعودی عرب پر مزید حملے نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔
سکیورٹی امور کے ماہر صحافی فیض اللہ خان نے تاشقند اردو کو بتایا کہ ’ایران میں کسی بھی سطح پر حکومت کی تبدیلی پاکستان کے مفاد میں نہیں ہے۔ ایران کے ساتھ پاکستان کے کئی مسائل ہیں جو وقتاً فوقتاً سر اٹھاتے رہتے ہیں، لیکن اس کے باوجود وہاں رجیم چینج کے نتیجے میں براہِ راست امریکا اور اسرائیل کے زیرِ اثر حکومت قائم ہو سکتی ہے۔ ایسے میں ایران کے ساتھ پاکستان کی سرحد غیر محفوظ ہو جائے گی۔ ‘
پاکستان میں سپاہِ محمد اور زینبیون جیسی تنظیمیں موجود ہیں، جو دہشت گردانہ کارروائیاں کر کے ایران میں پناہ لیتی رہی ہیں۔ ایران میں حکومت کی کسی تبدیلی کے نتیجے میں یہ تنظیمیں پاکستان کے خلاف فعال ہو سکتی ہیں۔
ہفتے کے روز ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے مارے جانے کی خبر سن کر مشتعل ہجوم نے پاکستان کے مختلف شہروں میں پرتشدد مظاہرے کیے۔ کراچی سمیت امریکی اثاثوں کے خلاف ان مظاہروں میں 26 شہری جاں بحق ہوئے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ ’امریکا کا ساتھ دینے پر پاکستان میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور القاعدہ سرگرم ہو گئے تھے۔ موجودہ صورت میں کسی تبدیلی کے نتیجے میں اہلِ تشیع تنظیمیں پاکستان میں امریکی مفادات کو نقصان پہنچا سکتی ہیں اور امریکا کے ساتھ پاکستان کے بڑھتے ہوئے تعلقات کو بنیاد بنا کر حملے کر سکتی ہیں۔‘
سکیورٹی امور کے ایک اور ماہر صحافی افتخار فردوس بھی ایران پر امریکی حملے کی صورت میں ’افغان طرز‘ پر ایک اور فرنٹ کھلنے کا خطرہ محسوس کرتے ہیں۔ تاشقند اردو سے گفتگو میں انہوں نے بتایا کہ ’ایران حزب اللہ لبنان، الحوثی یمن، الحشد الشعبی عراق، فاطمیون اور زینبیون (افغان و پاکستانی شیعہ ملیشیا) جیسے گروہوں کو کنٹرول یا سپورٹ کرتا ہے۔ ایرانی حکومت کے خاتمے کے بعد یہ گروہ امریکا اور اس کے اتحادیوں کے خلاف مختلف محاذوں پر سرگرم ہو سکتے ہیں۔‘
تاہم ان کا یہ بھی خیال ہے کہ ایران میں افغان طرز کی کمزور حکومت نہیں ہے۔ وہاں عوامی سطح پر شدید قوم پرستی پائی جاتی ہے۔ یہ حملہ بیرونی جارحیت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے اور اس سے ایرانی عوام متحد ہو رہے ہیں۔
ان کے مطابق اس کے علاوہ پاکستان میں موجود شیعہ اور سنی مکاتبِ فکر کے درمیان فرقہ وارانہ تناؤ بڑھنے کا خطرہ بھی موجود ہے، جسے پاکستان کی داخلی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھا جاتا ہے۔ اگر ایران میں عدم استحکام پیدا ہوتا ہے تو سرحدی علاقوں (خصوصاً بلوچستان) میں عسکری گروہ متحرک ہو سکتے ہیں، جس سے پاکستان میں دہشت گردی یا اسمگلنگ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
لیکن یہ تب ممکن ہوگا جب ایرانی حکومت کے خاتمے کے بعد امریکی افواج زمینی مداخلت کا راستہ اپنائیں گی۔