ایران کے اعلیٰ پراسیکیوٹر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کو سختی سے مسترد کر دیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ان کی کوششوں سے ایران میں زیر حراست 800 مظاہرین کو پھانسی دیے جانے کا عمل روکا گیا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا یہ بیان ‘مکمل طور پر جھوٹ’ ہے اور اس کی کوئی حقیقت نہیں۔
دوسری جانب انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق، ایران میں جاری کریک ڈاؤن کے دوران اب تک کم از کم 5 ہزار 2 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ایران میں گزشتہ دو ہفتوں سے انٹرنیٹ بند ہے جس کے باعث زمینی حقائق اور ہلاکتوں کے اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق مشکل ہو گئی ہے۔
ادھر امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی بدستور برقرار ہے۔ امریکی طیارہ بردار بحری جہازوں کا ایک گروپ مشرقِ وسطیٰ کے قریب پہنچ چکا ہے، جسے خطے میں بڑھتے ہوئے تناؤ کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت سے صدر ٹرمپ کے پاس ممکنہ فوجی کارروائی کا آپشن موجود ہے، تاہم اب تک انہوں نے تہران کو انتباہات کے باوجود کسی حملے سے گریز کیا ہے۔