ایران اسرائیل کشیدگی، ‘پاکستان کو افغان طرز پر ایک اور فرنٹ کھلنے کا خدشہ ہے’

ایران اسرائیل کشیدگی اور اس میں امریکی ممکنہ مداخلت پر پاکستان کی تشویش بظاہر یہ بھی معلوم ہوتی ہے کہ اس سے ماضی کی طرح افغان طرز پر ایک اور’ فرنٹ’ کھلنے کا خطرہ موجود ہے۔

اس بات کی طرف اشارہ متعدد بین الاقوامی خبررساں اداروں کی رپورٹس میں بھی سامنے آیا ہے۔ رپورٹس میں دعوی کیا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کے درمیان حالیہ دنوں ہونے والی ملاقات میں مبینہ طور پر یہ پہلو بھی زیر بحث آیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق پاکستانی آرمی چیف نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ تہران میں غیر یقینی صورتحال اور اس پر امریکی حملوں کی صورت میں ان علاقوں میں موجود کئی دہشت گرد تنظیمیں اس سے فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔

اس خدشے کے پیچھے ایک وجہ کالعدم ‘جیش العدل’ نامی دہشت گرد تنظیم کی جانب سے جاری اعلامیے میں اسرائیلی حملوں کا خیر مقدم بھی ہوسکتی ہے۔ یہ تنظیم گزشتہ ایک دہائی سے ایران کے خلاف دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث ہے اور پاک ایران تعلقات میں اتار چڑھاؤ کی باعث بھی ہے۔

جیش العدل پہلی بار 2012 میں منظر عام پر آئی تھی۔ اس تنظیم کے زیادہ تر ارکان نسلی بلوچ برادری سے تعلق رکھتے ہیں، جو سنی دہشت گرد تنظیم ‘جنداللہ’ کے بکھرنے کے بعد یہاں جمع ہوئے۔ یہ تنظیم ایران کے سیستان بلوچستان صوبے کے بلوچ النسل شہریوں کے حقوق کی آزادی کی جنگ لڑنے کا دعوی کرتی ہے۔

تاہم، سال 2014 سے ‘جیش العدل’ ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر دہشت گرد حملوں میں ملوث ہے۔ ان میں پاسداران انقلاب کے القدس فورس کے سابق کمانڈر قاسم سلیمانی کی برسی کے موقع پر تین جنوری 2024 کو ہونے والے دھماکے بھی شامل ہیں، جن میں تقریبا 95 افراد جان سے گئے تھے۔

جنرل قاسم سلیمانی جنوری 2020 میں عراق میں بغداد کے ہوائی اڈے کے قریب نو دیگر افراد کے ساتھ امریکی ڈرون حملے میں مارے گئے تھے۔

جنوری 2024 میں ایران نے پاکستان کے سرحدی صوبے بلوچستان میں میزائل حملے کرتے ہوئے “جیش العدل” کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا دعوی بھی کیا تھا۔ اس پر جوابی کارروائی میں پاکستان نے بھی ایران کے جنوب مشرقی صوبے سیستان بلوچستان میں “دہشت گردوں کی پناہ گاہوں” پر میزائل حملے کیے تھے۔

نو سو کلومیٹر طویل مشترکہ سرحد کی حامل دونوں ریاستیں ایک دوسرے پر سرحد پار مداخلت کا الزام لگاتی رہی ہیں۔ ایرانی حکام کا خیال ہے کہ پاکستان میں کالعدم “جیش العدل” کی محفوظ پناہ گاہیں قائم ہیں۔ دوسری طرف پاکستان کا موقف ہے کہ ایران میں دو بڑے کالعدم بلوچ علیحدگی پسند تنظیموں بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور بلوچ لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) کے ٹھکانے آباد ہیں۔

14 جون کو جیش العدل نے ایران پر اسرائیلی حملوں کا خیر مقدم کرتے ہوئے ایرانی عوام کو صورتحال سے فائدہ اٹھانے اور حکومت کے خلاف جدوجہد میں ان کا ساتھ دینے کی دعوت دی۔ گروپ نے دعوی کیا کہ اسرائیلی حملہ ایرانی عوام کے خلاف نہیں بلکہ موجودہ رجیم کا تختہ الٹنے کے لیے شروع ہوا ہے، جنہیں وہ اپنا مخالف سمجھتے ہیں۔

پاک ایران سرحد سے ملحقہ علاقوں میں دونوں حکومتوں کے خلاف برسرپیکار مسلح گروپس ایران کے ساتھ پاکستان پر بھی اثرانداز ہوسکتے ہیں۔ اس وجہ سے پاکستان مشرق وسطی میں جاری اس تنازعے کو سنجیدگی کے ساتھ دیکھتا ہے۔

سیکورٹی امور کے ماہر صحافی فیض اللہ خان نے تاشقند اردو کو بتایا کہ ‘ایران میں کسی بھی سطح پر حکومت کی تبدیلی پاکستان کے مفاد میں نہیں ہے۔ ایران کے ساتھ پاکستان کے کئی مسائل ہیں، جو وقتا فوقتا سر اٹھاتے رہتے ہیں، لیکن اس کے باوجود وہاں رجیم چینج کے نتیجے میں براہ راست امریکہ اور اسرائیل کے زیر اثر حکومت قائم ہوگی۔ ایسے میں ایران کے ساتھ پاکستان کی سرحد غیر محفوظ ہوجائے گی۔ بھارت کے ساتھ مشرقی سرحد پر پہلے سے ہی بڑی تعداد میں پاکستانی فوج تعینات ہیں، یعنی پاکستان کو بیک وقت دو بڑے دشمنوں سے واسطہ پڑے گا۔’

امریکی صدر اور پاکستانی آرمی چیف کے درمیان حالیہ ملاقات کے بعد یہ تاثر بھی سامنے آیا کہ امریکہ پاکستان سے مبینہ طور پر ایران کے خلاف کارروائی کے لیے اڈے مانگ رہا ہے۔ فیض اللہ خان کہتے ہیں کہ’میری رائے میں امریکہ کو ایران پر حملے کے لیے پاکستانی اڈوں کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔ امریکہ کے پاس عراق اور وہاں کے بحری راستوں پر پہلے سے اڈے اور بحری جہاز موجود ہیں۔ وہاں سے ان کے لیے حملہ کرنا کوئی مشکل کام نہیں۔’

ان کے مطابق واضح اور دو ٹوک موقف کی وجہ سے امریکہ کو اڈے فراہم کرنے کا امکان موجود نہیں ہے، تاہم ایسے کسی صورتحال میں جانے سے پاکستان کے خلاف ایران کی پراکسی تنظیمیں فعال ہوسکتی ہیں۔ پاکستان میں سپاہ محمد اور زینبیوں کی صورت ایسی تنظیمیں موجود ہیں، جو دہشت گردانہ کارروائیاں کر کے ایران میں پناہ لیتے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ‘امریکہ کا ساتھ دینے پر پاکستان میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور القاعدہ سرگرم ہوگئے تھے۔ پاکستان اب تک ان معاملات کی پیچیدگیوں میں پھنس کر حالات پر قابو نہیں پایا ہے۔ ایران کے خلاف امریکہ کا ساتھ دینے سے ممکنہ طور پر اس قدر تو نہیں، لیکن اس سے کم درجے پر کالعدم اہل تشیع تنظیمیں پاکستان میں امریکی مفادات کو نقصان پہنچاسکتی ہیں اور پاکستان کو امریکی سہولتکاری کا مجرم قرار دے کر حملے کرسکتی ہیں۔’

سیکورٹی امور کے ایک اور ماہر صحافی افتخار فردوس بھی ایران پر امریکی حملے کی صورت میں “افغان طرز” پر ایک اور فرنٹ کھلنے کا خطرہ محسوس کرتے ہیں۔ تاشقند اردو سے گفتگو میں انہوں نے بتایا کہ’ ایران حزب اللہ لبنان، الحوثی یمن، الحشد الشعبی عراق، فاطمیون اور زینبیون (افغان و پاکستانی شیعہ ملیشیا) جیسے گروہوں کو کنٹرول یا سپورٹ کرتا ہے۔ جنگ کی صورت میں یہ گروہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف مختلف محاذوں پر سرگرم ہو سکتے ہیں۔ ایران میں افغان طرز کی کمزور حکومت نہیں ہے۔ وہاں عوامی سطح پر شدید قوم پرستی ہے۔ یہ حملہ بیرونی جارحیت کے طور پر دیکھا جائے گا اور اس سے ایرانی عوام متحد ہو سکتے ہیں۔’

ان کے مطابق اس کے علاوہ پاکستان میں موجود شیعہ اور سنی مکاتب فکر کے درمیان فرقہ وارانہ تناؤ بڑھنے کا خطرہ موجود ہے، جسے پاکستان کی داخلی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھا جاتا ہے۔ اگر ایران میں عدم استحکام پیدا ہوتا ہے تو سرحدی علاقوں (خصوصاً بلوچستان) میں عسکری گروہ متحرک ہو سکتے ہیں، جس سے پاکستان میں دہشت گردی یا اسمگلنگ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔’

افتخار فردوس سمجھتے ہیں کہ ‘امریکہ عراق اور افغانستان میں طویل جنگوں سے پہلے ہی تھکا ہوا ہے۔ دونوں جگہ پر مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوئے۔ ایران میں لڑائی کہیں زیادہ پیچیدہ اور مہنگی ہو گی، اور امریکی عوام اور کانگریس شاید اس کی مکمل حمایت نہ کریں۔ تاہم، پہلی صورت میں طالبان کی طرح ایک مسلح عوامی مزاحمت پیدا ہو سکتی ہے جو برسوں تک امریکی افواج کو الجھائے رکھے گی۔’

Author

اپنا تبصرہ لکھیں