s
ایشیاء کے دیگر ممالک کی طرح بھارت بھی اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے خلیج فارس سے آنے والے تیل اور دیگر توانائی مصنوعات پر انحصار کرتا ہے، لیکن اس خطے سے اس کا تعلق صرف تیل تک محدود نہیں ہے ۔ خلیجی ممالک خصوصا عرب امارات بھارت کے لیے اس وجہ سے بھی انتہائی اہم ہیں کہ وہاں لاکھوں بھارتی شہری کئی دہائیوں سے روزگار اور کاروبار سے وابستہ ہیں اور وہیں سے اپنے وطن کو بھاری رقوم بھیجتے ہیں۔
ہفتے کے روز امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد شروع ہونے والی جوابی کارروائیوں نے پورے خطے کو کشیدگی کی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ میزائل اور ڈرون حملوں کے باعث نہ صرف ہمسایہ ممالک متاثر ہو رہے ہیں بلکہ آبنائے ہرمز سے بحری آمد و رفت بھی تقریبا معطل ہو چکی ہے۔ دبئی جیسے شہر، جو طویل عرصے سے کاروبار کے لیے محفوظ مقام سمجھے جاتے تھے، ہوائی اڈوں کی بندش اور اسٹاک مارکیٹوں کی معطلی کے باعث مفلوج ہو گئے ہیں۔
نیو یارک ٹائمز کے مطابق، انیس سو ستر کی دہائی میں تیل کی پیداوار میں اضافے کے بعد سے خلیجی خطہ بھارت اور جنوبی ایشیا کے لیے ایک معاشی توسیع کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ اس میں کسی بڑی رکاوٹ کا مطلب صرف تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ نہیں بلکہ لاکھوں بھارتی خاندانوں کے روزگار پر براہِ راست اثر بھی ہو سکتا ہے۔
بھارت کی آبادی ایک ارب چالیس کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے اور دنیا میں سب سے زیادہ تارکین وطن بھیجنے والا ملک ہے۔ سرکاری اندازوں کے مطابق، تقریبا ڈیڑھ کروڑ بھارتی بیرون ملک مقیم ہیں، جن میں سے 93 لاکھ صرف خلیجی ممالک میں رہتے ہیں، جبکہ امریکا میں ان کی تعداد تقریبا 20 لاکھ ہے۔ خلیج میں مقیم بھارتیوں کی تعداد آسٹریا جیسے ملک کی کل آبادی کے برابر ہے اور بعض خلیجی ریاستوں میں وہ اکثریتی آبادی کا حصہ بن چکے ہیں۔ مجموعی طور پر خلیج میں مقیم بھارتیوں کی تعداد کویت، قطر اور بحرین کے شہریوں کی مجموعی تعداد سے بھی زیادہ ہے۔
اگرچہ فوری طور پر ان لاکھوں افراد کی واپسی کا کوئی امکان ظاہر نہیں کیا جا رہا، تاہم ایرانی جوابی حملوں میں جنوبی ایشیائی مزدوروں کی ہلاکتوں کی اطلاعات نے تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خلیجی معیشت طویل عرصے تک سست روی کا شکار رہی یا غیر ملکی افرادی قوت کے ساتھ اس کا تعلق کمزور پڑ گیا تو پورا خطہ بدل سکتا ہے۔
بھارتی تارکین وطن نہ صرف تعمیرات، ٹرانسپورٹ اور گھریلو خدمات جیسے کم اجرت والے شعبوں میں کام کرتے ہیں بلکہ بڑے کاروباری اداروں اور مالیاتی کمپنیوں میں اعلیٰ عہدوں پر بھی فائز ہیں۔ خلیج میں سپر مارکیٹوں کے بڑے سلسلے قائم کرنے والی کمپنیوں سمیت کئی کامیاب کاروبار بھارتی نژاد افراد کی ملکیت ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ لاکھوں مزدور ایسے بھی ہیں جو ماہانہ 400 سے 500 ڈالر کے قریب تنخواہ پاتے ہیں اور اس کا 50 سے 70 فیصد حصہ بھارت بھیج دیتے ہیں۔ یہی رقوم بھارت میں گھروں کی تعمیر، بچوں کی تعلیم اور بہتر معیارِ زندگی کے خواب کو حقیقت بنانے میں مدد دیتی ہیں۔
بھارت ہر سال تقریبا 125 ارب ڈالر کی ترسیلات زر وصول کرتا ہے، جو دنیا میں سب سے زیادہ ہیں۔ یہ رقم بھارتی روپے کی قدر کو سہارا دینے میں اہم کردار ادا کرتی ہے اور ملکی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ بھارت اپنی توانائی کی ضروریات کا تقریبا 90 فیصد خام تیل درآمد کرتا ہے، اس لیے بیرون ملک کام کرنے والے شہریوں کی جانب سے بھیجی جانے والی غیر ملکی کرنسی اس کے لیے نہایت اہم ہے۔
گزشتہ سال امریکی محصولات کے دباؤ کے باعث بھارتی روپے کی قدر میں پانچ فیصد کمی ہوئی تھی۔ بعد ازاں محصولات میں نرمی اس شرط پر کی گئی کہ بھارت رعایتی روسی تیل کی خریداری کم کرے، جس کے نتیجے میں اسے دوبارہ زیادہ تر خلیجی تیل پر انحصار کرنا پڑا۔ اب جب کہ تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں، بھارت کو مزید ڈالر درکار ہوں گے، اور اس کے لیے خلیج میں مقیم اس کے شہری سب سے بڑا سہارا ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کسی وجہ سے خلیجی ممالک میں مقیم بھارتی افراد کو اپنی ملازمتوں یا قیام پر نظر ثانی کرنا پڑی تو اس کا نقصان دونوں جانب ہوگا۔ خلیجی معیشت افرادی قوت سے محروم ہو سکتی ہے اور بھارت اپنی معیشت کے ایک اہم مالی ذریعہ سے ہاتھ دھو بیٹھے گا۔