ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس، انسانی حقوق کے ہائی کمشنر وولکر ترک اور مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ کو خطوط ارسال کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ایران میں ہونے والی بیرونی مداخلت کی واضح طور پر مذمت کی جائے۔
عراقچی کا کہنا ہے کہ 28 دسمبر کو معاشی مسائل کے خلاف شروع ہونے والے پُرامن احتجاج کو بعد ازاں ‘دہشت گرد عناصر’ نے مداخلت کے ذریعے مسلح فسادات میں تبدیل کر دیا۔
ان کے مطابق مظاہرین نے سر قلم کرنے، افراد کو زندہ جلانے، قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں اور عام شہریوں پر حملے، فائرنگ، ایمبولینسز، فائر بریگیڈ کی گاڑیوں، طبی مراکز اور مذہبی مقامات کو نذرِ آتش کرنے جیسے اقدامات کیے۔ایران نے امریکہ اور اسرائیل پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ فسادی عناصر کی حمایت کر رہے ہیں۔
عباس عراقچی نے امریکی بیانات کو غیر ذمہ دارانہ اور اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہیں۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ سابق امریکی وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو نے خود اعتراف کیا تھا کہ مظاہرین میں اسرائیلی خفیہ ادارے موساد کے ایجنٹس شامل ہیں، جو اسرائیلی مداخلت کا ثبوت ہے۔
عراقچی کے مطابق، امریکہ انسانی حقوق کے نام پر اپنے سیاسی مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے، جبکہ ایران اپنے شہریوں کے تحفظ اور قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کر رہا ہے