ایران چین سے جدید اینٹی شپ کروز میزائل خریدنے کے ایک اہم معاہدے کے قریب پہنچ گیا ہے، جبکہ دوسری جانب امریکا ممکنہ حملوں کے خدشے کے پیش نظر ایرانی ساحل کے قریب اپنی بڑی بحری طاقت تعینات کر رہا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق، باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران کا چین کے تیار کردہ CM-302 سپرسانک میزائلوں کی خریداری کا معاہدہ تقریبا طے پا چکا ہے، تاہم ان کی ترسیل کی تاریخ ابھی حتمی نہیں ہوئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ میزائل تقریبا 290 کلومیٹر تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور سمندر کی سطح کے قریب تیز رفتاری سے پرواز کرتے ہوئے جہازوں کے دفاعی نظام کو دھوکا دینے کے لیے تیار کیے گئے ہیں۔ دفاعی ماہرین کے مطابق، اگر یہ میزائل ایران کو مل جاتے ہیں تو اس کی بحری حملہ آور صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوگا اور خطے میں موجود امریکی بحری جہازوں کے لیے خطرہ بڑھ جائے گا۔
ایک سابق اسرائیلی انٹیلی جنس افسر اور سکیورٹی تجزیہ کار ڈینی سیٹرینووچ نے روئٹرز کو بتایا کہ اگر ایران کے پاس سپرسانک میزائل صلاحیت آ گئی تو یہ ’’کھیل بدل دینے‘‘ کے مترادف ہوگا کیونکہ ایسے میزائلوں کو روکنا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔
اطلاعات کے مطابق، ان میزائل نظاموں کی خریداری کے لیے مذاکرات کم از کم دو سال قبل شروع ہوئے تھے، تاہم جون میں اسرائیل اور ایران کے درمیان ہونے والی 12 روزہ جنگ کے بعد ان میں تیزی آ گئی۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ گزشتہ موسمِ گرما میں جب بات چیت حتمی مراحل میں داخل ہوئی تو ایران کے اعلیٰ فوجی اور سرکاری حکام چین گئے، جن میں نائب وزیر دفاع مسعود اورائی بھی شامل تھے۔
تاحال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ممکنہ معاہدے میں کتنے میزائل شامل ہوں گے یا ایران ان کے بدلے کتنی رقم ادا کرے گا۔ ایران کی وزارت خارجہ کے ایک عہدیدار نے کہا کہ ایران کے اپنے اتحادیوں کے ساتھ فوجی اور سکیورٹی معاہدے موجود ہیں اور ’’اب ان معاہدوں سے فائدہ اٹھانے کا مناسب وقت ہے۔‘‘ تاہم چین کی وزارت خارجہ نے اس حوالے سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے، جبکہ چینی وزارت دفاع نے کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں ایران کو اس کے جوہری پروگرام پر معاہدہ کرنے کے لیے 10 دن کی مہلت دینے کا ذکر کیا اور خبردار کیا کہ بصورت دیگر سخت کارروائی کی جا سکتی ہے۔ امریکی بحری بیڑا اس وقت ایران کے قریب تعینات کیا جا رہا ہے، جس میں طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکولن اور یو ایس گیرلڈ آر فورڈ شامل ہیں۔ دونوں بحری گروپس مجموعی طور پر پانچ ہزار سے زائد اہلکاروں اور ڈیڑھ سو سے زیادہ طیاروں کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
یہ ممکنہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چین، ایران اور روس مشترکہ بحری مشقیں کرتے رہے ہیں اور امریکا پہلے ہی بعض چینی اداروں پر ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام میں معاونت کے الزامات کے تحت پابندیاں عائد کر چکا ہے۔ چین ان الزامات کی تردید کرتا رہا ہے اور کہتا ہے کہ وہ برآمدات پر سخت کنٹرول رکھتا ہے۔
اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے محقق پیٹر ویزمین کے مطابق، گزشتہ سال کی جنگ کے بعد ایران کا اسلحہ ذخیرہ متاثر ہوا ہے، لہٰذا CM-302 میزائلوں کی خریداری اس کے لیے ایک اہم اضافہ ثابت ہو سکتی ہے۔ چین کی سرکاری کمپنی کیسِک اس میزائل کو دنیا کا بہترین اینٹی شپ میزائل قرار دیتی ہے اور دعویٰ کرتی ہے کہ یہ طیارہ بردار جہاز یا تباہ کن جنگی جہاز کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے۔ یہ نظام جہازوں، طیاروں یا زمینی موبائل گاڑیوں پر نصب کیا جا سکتا ہے اور زمینی اہداف کو بھی نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ذرائع کے مطابق، ایران چین سے زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل، اینٹی بیلسٹک نظام اور اینٹی سیٹلائٹ ہتھیار حاصل کرنے پر بھی بات چیت کر رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ دفاعی تعاون آگے بڑھتا ہے تو اس سے نہ صرف خطے میں طاقت کا توازن متاثر ہوگا بلکہ امریکا اور اس کے اتحادیوں کی ایران کو محدود کرنے کی کوششیں بھی مزید پیچیدہ ہو جائیں گی۔