ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد دبئی میں مقیم چند بھارتی کاروباری افراد نے اپنے بینک اکاؤنٹس سے تقریبا ایک لاکھ ڈالر سے زائد رقوم سنگاپور منتقل کرنے کی کوشش کی تاکہ ممکنہ خطرات سے محفوظ رہ سکیں۔ عالمی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق، حملوں کے فوری بعد تکنیکی مسائل کی وجہ سے یہ منتقلی ممکن نہ ہو سکی جس کی ان کاروباری افراد نے بھی تصدیق کی۔
بعد ازاں، ان میں سے ایک شخص نے متحدہ عرب امارات کے دوسرے بینک کے ذریعے اپنی رقم سنگاپور منتقل کرنے میں کامیابی حاصل کر لی۔ رپورٹ کے مطابق، صنعت کے مشیران اور وکلاء کا کہنا ہے کہ دیگر کئی ایشیائی سرمایہ کار بھی اپنے دبئی میں رکھے اثاثے سنگاپور اور ہانگ کانگ جیسے مالی مراکز منتقل کرنے کے بارے میں معلومات حاصل کر رہے ہیں یا عملی اقدامات کر رہے ہیں۔ یہ اقدامات اس وقت سامنے آئے جب ایران کے جوابی حملوں نے خلیج میں محفوظ سرمایہ کاری کی ساکھ کو متاثر کیا۔
دبئی گزشتہ برسوں میں ایشیا کے کاروباری افراد اور امیر خاندانوں کے لیے سرمایہ کاری کے مراکز میں اہم مقام بن گیا ہے، خاص طور پر چین سے تعلق رکھنے والے سرمایہ کار اس کے مراعاتی قوانین سے فائدہ اٹھانے کے لیے دبئی آتے ہیں۔ اس کے علاوہ، خلیج میں جائیداد اور انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کا رجحان بھی بڑھا ہے۔ متحدہ عرب امارات کے مرکزی بینک کے مطابق، ملک کے بینکنگ اور مالی شعبے کے کل اثاثے 5.42 ٹریلین درہم (تقریبا 1.48 ٹریلین ڈالر) سے زائد ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، متعلقہ وکلاء نے بتایا کہ ان کے چند کلائنٹس، جن کے دبئی میں اوسطا پچاس ملین ڈالر کے اثاثے ہیں، نے اس ہفتے انہیں رابطہ کیا اور تین افراد نے فوری طور پر اپنی رقم منتقل کرنے کا ارادہ ظاہر کیا۔ ایک وکیل نے بتایا کہ دس سے بیس خاندانوں نے اس ہفتے اپنے اثاثے خلیج سے واپس سنگاپور منتقل کرنے کے بارے میں معلومات حاصل کی ہیں کیونکہ وہ تنازع کے طویل ہونے کے بارے مین فکر مند ہیں۔
سنگاپور میں ایک اور ویلتھ مینجمنٹ مشیر نے بتایا کہ انہوں نے اب تک تیرہ یو اے ای کے کلائنٹس سے بات کی ہے اور نصف سے زیادہ افراد واقعی اپنی رقم منتقل کرنے کے سنجیدہ ارادے رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق، فضائی آمدورفت مستقبل میں بھی ایک چیلنج ہوگی، چاہے تنازع فورا ہی ختم کیوں نہ ہو جائے۔
تاہم کچھ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس وقت سنجیدہ سرمایہ کاروں کی ہجرت کے امکانات نظرنہیں آ رہے کیونکہ سرمایہ کار یو اے ای کی طویل المدتی مضبوطی پر اعتماد رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بینکنگ اور مالی شعبہ مضبوط اور مستحکم ہے اور علاقائی حالات کو سنبھالنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔